وجود ِزن سےہے تصویرکائنات میں رنگ

عورت سے پیار کرنا سیکھیں کھلواڑ نہیں!

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


شاہد محی الدین
 آج سویرے جب فون ہاتھ میں لیا اور حسب معمول فیس بک کھولا۔ بی بی سی نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک مغربی سفید فام خاتون اور فحش فلموں کی مشہور ڈائریکٹر porn ویب سائٹس کو ہینڈل کر کے زناہ کو کس قدر فروغ دے رہی ہے۔ اس خاتون کا ماننا ہے کہ یہ دنیا صرف جنسی لذت کے لیے ہی بنائی گئی  ہے اور وہ جنسی آوارگیوں کو عام کرنا چاہتی ہے۔ اسی طریقے کی ہزاروں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں کوششیں ہورہی ہیں جن سے سماجی برائیوں جیسے شراب نوشی،زناہ، اختلاط مرد و زن اور بھی کئی ساری بدکاریوں کو تقویت ملتی ہے۔ 
دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔ سمندر کی تہہ سے لیکر آسمان کی بلندیوں کو چھو لینے والا انسان ہی تو ہے۔ ایک آدھ صدی پہلے کس نے سوچا تھا کہ میں آسمانی راستوں کے ذریعے ساری دنیا کا سفر بہت ہی مختصر مدت میں انجام دے سکوں۔ کس نے سوچا تھا کہ میں لاکھوں میل دور اپنے ہمنواؤں سے گھر بیٹھے بات کرسکوں۔ انسان کے ان تمام کارناموں اور کامیابیوں کو ایک طرف رکھ کر اگر اخلاقیات پر نظر ڈالیں تو حقیقت حال یہ ہے کہ انسان نے درندوں سے بھی پست روپ دھار لیا ہے۔ آہستہ آہستہ انسان اخلاقی زوال کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ جو حدود و قیود خالق حقیقی نے انسانی زندگی کے لیے رکھے تھے یہ ان حدود کو توڑ کر اپنے نئے قوانین متعارف کرانے کی کوشش کرتا ہے اور نتیجتاً دنیا میں فساد برپا ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ 
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب دنیا میں جنسی تسکین کے لیے ہر ایک نوجوان پارن ویب سائٹس کا رخ کرتاہے۔ لاکھوں نوجوان پورنوگرافی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسا نشہ ہے کہ ایک بار چڑھ گیا پھر اس سے جان چھڑانا بے حد مشکل کام ہے۔ 
خالق کائنات نے زناہ کو روکنے کے لیے اور نئی نسل کو وجود میں لانے کے لئے حلال طریقہ متعین کیا ہے جس کے ذریعے سے جنسی لذت کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ زندگی بڑی حسین طریقے سے گزر جائے گی۔ جنسی درندگی اور جنسی آوارگیوں کو روکنے کیلئے قدرت کے قوانین پر عمل کرنا ایک انسان پر لازم بنتا ہے۔ عام طور پر جنسی بے راہ روی سے خواتین کا طبقہ سب سے زیادہ متاثر رہتاہے۔ ان پر ظلم و استہزاء کے خونخوار واقعے پیش آتے ہیں۔ روز لاکھوں ایسے واقعات پیش آتے ہیں جب خواتین پر جنسی زیادتی اور مظالم کے گھنائونے واقعات پیش آتے ہیں۔ اس میں ان تمام مادہ پرستوں کا رول ہے جنہوں نے اس دنیا کو لوگوں کے سامنے ایسے پیش کیا ہے جیسے یہ وسیع و عریض کارخانہ از خود چل رہا ہے، جنہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو حجت قرار دے کر زندگی کے اخلاقی شعبوں کو نصاب سے خارج کردیا۔ ذرا خود مشاہدہ کیجیے کہ جہاں سے ایسے نظریات نے جنم لیا وہاں روز جنسی زیادتیوں کے کیسے کیسے رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات پیش آتے ہیں۔
یہ سب اسلئے ہو رہا ہے کیوں کہ ان مادہ پرست تنظیموں نے حقوق نسواں اور آزادی ٔ نسواں کے نام پر عورتوں پر کس قدر مظالم ڈھائے۔عورتوں کو آزادی کی نیلم پری کا نام دے کر ان سے کیسے کیسے کام کروائے۔ بازاروں کی زینت ہو یا اشتہار ، پارن ویب سائٹس اور دیگر فحش کاموں میں اسی پاک عورت کی تصاویر کو کور پیج میں ڈال کر سستی ترین شئے بنایا جاتا ہے۔
جن ممالک میں آزادیٔ نسواں اور حقوق نسواں کے نام نہاد علمبرداروں نے عورت کو بازاروں اور اشتہاروں کی زینت بنانے کی کوشش کی ان ممالک کا حال بے حال ہوچکا ہے۔ روز عورتوں پر مظالم کے گھنائونے واقعات پیش آتے ہیں۔ ظلم و تشدد کے ایسے واقعات کہ باضمیر انسان اپنے ہوش و حواس ہی کھو بیٹھتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یورپ میں ایک تہائی خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں نیز یورپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے کے ایک جائزے کے نتائج کے مطابق یونین میں شامل ممالک کی تقریباً ایک تہائی خواتین 15 برس کی عمر سے جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں۔جائزے کے مطابق یہ تعداد چھ کروڑ 20 لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے بڑا جائزہ ہے جس میں 42000 خواتین کے انٹرویوز ریکارڈ کیے گئے۔
 ہر سال لاکھوں خواتین اغوا کر کے جنسی زیادتی کرنے کے بعد قتل کی جاتی ہیں۔ یہ مسلہ روز پیچیدہ بنتا جارہا ہے۔ ہم پھر اسی گھڑے میں گرتے جارہے ہیں جس میں انسانیت صدیوں پہلے گر گئی تھی۔ انسان ترقی کی طرف تو گامزن ہے لیکن اخلاقیات کا جنازہ روز اٹھتا جارہا ہے۔ اس چیز پر دھیان دینا مجموعی طور پر ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ وگرنہ چندبرسوں بعد جنسی آوارگیوں کے نتیجے میں خواتین کا گھر بھی ان کے لیے غیر محفوظ ہو جائے گااور یوں اس جہاں کی رنگینی ہی پھیکی پڑ جائے گا کیونکہ بقول شاعر ؎
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں
یہ عورت ہی ہے جس کی وجہ سے کائنات میں رنگینی ہے اور یہ عورت ہے جو ہمیں انسانی سماج دے چکی ہے ۔یہ عورت ہے جو ہماری بیٹی ،بہن ،ماں اور بیوی کی صورت میں امور خانہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ مردوں کے شانہ بشانہ آگے بڑھ رہی ہے اور اس دنیا کو انسانوں کے بود و باش کیلئے خوبصورت بنانے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے لیکن نہ جانے شہوت کے پجاری کب سمجھیں گے کہ عورت کھیل تماشے کی چیز نہیں بلکہ پیار و احترام کا تقاضا کرنے والی تخلیق ہے اور اس عورت کے بغیر خود اس مرد کا وجود نامکمل ہے ۔کاش یہ باتیں ایسے مردوں کے ذہنوںمیں اتر جاتیں اور عورت کیلئے موجودہ نام نہاد مہذب دنیا محفوظ بن جاتی ورنہ آج دنیا کی حالت دیکھ کر اور جس طرح پاگل شکاریوں کی طرح ہوس کے بجاری عورت کے پیچھے دوڑ پڑ ے ہیں،کلیجہ منہ کو آجاتا ہے اور یہ قطعی کوئی اچھا شگون نہیں ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں انسانی سماج کا پستیوں میں گرجانا طے ہے اور ایک دفعہ انسانی سماج لاکھ ترقی کے باوجود اخلاقی طور پستیوں کے اتھاہ سمندر میں ڈوب جائے تو ایسے سماج کا زوال یقینی ہے جو کوئی اچھا شگون قرار نہیں دیاجاسکتا ہے۔
رابطہ:وانپورہ کولگام

تازہ ترین