غزلیات

تاریخ    25 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ذرا سی عمر نے کیا کیا دکھا دیا ہے مجھے
بھری جوانی میں بوڑھا بنا دیا ہے مجھے
 
میں جانتا ہی نہ تھا زندگی کے معنی کو
غموں کی دھوپ نے سب کچھ سِکھا دیا ہے مجھے
 
جب اِس بڑھاپے میں آیا تو یہ خیال آیا
مری حیات نے آخر کو کیا دیا ہے مجھے
 
سمٹ گئے ہیں سبھی علم انگلیوں میں مری
اس آگہی نے تو جاہل بنا دیا ہے مجھے
 
نڈھال رہتا ہوں میں جس کی یاد میں اے شمسؔ
ستم تو یہ ہے اُسی نے بھلا دیا ہے مجھے
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی / اردو / اسلامک اسٹڈیز
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9086180380
 
 
کبھی تو پوری مرے دل کی آرزو ہوگی
کبھی وہ شام بھی آئے گی پاس تُو ہوگی
کھِلے گی گلشنِ اُمید کی کلی تو کبھی
فضا میں خوشبو تمہاری ہی چار سُو ہوگی
وہ دن بھی آئیگا ایک دن کہ اے صنم تم سے
مری بھی پیار سے دن رات گفتگو ہوگی
عجب نہیں کہ خوشی میں مچل بھی سکتا ہوں
کُھلیگی آنکھ مری اور تو روبرو ہوگی
کبھی اُفق پہ شفق اور ہوگی تو چھت پر
میں دیکھتا ہی رہوںگا تو سرخرو ہوگی
جہاں میں جاؤں میں بسملؔ کہیں مگر جانم
مری نظر کو تمہاری ہی جستجو ہوگی
 
 پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
موبائل نمبر؛8340505230
 
نہیں کچھ ہے جیتا، کہ ہارا بہت ہے
اندھیرے کی ضد میں ستارہ بہت ہے
 
مجھے بھی تو تھوڑا سکوں چاہیے اب
مجھ وقت نے ہی گزارا بہت ہے
 
تیرے بن کوئی بھی سہارا نہیں تھا
 تیرے غم کا لیکن سہارا بہت ہے
 
محبت میں انسان جاں وارتا ہے
محبت میں لیکن خسارا بہت ہے 
 
اُسی نے مجھے مجھ سے چھینا کہیں سے
وہی شخص جو مجھ کو پیارا بہت ہے
 
مجھے اور کوئی نہیں چاہیے اب
مجھے تو خود ہی کا سہارا بہت ہے
 
عقیلؔ اس چمن میں جو کھلتے تھے پیہم
سبھی کو انہوں نے سنوارا بہت ہے
 
عقیل فاروق
طالب علم :شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی
موبائل:-7006542670
 
 
زمین ہوں یا میں کوئی آسماں ہوں
یا شائد میں کسی کے درمیاں ہوں
 
زباں تو ہے میری میں جانتا ہوں
مگر میں پھر بھی کتنا بے زبان ہوں
 
کوئی تو گنگنا لیتا ہے مجھ کو
غزل کیسی ہوں کیسی داستاں ہوں
 
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں تم کہاں ہوں
میں اِن سے پوچھتا ہوں میں کہاں ہوں
 
دکھائی بھی نہیں دیتا ہوں صورتؔ
نہ جانے میں یہاں ہوں یا وہاں ہوں
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں،
موبائل نمبر؛9419364549
 
 
قطعات
یوں پریشاں ہوگیا ہر جگہ انسان ہے
تخت پر بیٹھا ہوا ہر بات سے انجان ہے
ناسقوں کے جال کا ہر طرف بازار ہے
نفرتوں سے اُٹھ رہا اس ملک میں طوفان ہے
���
 
ہوش میں رہتے ہوئے لوگوں نے دیوانہ کہا
جب میں دیوانہ ہوا اپنوں نے بیگانہ کہا
راکھ جل کر ہوگیا ہوں اب غموں کی آگ میں
کیا کسی نے بھول سے ہے مجھکو پروانہ کیا
���
 
اے طبیب تو دیکھ لے گھبراہٹ میری 
یہ نظر آخری ہے تھرتھراہٹ میری
کہاں سے لائوں میں کِھلتا ہوا چہرہ
دردِ جگر نے چھینی مسکراہٹ میری
 
سعید احمد سعیدؔ
احمد نگر سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9906355293
 
 
 

تازہ ترین