نور پورہ ترال میں مسلح جھڑپ | جنگجو جاں بحق، ایک کا سرنڈر

طرفین میں گولیوں کا تبادلہ، گائوں کا محاصرہ جاری

تاریخ    27 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


سید اعجاز
ترال// اونتی پورہ کے مضافاتی گائوں ڈانگر پورہ نور پورہ میں مسلح تصادم آرائی کے دوران ایک جنگجو جاں بحق جبکہ رات دیر گئے ایک ماہ قبل ہتھیار اُٹھانے والے ایک جنگجو نے سرنڈر کیا۔پولیس نے بتایا کہ جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد ڈانگر پورہ نور پورہ او نتی پورہ گائوںسے شام قریب 6بجے 42آر آر ،ایس او جی اونتی پورہ اور 130سی آر پی ایف کی ایک گشتی پارٹی گذری جس کے فوراً بعد فائرنگ شروع ہوئی جو کافی دیر تک جاری رہی۔جنگجوئوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم سیکورٹی فورسز نے اُن کا تعاقب کیا ۔
اسکے بعد کوئی فائرنگ نہیں ہوئی البتہ گائوں میں فورسز کی مزید کمک طلب کی گئی اورگائوں کو محاصرہ میںلیکر سبھی راستے سیل کئے گئے ہیں ۔شام کے بعد تاریکی کی وجہ سے آپریشن منگل کی صبح تک ملتوی کیا گیا اور گائوں میں رشنیوں کا انتظام کیا گیا۔پولیس نے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پرگولیوں کے تبادلے میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا۔جس کی شناخت 38سالہ شوکت احمد لون ولد مرحوم علی محمد لون ساکن چُرسو اونتی پورہ کے بطور ہوئی۔شوکت کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ 1995میں سرحد پار چلا گیا اور وہاں 17برس تک قیام کیا۔
وہ 2012میں نیپال کے راستے بازآبادکاری پالیسی کے تحت واپس آیا اور کچھ ماہ تک وہ احتیاطی حراست میں بھی رہا۔ تاہم بعد میں وہ اپنا معمول کا کام کرنے لگا۔ مارچ 2020میں اُس نے دوبارہ ہتھیار اُٹھائے اور حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی۔ رات کے قریب 9بجے پولیس نے اس بات کی جانکاری دی کہ جس بستی کو محاصرے میں لیا گیا تھا، وہاں موجود ایک جنگجو نے خود سپردگی کی۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ جونہی ایک نئے بھرتے ہوئے جنگجو کے بارے میں علم ہوا تو اسکے اہل خانہ اور گائوں کے معززین سے مدد طلب کی گئی جنہوں نے جنگجو کو خود سپردگی کرنے پر آمادہ کیا اور کئی گھنٹوں تک کی کوشش کے بعد مذکورہ جنگجو نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔مذکورہ نوجوان کی شناخت 21سالہ ثاقب اکبر ولد محمد اکبر وازہ ساکن کھل باغ گلشن پورہ ترال کے بطور کی گئی۔ ثاقب 22ستمبر کو جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔ وہ پنجاب میں بی ٹیک کی ڈگری حاصل کررہا تھا۔ 
 

تازہ ترین