مقامی صحافت:ماضی اور حال کے آئینے میں

سوزِ دروں

تاریخ    24 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


منظور انجم
پراسرار ویب سائٹوں پر کشمیر میڈیا کی کردار کشی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اس مہم میںان کے ساتھ شامل ہوئے جب انہوں نے کشمیر ٹائمز کی انورادھا بھسین کے ایک ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی سمجھ میں آگیا ہے کہ کشمیر میڈیا کیوں سرکارنوازی پر اتر آیا ہے ۔ کشمیر میںخاص طور اخبارات پر سرکار نوازی کایہ الزام نیا نہیں ہے۔جب عمر عبداللہ کی حکومت تھی ،تب بھی مختلف حلقوں کی طرف سے یہ الزام اخبارات پر عاید کیا جاتا تھااور عمر صاحب اُس وقت مقامی اخبارات کے خلاف وہ سب اقدامات کرنے میں مصروف تھے جو آج روبہ عمل لائے جارہے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کشمیر میڈیا کو سرکار نوازی پر مجبور کرنے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کیا جو وہ کرسکتے تھے ۔جس کشمیر ٹائمز کا فلیٹ سربمہر کرنے پر انہیں آج افسوس ہورہاہے اور جسے وہ آزاد صحافت پر حملہ قرار دے رہے ہیں، اسے فلیٹ خالی کرنے کا نوٹس انہی کی حکومت میں اجراء کیا گیا تھا ۔مقامی صحافت کے ساتھ ان کا سلوک یہ تھا کہ انہو ں نے سرکاری تقریبات کو چھوڑ کر کبھی مقامی صحافیوں سے ملاقات تک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جبکہ وہ قومی اخبارات کے نمائندوں کی مہمان نوازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ۔انہیں پرنٹ میڈیا سے خاص طور پر یہ شکایت تھی کہ وہ علیحدگی پسندی کی سرگرمیوں کو نمایاں جگہ دے رہا ہے اور سرکار کے ’’ کارناموں ‘‘ کو بہت کم جبکہ اُس وقت صورتحال یہ تھی کہ زمین پر علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا اور سرکاری سرگرمیوں کے نام پر صرف چند بیانات سامنے آتے تھے ۔کوئی ایسی کارکردگی نہیں تھی کہ جسے نمایاں کیا جاسکتا ۔یہ بات نہ کوئی سمجھتا ہے اور نہ مانتا ہے کہ اخبارات اپنے وقت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ جو کچھ بھی زمین پر ہوتا ہے وہی ان میں نظر آتا ہے۔ یہ بات نہ وقت کے کسی حکمراں کی سمجھ میں آتی ہے اور نہ ہی کسی ایسی قوت کی جو بالادستی اور بالاتری کے زعم میں مبتلا ہو ۔عمر عبداللہ کے دور میں مقامی اخبارات کو کئی گھمبیر مسائل اور مشکلات کا سامنا تھا ۔ایک بار اُس وقت کے کشمیر ایڈیٹرس گلڈ کا ایک وفد بڑی کوششوں اور سفارشوں کے بعد ان سے ملاقات کا وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تاکہ اپنے مسائل ان کے سامنے پیش کرسکیں ۔ایک گھنٹے تک صحافیوں کے وفد کا ہر رکن بولتا رہا اور وہ سنتے رہے۔ انہوں نے ایک لفظ بھی جواب میں نہیں بولا اور جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ حکومت غور کرے گی اور ان کی حکومت نے کبھی غور نہیں کیا ۔انہو ں نے بھی با اعتبار صحافیوں کو نیچا دکھانے کے لئے دو نمبری صحافت کی حوصلہ افزائی کی۔آج وہ حکومت میں نہیں ہیں ،اس لئے مقامی اخبارات اور آزاد صحافت کے لئے ان کے دل میں بڑا درد اٹھ رہا ہے ۔حکومت کی کرسی سے اُتر جانے والے تقریباً ہر سیاست داںکا یہی وطیرہ رہا کہ اقتدار میں اس نے جس پیڑ کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیں کیں اقتدار سے اتر جانے کے بعد ان جڑو ں کے حال پر آنسو بہانے شروع کردئیے ۔
مقامی صحافت پرسرکار نوازی ، ملک دشمنی ، غداری اور ایسے ہی الزامات اتنے ہی پرانے ہیں جتنی خود مقامی صحافت ۔ ہر دور کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ دیگر قوتوں کے لئے بھی صحافت پہلا حدف رہی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ مقامی صحافت کی تاریخ کے آغاز سے ہی اس پر تہمتیں عاید کرنا ایک روایت رہی ہے جو آج تک قائم ہے اور شاید اُس وقت تک قائم رہے گی جب تک نہ صحافت کے پیشے اور اس کی ذمہ داریوں سے متعلق صحیح سمجھ اور بیداری عام ہو ۔کشمیر چونکہ ایک فساد زدہ خطہ ہے جہاں مختلف قوتیں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں، اس لئے ہر قوت کی خواہش اور کوشش یہ رہی ہے کہ صحافت اسی کی امیدوں کو پورا کرے اور اسی کے خوابوں میں رنگ بھردے ۔ زمینی صورتحال اور حقائق کسی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔مہاراجہ ہری سنگھ کے دور میں جس اخبار نے بھی ان واقعات کو سامنے لایا جو مطلق العنانیت کے خلاف احتجاجوں کی خبر یں شائع کرنے کی جرأ ت کرنے لگا ،اس کی اشاعت بند کردی گئی اور اس کا دفتر یا پرنٹنگ پریس بھی سیل کیا گیا ۔جمہوری دور آیا تو نیشنل کانفرنس سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا کہ مسلم کانفرنس کی سرگرمیوں سے متعلق کوئی اخبار کسی طرح کی خبر شائع کرے ۔اور جب شیخ صاحب کی جگہ بخشی غلام محمد اقتدار کی کرسی پر بیٹھ گئے تو شیخ صاحب کانام لینا بھی ممنوع ٹھہرا ۔بخشی حکومت کے ترقیاتی کاموں کی بھی خبر شائع کرنے والے عوام میں غدار اور بکے ہوئے قراردئیے جاتے تھے اور شیخ صاحب کی صحت و عافیت کی خبر شائع کرنے والے حکومت کے عذاب اور عتاب کا شکار ہوا کرتے تھے ۔خواجہ غلام محمد صادق حکمراں بنے تو سرینگر ٹائمز میں ایک کارٹون شائع ہوا جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ ایک تابوت کو کاندھا دیتے ہوئے چند لوگ جارہے ہیں جن میں سب سے آگے غلام محمد صادق تھے ۔ تابوت پر جمہوریت لکھا ہوا تھا ۔اس پر سرینگر ٹائمز کی اشاعت تقریباً تین مہینوں تک روک دی گئی حالانکہ صادق صاحب کو سب سے نرم مزاج اور جمہوریت نواز سمجھا جاتا تھا۔غالباً عدالتی فیصلے کے بعد سرینگر ٹائمز کی اشاعت دوبارہ بحال ہوسکی۔اس پورے دور میں معتبر صحافت اور مقتدر صحافیوں کا وقار اور اعتبار ختم کرنے کے لئے دونمبری صحافیوں کو ان کے مقابلے کھڑا کرنے کی بھی روایت قا ئم ہوئی ۔ حالانکہ اس کا آغاز بخشی غلام محمد کے دور میں ہوا تھا لیکن باضابطہ منصوبہ بندی کے ساتھ صادق صاحب کے دور میں ہی اسے روبہ عمل لایا گیا اور سید میر قاسم کے دور میں اس روایت کو عروج حاصل ہوا ۔دو نمبری صحافیوں کو سرکار کی طرف سے کافی مراعات حاصل ہوتے تھے اور ان کا کام وقت کے حکمران کی مخبری اور چمچہ گری کرنے کے ساتھ حقیقی صحافت کے اعتبار کو ختم کرنا اور اس کے خلاف پروپیگنڈاکرنا تھا ۔بعد کے حکمرانوں نے اس روایت کو آگے بڑھایا ۔حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی مقامی صحافت سے عام طور پر نالاں رہے ہیں ۔اس کی وجہ بس یہی ہے کہ عوام کے ہیرو بدلتے رہے ، سوچیں اور نظرئیے بدلتے رہے اور وہ ہر بدلائو میں مقامی صحافت کو اپنے ساتھ شامل دیکھنا چاہتے تھے ۔شیخ محمد عبداللہ نے جب اقتدا ر کی کرسی دوبار سنبھالی تو برصغیر کے مایہ ناز کارٹونسٹ بشیر احمد بشیر نے ایک کارٹون بنایا جس میں دکھا یا گیا تھا کہ شریمتی اندرا گاندھی شیخ صاحب کو تاج پیش کررہی ہیں اور شیخ صاحب انہیں اپنا سر پیش کررہے ہیں ۔یہ کارٹون سرینگر ٹائمز میں شائع نہیں ہوسکا ۔ ایڈیٹر صاحب نے اسے روک دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اس کا انجام کیا ہونا ہے ۔اُس وقت شیخ صاحب عوام کے مقبول لیڈر تھے اور اگر یہ کارٹون شائع ہوتا تو سب سے پہلے شیخ صاحب کے عاشق اخبار کے دفتر پر ٹوٹ پڑتے ،اس کے بعد حکومت کیا کرتی کہنا مشکل ہے ۔مسلم متحدہ محاذ کے قیام کے وقت اس میں شامل جماعتیں چاہتی تھیں کہ اخبارات ان کی سرگرمیوں کو سب سے زیادہ نمایاں کریں اور حکومت چاہتی تھی کہ مف کو اخبارات میں کوئی جگہ ہی نہ ملے ۔عوام نیشنل کانفرنس اور فاروق عبداللہ دونوں سے بیزار ہوچکے تھے اور نیشنل کانفرنس مرکز میں برسر اقتدار کانگریس کی اتحادی بن چکی تھی ۔اس صورتحال نے پہلی بار مقامی صحافت کے سر پر دو دھاری تلوار لٹکادی ۔عوام بھی صحافت سے خوش نہیں تھے اور حکومت بھی نہیں ۔یہی بات ظاہر کرتی ہے کہ صحافت حتی المقدور طور پر اپنے فرائض غیر جانبداری کے ساتھ انجام دے رہی تھی ۔اس کے بعد ایک ایسا دور آیا جس نے صحافت کے وجو د پر ہی سوال کھڑے کردئیے ۔یہ دور ریاست جموں و کشمیر میں عسکریت کے آغاز اور گورنر راج کے قیام کے ساتھ شروع ہوا ۔اس دور میںمقامی صحافت اور صحافت کی تاریخ ساز شخصیتوں پر جو گزری، اسے بیان کرنے کے لئے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہوگی ۔جب لوگ جوق در جوق سڑکوں پر آنے لگے، مسجدوں کے لاوڈ سپیکروں پر آزادی کے ترانے گائے جانے لگے، تو اخبارات نے اس کی رپورٹنگ کی ۔ وہ کیسے اس حقیقت کو چھپاسکتے تھے لیکن اُس وقت کے گورنر جگموہن کی نظر میں یہ مقامی صحافت کی ملک دشمنی کا ناقابل معافی جرم تھا ۔ شاید وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اخبارات کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہورہا ہے، اس لئے انہوں نے اخبارات پر پابندی عاید کردی لیکن جب اس کے باوجود صورتحال میں کوئی فرق نہیں آیا اوران تک یہ خبر بھی پہنچی کہ وادی بھر میں سٹنسل پیپروںکو بجلی کے کھمبوں پر چسپاں کیا جاتا ہے جن پر دن بھر کی صورتحال بہت ہی بڑھا چڑھاکر پیش کی جاتی ہے جس کو پڑھ کر عوام اور زیادہ بھڑک اٹھتے ہیں تو انہوں نے پابندی ختم کردی لیکن اخبارات اور ان کے مدیراس کے باوجود ان کی نگاہوں میں ملک دشمن ہی بنے رہے ۔دوسری طرف عسکری تنظیموں کے بیانات اخباری دفاتر کو موصول ہوتے رہے جن کے ساتھ یہ ہدایت بھی شامل ہوتی تھی کہ بیان کو پہلے صفحے پر اور من و عن شائع کیا جائے۔یعنی ایڈیٹر سے یہ حق بھی چھین لیا گیا کہ وہ جملوں کودرست کرے یا صرف زبان کی ہی اصلاح کرے ۔اگر کوئی اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتا تو وہ تحریک دشمن اورغدار قرار پاتا اور اس کی طلبی ہوتی ۔جوں جوں تنظیموں کی تعداد بڑھتی رہی ،دبائو میں اضافہ ہوتا رہا ۔ ہر تنظیم یہ چاہتی تھی کہ اس کا بیان دوسروں سے زیادہ نمایاں طورپر شائع کیا جائے ۔امن و قانون کی مشنری مفلوج ہوکر رہ گئی تھی اور حقیقی طورپر جنگجوئوں کی حکمرانی قائم ہوئی تھی ۔اخبارات حتی المقدور حد تک فرما نبرداری پر لاچار ہوچکے تھے ۔اس کے باوجود بھی نہ عوام ان سے راضی تھے نہ عسکریت پسند اور نہ ہی علیحدگی پسند ۔حکومت نے تو پہلے ہی انہیںملک دشمنوں میں شامل کردیا تھا ۔عسکری تنظیموں کی تعداد جوں جوں بڑھتی جارہی تھی، دبائو میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہورہا تھا ۔ایسے میں علیحدگی پسندوں کا سیاسی محاذ قائم ہونے سے بڑی امیدیں پیدا ہوئی تھیں ۔ اس محاذ میں وہ قایدین شامل تھے جن کے مقتد ر صحافیوں کے ساتھ اس وقت گہرے تعلقات قائم ہوئے تھے جب وہ نیشنل کانفرنس جیسی بڑی سیاسی تنظیم کے مقابلے میں اپنی تنظیموں اور اپنا سیاسی مقام حاصل کرنے کی جدوجہد کررہے تھے اور اس میں مقامی اخبارات ان کا سب سے بڑا سہارا تھے لیکن اس نازک اور حساس موقعے پر ان کے تیور بھی بدل گئے ۔صحافیوں کو مختلف الزامات کے جواب دینے کے لئے ان کے حضور بار بار حاضر ہونا پڑا ۔حاضری دینے والوں میں وادی میں صحافت کی تاریخ بنانے والے خواجہ ثناء اللہ بٹ بھی شامل ہوتے تھے اور صوفی غلام محمد بھی ۔اس صورتحال نے عسکریت پسندوں کے حوصلے اور زیاد ہ بڑھا دئیے ۔اور اب اداریوں پر بھی بلاوے آنے لگے ۔
مقامی صحافت جو ارتقائی منزلیں جیسے تیسے طے کررہی تھیں ،اس سونامی کا مقابلہ کرنے سے معذور تھی لیکن اسی صورتحال میں نئے اخبارات کا اضافہ داستاں کا ایک اور پہلو ہے ۔ چونکہ داستاں بہت طویل ہے اس لئے باقی آئندہ کے لئے چھوڑتے ہیں ۔
 

تازہ ترین