تازہ ترین

عارضی ملازمین کا راج بھون مارچ ناکام

احتجاجیوں پر رنگین پانی کی بوچھاڑ اور لاٹھی چارج،50گرفتار

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
 سرینگر// پولیس نے بدھ کو عارضی ملازمین کے راج بھون مارچ کو ناکام بناتے ہوئے ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں پر رنگین پانی کا چھڑکائو اور لاٹھی چارج کرکے50کے قریب مظاہرین کی گرفتاری عمل میں لائی۔ سرینگر میں ریذیڈنسی روڑ پر اس وقت افراتفری اور کشیدگی کا ماحول دیکھنے کو ملا جب پولیس نے عارضی ملازمین کی جانب سے راج بھون مارچ کو ناکام بنا دیا۔احتجاجی ڈیلی ویجر اور کیجول ملازمین نے جوں ہی میونسپل پارک سے باہر آنے کی کوشش کی تو پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے انکی اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ اگر چہ احتجاجی مظاہرین نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے رنگدار پانی کی بوچھار کی۔احتجاجی ملازمین ایک بار پھر جمع ہوئے اور چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں پھر سے احتجاج کرتے ہوئے پیش قدمی کرنے لگے اور پولیس نے ایک بار پھر انکی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے لاٹھی چارج کیا اور احتجاجیوں کی گرفتاری عمل میں لائی۔ عارضیملازمین سڑک پر ہی موجود رہے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے جس کی وجہ سے مولانا آزاد روڑ اور ریڈنسی روڑ پر ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو ملے اور ہر طرف اتھل پتھل کا ماحول قائم ہو گیا ۔پولیس نے احتیاتی طور پر ٹی آر سی کے فلائی ُاور کو بھی بند کیا اور کسی بھی گاڑی کو آنے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔پولیس نے کیجول ڈیلی ویجرس فورم کے صدر سجاد احمد پرے،سرور حسین،سجاد احمد زرگر،شبیر احمد راتھر،بشیر احمد گنائی،پرویز احمد بٹ، شبیر احمد تانترے،روف احمد،معراج الدین ،محمد شعبان اور شیخ سلیم سمیت50کے قریب مظاہرین کو حراست میں لیا۔ گرفتار ہونے سے قبل ڈیلی ویجرس فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے کہا کہ اگر سرکار61ہزار عارضی ملازمین کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوئی تو26اکتوبر سے عارضی ملازمین48گھنٹوں کے مکمل ہڑتال پر جائیں گے۔ پرے نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا’’ روایتی ٹول مٹول کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور حکومت ہزاروں خاندانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر رہی ہے،جبکہ انکے بچوں کے مستقبل کو منصوبے کے تحت تاریک بنایا جا رہا ہے‘‘۔ انہوں نے عارضی ملازمین کے مسائل کو پس پردہ ڈالنے کے عمل کو انسانی حقوق کی پامالی سے تعبیر کیا۔پرے نے کہا کہ اب انکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ہے اور1996سے لیکر2015تک کے عارضی ملازمین،جن کی شرح محکموں میں85فیصد ہے،اپنے حقوق کی حصولیابی کیلئے کام چھوڑ ہڑتال پر جائیں گے۔ان کا کہنا تھا’’ عارضی ملازمین نا ہی سڑکوں پر آنا چاہتے ہیں اور نا ہی ٹکرائو کی پالیسی پر گامزن رہنا چاہتے ہیں،تاہم سرکار کی ٹال مٹول کی پالیسی انہیں انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔انہوں نے لیفٹنٹ گورنر سے اس انسانی معاملے کو حل کرنے میں مداخلت کی اپیل کی۔