وائرس کو ناکارہ بنانے والا ماسک

امریکہ میں تیار، کیمیائی ادویات کا استعمال

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
واشنگٹن/ / امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو ناکارہ بنانے کیلئے ایک نیا ماسک تیار کیا ہے۔ ماسک میں وائرس مخالف مواد کی ایک سطح پر ایسے کیمیائی ادویات کا استعمال کیا گیا ہے جو وائرس کو ناکارہ بناتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ماسک تیار کرنے میں وائرس مخالف کیمیات کا استعمال کیا گیا ہے جس سے باہر جانے والی سانس اورسانس لینے سے پیدا ہونے والے پانی کے قطرے صاف ہونگے۔  لیبارٹری میں سانس لینے، سانس چھوڑنے، کھانسی اور چھینک پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بغیر مواد تیار سے کئے گئے زیادہ تر ماسک نے تحقیق کو صحیح ثابت کیا ہے۔ جمعرات کو ایک جریدے میں مشتہر ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 19فیصد، مواد سے بنائے گئے ماسک میں سانس چھوڑنے سے نکلنے والے پانی کے قطروں کو 82فیصد تک صاف کرتا ہے۔ ماسک بنانے کیلئے ایسا مواد استعمال کرنے سے سانس لینے میں تکلیف نہیں ہوتی جبکہ سانس اندر لینے سے بھی ماسک میں موجود کیمیائی ادویات غائب نہیں ہوتے۔ ناتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ جیزنگ ہانگ نے بتایا ’’عالمی وباء سے نپٹنے کیلئے اسپتال میں ہونے والے پی پی ای کٹوں کااہم حصہ ماسک ہوتے ہیں‘‘۔ہانگ نے کہا ’’ہمیں اس بات کا جلدی اندازہ ہوا ہے کہ ماسک نہ صرف پہننے والے کو بچاتے ہیں بلکہ دیگر لوگوں کو بھی ہوا میں موجود جراثیم اور وائرس سے بچاتا ہے۔ بیشک سانس لینے سے پیدا ہونے والے پانی کے قطرے ماسک پہننے سے رک جاتے ہیںلیکن کئی قطرے باہر آجاتے ہیں جن میں وائرس موجود ہوتا ہے‘‘۔تحقیق کرنے والوںکا کہنا تھا کہ سائنسدانوں نے دو وائرس کش ادویات کا انتخاب کیا ہے جن میںphosphoric acidاورcopper sal شامل ہے۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ باب میں تبدیل نہ ہونے والے کیمیات کا استعمال کام کرریا ہے کیونکہ یہ باب میں تبدیل نہیں ہوتے بلکہ منہ کے اندر چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے وائرس مخالف ماحول پیدا ہوتا ہے۔ ہانگ نے کہا ’’ وائرس کی بناٹ کافی نازک اور کمزور ہوتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگر وائرس کا کوئی حصہ ناکارہ ہوتا ہے وہ لوگوں کو متاثر ہونے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ 
 
 

تازہ ترین