تازہ ترین

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دنیا پر اثرات

ولادت باسعادت

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


شفیق احمد آئمی
 جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مٹ جانے والی دنیا میں تشریف لائے تو پوری دنیاپر اس کے اثرات پڑے۔ واقعات تو بہت ہیں ہم صرف چند واقعات مختصراً پیش کرتے ہیں ۔ سب سے پہلا اثر سلطنت فارس ( حالیہ ایران و اعراق اور آس پاس کا علاقہ ) کے حکمراں کسریٰ ( یاد رہے سلطنت فارس کے حکمرانوں کا لقب کسریٰ ہوتا تھا۔) کے محل کے چودہ کنگورے گر گئے اور سلطنت فارس کا سب سے بڑا آتش کدہ ( سلطنت فارس کے لوگ آگ کی پوجا کرتے تھے۔ اور اسے مسلسل جلائے رکھتے تھے۔ جو ہزار سال سے روشن تھا۔ وہ بجھ گیا۔ اور دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ سیرت میں اور بھی بہت سے واقعات مذکور ہیں۔
 حضرت عبد المطلب نے محمد نام رکھا 
 حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں تشریف فر ما تھے۔ کہ سیدہ آمنہ نے انھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا میں شتریف لانے کی خبر بھیجی۔ اور وہ خوشی خوشی گھر آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتاتے ہیں کہ حضرت عبدالمطلب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ اور کپڑا ہٹا کر دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختون ( ختنہ کئے ہوئے) اور ناف بریدہ تھے۔ یہ دیکھ کر آپ نے حیرانی سے دایہ کو دیکھا۔ تو اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل پاک صاف اور مختون پیدا ہوئے۔حضرت عبد المطلب نے کہا ۔ میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہوگی۔ (طبقات ابن سعد جلد 1)حضرت عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیقہ کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا۔ قریش نے کہا اے ابو الحارث،(یہ حضرت عبد المطلب کی کنّیت ہے)آپ نے ایسا نام رکھاہے۔ جو آپ کے آباء و اجداد اور آپ کی قوم میں سے ا ب تک کسی نے نہیں رکھاہے۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا ۔ میں نے یہ نام اسلئے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں اور اللہ کی مخلوق زمین میں میرے اس بیٹے کی حمد ثنا کرے گی۔(فتح الباری جلد7،سیرتِ مصطفیٰ، محمد ادریس کاندھلوی)
محمد اور احمد نام رکھنے کی وجہ ایک خواب اور بشارت 
حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش) سے پہلے حضرت عبدالمطلب نے ایک خواب دیکھا تھا۔ اور وہی خواب محمد نام رکھنے کا باعث بنا ۔حضرت عبدالمطلب نے دیکھا کہ ان کی پشت(پیٹھ) سے ایک زنجیر نکلی ۔جسکا ایک سرا آسمان میں اور دوسرا سرا زمین میں ہے۔ اور وہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے ۔ کچھ دیر بعد وہ زنجیر درخت بن گئی۔ جس کے ہر پتہ پر ایسا نور تھا ۔جو سورج کی روشنی سے ستر گنا(درجہ )زیادہ ہے۔ مشرق اور مغرب کے لوگ اسکی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں۔قریش میں سے کچھ لوگ اسکی شاخوں کو پکڑے ہوئے ہیں۔اور قریش میں کچھ لوگ اس درخت کو کاٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ جب اس درخت کو کاٹنے کے لیئے درخت کے قریب آنا چاہتے ہیں تو ایک نہایت ہی حسین و جمیل نوجوان آکر ان کا مقابلہ کرتا ہے۔ اور ان کو ہٹا دیتاہے۔ خواب کی تعبیر بتانے والوں نے آپ کو بتایا کہ تمہاری نسل سے ایک لڑکا پیدا ہو گا۔ جس کی اتباع مشرق سے لے کر مغرب تک کے لوگ کریں گے۔ اور آسمان والے اور زمین والے اس کی حمد و ثنا کریں گے۔ اسی وجہ سے عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا۔ (روض الانف شرح سیرت النبی ابن شہام ۔امام سہیلی۔ جلد نمبر ۱ سیرت مصطفے، محمد ادریس کاندھولی) حضرت عبدالمطلب کو اس خواب سے محمد نام رکھنے کاخیال پیدا ہوا۔اور ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ کو سچے خوابوں کے ذریعے یہ بشارت دی گئی کہ تم تمام مخلوق کے سردار اور تمام امتوں کے سردار کی والدہ بننے والی ہو۔ اس کا نام محمد رکھنا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ احمد نام رکھنا۔ ( عیون الاشر ) حضرت بُریدہ اور حضرت عبداللہ بھی عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ محمد اور احمد دونوں نام رکھنا۔ ( الخصاص الکبریٰ ، سیرت المصطفیٰ ، محمد ادریس کاندھلوی)
 نبوت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں آگئی 
 ایک یہودی تجارت کی غرض سے مکہ مکرمہ آتا جاتا رہتا تھا۔ جس رات کی صبح صادق کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم فانی میں تشریف لائے ۔اس کی صبح وہ قریش کی مجلس میں آیا۔ اور پوچھا کیا آج رات تمہارے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے۔ قریش نے کہا ۔ ہم کو معلوم نہیں ۔ یہودی نے کہا۔ اچھا ذرا تحقیق تو کر کے آئو۔ آج کی رات میں اس اُمت کا نبی پیدا ہوا ہے۔ اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک علامت ( مُہر نبوت) ہے ۔ وہ دو رات تک دودھ نہیں پیئے گا۔ لوگ فوراً مجلس سے اٹھے اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ کا بیٹا( صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا ہوا ہے۔ یہودی نے کہا۔ مجھے چل کر دکھلائو۔ جب اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی تو بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ جب ہوش میں آیا تو اُ س نے کہا۔ افسوس کہ بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی ہے۔ اے قریش، اللہ کی قسم یہ بچہ بڑا ہو کر تمہارے اوپر ایک ایسا حملہ ( فتح مکہ) کرے گا کہ اس کی خبرمشرق سے مغرب تک پھیل جائے گی۔ ( فتح الباری جلد نمبر۶ ۔ سیرت النبی ابن اسحاق، سیرت مصطفیٰ ، محمد ادریس کاندھلوی ) در اصل اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیائے کرام کے ذریعے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنی تفصیل سے بتایا ہے کہ وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اولاد سے زیادہ پہچانتے تھے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بالکل صاف صاف پہچان لینے کے بعد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ آخری نبی اور رسول ہیں جن کا ذکر توریت ، زبور اور انجیل میں ہے۔ ان یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا۔ یہودیوں کے انکار کی وجہ سے یہ حسد تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں نہیں بلکہ بنی اسماعیل میں تشریف لائے ہیں۔
 نیک یہودی کا مشورہ 
 ایک بہت بڑا یہودی عالم ملک شام سے آکر مراالظہران میں آباد ہو گیا تھا۔ وہ علم و فضل کا پیکر اور آسمانی کتاب کا عالم تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا ۔ اے اہل مکہ ۔ بہت جلد تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا۔ اور عالم عرب اس کی اطاعت کر ے گا۔ اورعجم ( عرب والے اپنے علاقے کو عرب اور اپنے علاقے کے علاوہ پوری دنیا کو عجم کہتے تھے)پر اسے غلبہ حاصل ہوگا ۔ اس کے ظہور کا زمانہ قریب ہے۔ جو اسے پالے گا۔ اور اس کی اطاعت کرے گا۔ وہ کامیاب ہوگا۔ اور جو مخالفت کرے گا۔ وہ خائب و خاسر اور نامراد ہوگا۔ حضرت عبد المطلب بھی اس کی باتوں سے متاثر تھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پر غیر معمولی واقعات ظاہر ہوئے تو آپ اسی صبح اُ س راہب کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ اپنی عبادت گاہ سے باہر آیا۔ اور خود ہی بولا۔ جس عظیم بچے کی آمد کے تذکرے میں تم سے کیا کرتا تھا۔ وہ پیدا ہو گیا ہے۔ اور پچھلی رات اس کی پیدائش کی اطلاع دینے والا ستارہ بھی طلوع ہو چکا ہے۔ اے عبدالمطلب ، اپنی زبان بند رکھنا اور اسے حاسدوں کے حسد سے بچانا۔ اس کے بہت سے بڑے بڑے دشمن ہوں گے۔ اور اس کی جتنی مخالفت ہوگی اتنی مخالفت کسی کی نہیں ہوئی ہے۔ اسی لئے حضرت عبدالمطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے ۔ میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہے۔
 

تازہ ترین