خوشحالی اور سہولیات کی فراہمی کے کھوکھلے نعرے

مہنگائی وناجائز منافع خوری کا جِن بوتل سے باہر

تاریخ    28 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


معراج مسکینؔ
کشمیر ی عوام کا ہر گذرتا دن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںمسلسل اضافے سے مشکل سے مشکل تر بنتا جارہا ہے۔اشیائے ضروریہ اور روزمرہ کے استعمال کی اشیا عام آدمی کی پہنچ اور اس کی رسائی سے باہر ہوتی جارہی ہے۔معاشی بحران اور انحطاط کی وجہ سے پہلے ہی معاشی ترقی کی رفتار بْری طرح متاثر ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بے شمار لوگ روز گار سے محروم ہوگئے ہیں اور کئی پرائیویٹ کمپنیوں ،کارخانوں اور اداروں میں تنخواہوں اور اْجرتوں میں کٹوتی کی گئی ہے جبکہ عام آدمی کی آمدنی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہی ہے۔غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل بڑھوتری سے ایسا لگتا ہے کہ ان قیمتوں پر قابو پانے کی سرکاری انتظامیہ میں کوئی سکت نہیں،اس لئے اس تعلق سے گورنر انتظامیہ زیادہ فکر مند بھی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔گویاکشمیری عوام کو اِس وقت جس بے لگام اور کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے اْس کا شائد گورنر انتظامیہ کو بھی ادراک ہو،لیکن گورنر مسٹر سنہا نے ابھی تک اس حوالے سے کسی بھی میٹنگ یا اجلاس میںکوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی مجاز حکام کو اس پر قابو پانے کے لئے کوئی ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔موجودہ وبائی قہر کے دوران وادیٔ کشمیر میں روز مرہ استعمال ہونے والی ضروری چیزوں کی قیمتوں میں بدستور اضافے سے پوری آبادی پریشان ہے۔پچھلے دو برسوں کے دوران روزِ مرہ استعمال کی جانے والی چیزوں کی قیمتیں جہاں دوگنی اور تِگنی ہوچکی ہیں وہیں انتظامیہ کی طرف سے ٹرانسپورٹروں کے کرایوں میں من مانے اضافے نے بھی مسافروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔کشمیر میں عرصہ دراز سے جاری اس بحران بھی کو ٹالنے کی ہزار کوششوں کے باوجود یہ ٹلنے کا نام نہیں لے رہا، ذخیرہ اندوز اور اسمگلنگ مافیا پوری طرح سرگرم ہے۔ اِس دوران اب تک جو کوئی بھی کوشش کی گئی، اْس سے اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک جگہ رْکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں کیونکہ مہنگائی کے خلاف آج تک کوئی بھی فیصلہ کن مہم شروع نہیں کی گئی جو زمینی حقائق کے باعث ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ یہاں یہ بات ایک سوالیہ نشان ہے کہ مقامی فصل سمیت درآمد کی جانے والی اشیاکی مجموعی مقدار طلب کے مقابلے میں کم نہیں ،پھر بھی یہ کہاں جا رہی ہے کہ مارکیٹ میںاس کی قیمتیںدوگنی یا تِگنی ہو چکی ہے۔اسی طرح روٹی کا وزن کم اور اِس کی قیمت بڑھتی جارہی ہے پھر بھی نان بائی مطمئن نہیں۔گوشت کی قیمت 6سو روپے کلو پھر بھی قصائی ناخوش ہے ،مٹر 120روپے ،آلو ،ٹماٹر 60روپے کلو اور دیگر سبزیاں من مانے نرخوں پر فروخت کرنے والے سبزی فروش سمیت پھلوں کو سونے کے بھائو بیچنے والے دوکان داراور ریڈے بان بھی ناشکراں ہیں۔ گویا کسی بھی معاملے میں کوئی نظم دکھائی نہیں دیتا ہے اور گورنر حکومت کیانتظامی ادارے زندگی کے مختلف شعبوںکو اس غلط طرز ِ عمل سے باز لانے میں کوئی بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں۔
ہاں ! یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ یہاں کے معاشرے میں ایمانداری ،حق پرستی اور انصاف کا فقدان ہے،جس کے نتیجہ میں عام لوگوں کے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔سچائی یہ بھی ہے کہ  وادیٔ کشمیر میں ایک طویل عرصے سے نامساعد حالات کے ساتھ ساتھ لمبے لمبے لاک ڈاون اور پھرپچھلے سات ماہ سے چلے آرہے کرونائی قہر سے معاشرے کا ہر فرد بْری طرح متاثر تو ہوچکا ہے ، لیکن حیرت کا مقام ہے کہ اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کشمیری معاشرے کے افراد ایک دوسرے کو ٹھگنے اور لوٹنے میں مصروف ہیںاوراپنے غلط طرز ِعمل کو جاری رکھ کر اخلاقی و ذہنی پستی کاکھلم کھلا مظاہرہ کررہے ہیں اور اس  طرح کے انفرادی و اجتماعی زندگی کے اچھے و بْرے اوصاف اور صحیح و غلط معاملات سے انسانیت کو داغدار بناتے جارہے ہیں۔ظاہر ہے کہ انسانیت اسی بات میں ہے کہ انسان زمین پر صحیح طریقے سے رہنا سیکھ لے،مشکلات و مصائب میں صبروتحمل اورعزم و استقلال کا مظاہرہ کریاورکسی بھی آزمائش میں ایسے کام نہ کریں جس سے انسانیت کا دامن داغدار ہوجائے کیونکہ قدر کا مستحق وہی معاشرہ ہوتا ہے ، جس میں نظم و انضباط ہونے کے ساتھ ساتھ تعاون و امدادِ باہمی، آپس کی محبت و خیر خواہی ، اجتماعی انصاف اور باہمی مساوات ہوتا ہے۔بصورت ِ دیگرکسی بھی معاشرے کے لوگ کبھی بھلے آدمیوں میں شمار نہیں کئے جاتے اور بْرے اور جھوٹے ہی کہلاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی نمایاں ہے کہ جہاں سرکاری انتظامیہ میں بدنظمی ،نااہلی ،کورپشن اور بدعنوانیاں ہوں ،وہاں معاشرے کے زیادہ تر تاجر ،کاروباری حلقے اور دکاندار طبقہ بھی زبردست بددیانتی ،ناجائز منافع خوری اور خود غرضی کے دلدل کا دِلدادہ بن جاتا ہے۔زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو دھوکے ،فریب اور مکاری سے لوٹنے کی تاک میں رہتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کو لوٹ کر فخر محسوس کرتے ہیںجس سے نہ صرف قوم اور معاشرے میں سچائی معدوم ہوجاتی ہے ،جھوٹ کا بھول بھالا ہوجاتا ہے بلکہ خود غرضی ،بددیانتی اور بے انصافی میں انسانوںکا ضمیر تک ذاتی مفادات کے قید خانے میں بند ہوجاتا ہے،جسے خریدنے کے لئے محض چند سِکّوں کی ضرورت پڑتی ہے جن کے عوض وہ اپنی غیرت ،حمیت ،عزت یہاں تک کہ دین ِا یمان تک بیچ کھاتا ہے۔اپنی اس وادی  میں بھی اسی روش کی ایک جھلک نظر آتی ہے اور انہی سکّوں کے حصول کے لئے وادی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ برسر پیکار ہے۔
بلا شبہ وادیٔ کشمیر میں کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی طبقہ اسی معاشرے کا ایک حصہ ہے۔سرکاری ملازم،تاجر ،دکاندار یا مزدور اسی حصے کے افراد ہیںلیکن افسوس! معاشرے کا ایک بڑا حصہ اپنی ذمہ داریوںسے کافی حد تک غافل ہوچکا ہے۔ آج تک اْس نے بہت سے ستم رسیدہ اَدوار دیکھے،خوفناک واقعات و حادثات کا سامنا کیا ،گولیوں کی گن گرج اورگولہ بارود کی تباہ کاریاںجھیلیں،بے شمار انسانی جانوں کا اتلاف اْٹھایا ،زلزلہ اور سیلاب کی قہر سامانیاں برداشت کیںاور اب عبرت ناک وبائی قہر کا عذاب بھی جھیل رہا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک اْس میں ایمانداری ،حق پرستی اور انصاف کا شعور بیدار ہونے کا نام نہیں لیتا۔شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ آج تک جو بھی حکمران اس پر تھونپا گیا وہ اْس پر ہونے والے ظلم و ستم پر اْف بھی نہیں کرسکا۔سرکاری افسران اور عہدیداران ذاتی مفادات تک ہی کار بند رہے اور انتظامی شعبوں میں غلط پالیسیوں کے مرتکب افراد کی مدد کرتے رہے۔گویا اعلیٰ عہدوں پر فائز استحصالی عناصر کے حوصلے ہر ادوار میں بلند ہوتے رہے اورلوٹ کھسوٹ میں ملوث آفیسر اور اہلکار مزے لوٹتے رہے،جن کی بدولت ناجائز منافع خور ،ملاوٹ خور ،نقلی ادویات اور دوسری غیر معیاری چیزیں فروخت کرنے والے تاجر وںاور دکانداروں کے لئے عیش کوشی کے سامان مہیا ہوتے رہے۔
اپنی اِس وادیٔ کشمیر کے اْمت ِمسلمہ کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ ہماری زندگی اور اعمال روحانیت اور مقصدیت سے خالی ہے،اولاً ہماری اکثریت بے عملی ،بد اعملی،بے راہ روی اور اباحیت کا شکار ہے اور جو لوگ اسلامی اعمال کے پابند ہیں ،اْن کے اعمال مقصد اور روح سے خالی ایک رسم بن کر رہ گئے ہیں۔جس کے نتیجہ میں جہاں ارباب و اقتدار اور کاروباری لوگ ایمان ،دیانت اور فرض جیسی مبنی بر حق باتوں کو خاطر میں لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے وہیں سرکاری و غیر سرکاری ملازم طبقہ ،تاجر پیشہ افراد ،دکاندار ،مزدور ،کاشت کار اور دیگر مختلف پیشوں سے وابستہ تقریباً سبھی لوگ بھی اپنے مذہبی اور دینی مقام و مرتبے سے بے نیاز ہوکر صرف دنیاوی فوائد ہی کو سمیٹنے کی کوششوں میں مصروف ِ عمل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور یونین ٹرییٹریز بنانے کے بعد بھی مہنگائی کے جِن کو قابو کرنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی جاسکی ہے۔اگرچہ جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے لئیلوگوں کی ترقی ،خوشحالی اور بہتری اور سہولت کی فراہمی کے نعرے اور دعوے کئے گئے تھیالیکن تا حال یہ سبھی نعرے جھوٹ کے پھلندے دکھائی دیرہے ہیںاور گورنر انتظامیہ کے دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ وادیٔ کشمیر کے عام لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے لئے جس طرح کی صورت حال کا سامنا ماضی میں کرنا پڑتا تھا،آج زیادہ تر معاملات میںعوام کو ماضی سے بھی زیادہ مشکلات ومصائب جھیلنا پڑتے ہیں۔ کرونا وائرس کی اس وبائی فضا میں بھی عام لوگوں کو ابھی تک ایسی کوئی سہولت یا بنیادی ضرورت فراہم نہیں ہوپارہی ہے جس کے اثرات اس کی زندگی پر مرتب ہوئے ہوں،اس کی زندگی میں ایسی کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی جس کا تذکرہ کیا جاسکے۔جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خور مافیا ایک طاقتور شکل اختیار کرچکا ہے۔جس کا عام حربہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ان کی قیمتیں بڑھانا ہوتا ہے۔ اس وقت اس صورتحال کی زد میں بہت سی ادویات بھی آرہی ہیں خصوصاً  رجسٹرڈ کمپنیوں کیوہ ادویات جو پہلے ہی بہت مہنگی ہیں اور عام بیماریوں کے لئے لازمی ہوتی ہیں، ان کی مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کردی گئی ہے تاکہ من مانی قیمتوں کا تعین ہوسکے جبکہ ڈپلی کیٹ ادویات کی اچھے داموں میں حصولیابی کی بہتات ہے۔ چنانچہ ذخیرہ اندوزی،ناجائز منافع خوری اور اسمگلنگ کے خلاف کو ئی سخت قانون شایدنافذ ہی نہیں اور نہ ہی اس کے مرتکب افراد کو سزائیں دینے کا کوئی قابل ذکر کیس ابھی تک سامنے آیا ہے، جبکہ کھلے عام یہ سارے کام ہو رہے ہیں اورغریب عوام کو ان عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔
گزشتہ دو سال سے وادی میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے اور حکومتی مشینری میں اشیائے ضروریہ کے نرخوں کو قابو میں رکھنے کے لئے ادارے موجود ہونے کے باوجود صورت حال جْوں کی تْوں ہے۔جس طرح وقفہ وقفہ کے بعد یکدم قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جاتا ہے ،انتہائی حیران کْن ہے۔اس کی اصل سبب تک پہنچنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں’کرے کوئی اور بھرے کوئی ‘کے مصداق سارے نتائج عوام اور چھوٹے دکانداروں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔یہ تمام وہ سوالات ہیںجو عوام حکمرانوں سے کر رہے ہیں اور ظاہر ہے جواب بھی حکمران ہی دے سکتے ہیں۔اب عام آدمی کو راحت ملے تو کیسے ملے؟اشیائے ضروریہ ،خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ کرنے کا فائدہ کن کی جیبوں میں جا رہا ہے، یہ بھی گورنر انتظامیہ ہی کو معلوم ہوگا؟غریب آدمی کے لئے پہلے دو وقت کی روٹی کھانی مشکل ہو رہی تھی اب تو ایک وقت کی روٹی بھی نا ممکن ہو رہی ہے۔اور یہ سب ان عام لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے جن کی 65فیصد تعداد خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ پرائیویٹ ملازمین اور سفید پوش لوگ تو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔سرکاری انتظامیہ اگر فوری طور پر مہنگائی اور ناجائز منافع خوری پر قابو پانے اور کنٹرول کے کے اقدامات نہیں کرتی ہے تو پھر غریب طبقہ کے لئے جینا دوبھر ہوجائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ وادی ٔکشمیر میں ایک اورشدیدبحران پیدا ہوجائے اور نام نہاد ترقی اور امن و امان کی کوششوں کا اثر زائل کردے۔
 

تازہ ترین