گستاخانہ خاکوں کی اشاعت

تہذیبوں میں تصادم سے گریز کریں تو بہتر

تاریخ    30 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


فرانس میں اہانت آمیز خاکوں کے ذریعہ شان ِ رسالت ؐ میں کی گئی گستاخی کے خلاف دنیا بھر میں مسلمانوں کا احتجاج جاری ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی جمعہ سے ہی توہین آمیز فلم کیخلاف برہمی پائی جارہی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہے جب اسلام اور اسلامی مقدسات کی شان میں امریکہ اور مغرب میں اس طرح کی اہانت آمیز فلم کارٹون و دیگر مواد شائع کئے گئے ہیں۔گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ اور اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دو محاذیعنی ثقافتی اور فوجی محاذ کھول دئے ہیں۔ ثقافتی محاذ کے تحت کبھی سرکار رسالت مآبؐکے سلسلے میں توہین آمیز کارٹون بنایا جاتا ہے تو کبھی اہانت آمیز فلم تیار کرکے اسلام اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں دہشت گرد کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے اور جنگی محاذ پر اس نے عرب و عجم میں دسیوں لاکھ مسلمانوں کا خون بہا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغربی دنیا میں آخر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید ہی کی توہین اور رسالت مآبؐ کی شان میں ہی کیوں گستاخی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے جبکہ آزادی ٔاظہار کے حق کو اس گستاخی کا جواز بنایا جاتا ہے۔ آزادی ٔاظہار کے اس حق کو آخر اہانت قرآن و رسول ؐکیلئے ہی کیوں استعمال کیا جاتا ہے ؟۔یقیناََاسلام دشمن قوتوں کی ایک گھنائونی سازش ہے جس کے تحت رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر نازل ہونیوالے صحیفہ آسمانی کو اپنی گستاخیوں کا ہدف بنایا گیا ہے۔
 امن و آشتی کے ضامن دین اسلام کا ناطہ دہشتگردی کے ساتھ جوڑنا بھی اسی گھنائونی سازش کا حصہ ہے۔ مقصد فدایانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دلوں سے روحِ محمدؐ نکالنے کا ہے جس کیلئے ترغیب و تخویف سمیت تمام ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں اور شانِ رسالتؐ میں گستاخی کو بطور فیشن پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ مذہب کی توہین اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے انسانیت کے قاتل آج اس دین کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت کرنے کوتیارنہیں جس نے پوری دنیا کو امن و آشتی کا پیغام دیا ۔ امریکہ اگر دین اسلام اور بانی اسلام کی توہین کرے اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کا خون بہائے تو وہ امن کا منادی ہے اور اگر اس کی ان حرکتوں پر احتجاج کیا جائے تو مسلمان دہشت گرد اور شدت پسند ہیں ،یہ کون سا معیار ہے؟۔
 امریکہ اور یورپ سمیت مغربی دنیا دہائیوں سے اسلامی انتہا پسندی اور اسلامی بنیاد پرستی جیسی اصطلاحات استعمال کر رہی ہے جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ مسلمانوں کو مطعون کیا جاتا رہے۔ جہاں تک بعض افراد کی جنونی حرکات کا تعلق ہے یہ کسی ایک ملک یا مذہب تک محدود نہیں۔ مغربی ملکوں میں پچھلے دس برسوں کے دوران عبادت گاہوں، دوسرے مذاہب کے لوگوں اور عقائد پر حملوں کے واقعات کا شمار کیا جائے تو حیران کن اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔ ان میں سے کئی واقعات کا تجزیہ ان واقعات کو تہذیبوں کے درمیان تصادم کے نظریئے تک لے جاتا ہے۔ گیارہ ستمبر سمیت جن واقعات کے ذمہ دار مسلمان قرار دیئے جاتے ہیں ، وہ بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ بڑی حد تک تہذیبوں میں تصادم کے نظریئے کا شاخسانہ ہیں۔ حالانکہ ضرورت تہذیبوں میں ہم آہنگی کے نظریئے کو پروان چڑھانے کی ہے۔ تمام مذاہب انسانیت کی بھلائی اور بہبود کے لئے آئے ہیں۔ ان کو منافرت کا نہیں،رواداری کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے۔ اس لئے مغربی ملکوں، جو دوسروں کو انتہا پسندی سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں،کو اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ ایسے خاکے بنانے والے لوگ کس طرز عمل کی نمائندگی کرتے ہیں؟۔ کیا ایسے عناصر کو محض اظہار رائے کی آزادی کے نام پر دوسروں کے جذبات پامال کرنے کی اجازت دینا درست ہو گا؟۔ اسلام دشمنوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ حرمتِ رسولؐ کا تحفظ ہر مسلمان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ چنانچہ شانِ قرآن و رسالتؐ میں گستاخی کے کسی واقعہ پر مسلم دنیا میں اشتعال پیدا ہوتا ہے تو ان ملعونوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں تحفظ فراہم کرنیوالے ہی اسکے ذمہ دار ہیں۔ 
یہ ایک برملا حقیقت ہے کہ بطور مسلمان ہمارا تمام الہامی کتابوں اور انبیاء کرامؑ پر ایمان ہے، اس لئے کوئی مسلمان کسی دوسرے مذہب کی الہامی کتاب یا کسی نبی کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ،نہ مسلمانوں کی جانب سے آج تک ایسا کوئی واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس تناظر میں اگر دین اسلام ،حضرت نبی آخرالزمانؐ، ان پر نازل ہونیوالی الہامی کتاب قرآن مجید اور مسلمانوں کے بارے میں شرانگیز عناصر کی جانب سے متعصبانہ سوچ کا مظاہرہ کیا جائیگا اور گستاخانہ کلمات ادا کئے جائینگے تو اس کا فطری ردعمل پرتشدد واقعات کی صورت میں سامنے آتا رہے گا۔ مغربی دنیا کو یہ احساس کرنا چاہئے کہ جس طرح مسلمان ممالک اپنی صفوں میں تشدد کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں اسی طرح خود مغربی ملکوں کو بھی آزادی ٔاظہار کے نام پر ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دینا چاہئے جو قلمی، فکری اور ثقافتی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔

تازہ ترین