تازہ ترین

حضرت فضہؓ

کنیز نُما شہزادی۔۔۔ دوسری قسط

تاریخ    22 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


فدا حسین بالہامی
معمولی واقعہ مگر غیر معمولی درس:علامہ مجلسی اور شیخ صدوق نے جناب سلمانِ فارسی سے نقل شدہ ایک روایت کتب ِ احادیث میں رقم کی ہے جس کے مطابق رسولِ اکرمؐ کو امیرالمومنین اور لختِ جگر حضرت زہراؑ اور حسنین ؑنے یکے بعد دیگرے دعوت کی۔ اور حضرتِ رسولِ اکرم ان حضرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے مسلسل چند ایک روزخانہ زہراء ؑ تشریف لے گئے۔ آخری روز کھانا کھانے کے بعد جب آنحضرتؐخانہ ٔ فاطمہ ؑسے روانہ ہونے لگے تو دیوڑھی پر حضرتِ فضہ ؓنے عاجزانہ لہجے میں عرض کیا کہ کل یہ کنیز شہنشاہِ رسالت ؐکو دعوت پہ بلاتی ہے ،امید ہے کہ تشریف لاکر عزت افزائی فرمائیں گے۔ رسولِ رحمت ؐنے بخوشی دعوت قبول فرمائی۔ اگلے روز مقررہ وقت پر جب حضورِ اکرمؐ جناب فاطمہؑ کے گھر میں وارد ہوئے تو سب نے آکر استقبال کیا۔ مگر آپ کی بغیر اطلاع اور اچانک تشریف آوری کا سبب جب اہلبیت اطہارؑ نے دریافت کی توفرمایا آج ہم فضہ ؓکے مہمان ہیں۔
اس بظاہر چھوٹے سے واقعہ میں دو اہم اور قابل ِ توجہ نکتے مضمر ہیں۔ اول یہ کہ خانہ اہلبیت ؑمیںجناب فضہؓ کو قلیل عرصہ میں ہی ایک خاص مقام و مرتبہ حاصل ہوا تھا۔ اور وہ بھی باقی افرادِ خانہ کی طرح آزادانہ طور زندگی جی رہی تھیں۔ اسے بھی دیگر افراد کی طرح گھر میں ہر جائز فاصلہ لینے کا حق دیا گیا تھا۔ دوم یہ کہ پیغمبر اکرمؓ نے بھی اس کی دعوت قبول کرکے مساوات پر مبنی انسانی منشور کو عملی صورت میں پیش کیا ۔ اور یہ امر ظاہر کردیا کہ رحمت اللعالمین ؐکی نظر میں سب اولادِ آدم تعظیم و تکریم کے لائق ہیں۔اس میں رنگ و نسل ، صنف اور دیگر مصنوعی معیارات ناقابلِ التفات ہیں۔
حضرتِ فضہؓ کی روحانی تربیت:
خادمہ اگر اپنے مخدومہ کی خدمت کرے تو توقع کے عین مطابق ہے لیکن اگر مخدومہ بھی اپنی خادمہ کی خاطر زحمت کش نظر آئے تو ضرور باعث ِ حیرت ہے۔ حضرت فضہؓ بلاشبہ خانہ زہرا ؓمیں ایک کنیز کی حیثیت سے داخل ہوئی۔ لیکن بہت جلد اس نے ایک شہزادی کا مقام حاصل کیا۔ اس مقام کا کیا کہنا کہ جہاں تقسیم کار کا اہتمام کچھ اس طرح کا ہو کہ ایک دن حضرت فضہؓ گھر کا کام کرے اور دوسرے روز شہزادی کونین، خاتونِ محشرؓ تمام گھریلو امورات کی انجام دہی میں جناب فضہؓ کی مانند ہمہ تن مشغول ہو۔ کیا مساوات کی ایسی مثال کسی اور گھر میں مل سکتی ہے کہ بی بی پکائے اور باندی کھائے ؟اسی مساوات کا اثر تھا کہ حضرت فضہؓ بھی اس اہلبیت ؓکی معنویت سے دھیرے دھیرے مانوس ہونے لگی۔ اور تدریجاًتعلیم و تربیت کے مراحل طے کرنے لگیں۔ حضرت زہرا ؓکا حضرت فضہ ؓکے ساتھ تمام گھیریلو امورات مل بانٹا اس بات کی غمازی کرتا کہ حضرت فضہ کو دیگر معنوی، مذہبی اور تربیتی امور میں وقت صرف کرنے کا موقع دیا جارہا تھا۔ جس کا بھرپور فائدہ اٹھاکر حضرت فضہ ؓمعنوی اور علمی کمالات کے نت نئے مدارج طے کرتی گئیں۔یہ بات کسی علمی اور معنوی معجزے سے کم نہیں ہے کہ خانہ نبوت کی پروردہ ایک حبشی کنیز قرآنی علوم و معارف میں غوطہ زن ہوئیںاور وہ روز مرہ کی گفتگو قرآنی آیات کے توسط سے کرتی تھیں۔اسطرح اپنے مافی الضمیرکا اظہار قرآنی آیات کے وسیلے سے کرتی تھیں۔ جس سے یہ بات مترشح ہے کہ مادی اور جسمانی حقوق کے ساتھ ساتھ حضرت فضہ ؓکو خانہ زہرا ؓمیں معنوی حقوق بھی بدرجہ اتم دیئے گئے تھے۔ محبت و الفت، عزت و کرامت، تعلیم و تربیت، شرافت و معنویت جیسے تمام لازمی عوامل جو انسانی شخصیت کو پروان چڑھانے کیلئے نہایت ہی اہم ہوتے ہیں، حضرت فضہ ؓکیلئے اس گھر میں میسر تھے۔ علاوہ ازیں حضرت زہراؓ کی ریاضت وعبادت کے گہرے نقوش ان کی (حضرت فضہ ؓ) شخصیت پر نمایاں تھے یہی وجہ ہے کہ مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد اس کنیز نما شہزادی نے ایک حساس اور ذمہ دارانہ کردار نبھایا ہے۔
فقاہتِ جنابِ فضہؓ:
تاریخ سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ غلاموں اور کنیزوں کو ازدواجی زندگی سے اکثر و بیشتر محروم رکھا جاتا تھا اور بعض دفعہ اس فطری ضرورت کو پورا کرنا ان کے لئے بہت ہی مہنگا ثابت ہوتا تھا۔ عکس العمل اس کے حضرت فضہؓ کو جہاں دیگر حقوق حاصل تھے وہاں خود حضرت امیرؐ نے حضرت فضہؓ کا عقد تثعلبیہ نامی ایک شخض سے کرایا۔ لیکن یہ عقد طویل المدت ثابت نہ ہوسکا۔ صرف ڈیڑھ سال بعد ہی ثعلبیہ کا انتقال ہوگیا۔ کتاب الانساب کے مطابق پہلے شوہر کے انتقال کے چند روز بعد ہی ایک اور شخص سلیکہ نے حضرت فضہ ؓکے حضور خواستگاری کا پیغام بھیجا جسے حضرت فضہ ؓنے رد کیا۔ چنانچہ یہ دور حضرت عمرؓ کے زمانۂ خلافت کا تھالہٰذا سلیکہ نامی اس شخص نے خلیفہ کے اثرورسوخ کے توسط سے خواہشِ عقد کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عمرؓ نے جناب فضہ ؓکو طلب کیا اور خواستگاری کو رد کرنے کا سبب پوچھا تو حضرت فضہ ؓنے جوابا ًکہا کہ پہلے شوہر کے انتقال کے بعد ابھی شریعت اسلامی کے مطابق عدت کی مدت پوری نہیں ہوئی تھی اور اس مدتِ عدت کے د وران دوسرا نکاح خلاف شرع ہے۔ اور اگر بالفرض اسی دوران یہ دوسرا عقد بھی ہو جاتا تو یہ بھی ممکن تھا کہ فوت شدہ شوہر سے میں حاملہ ہوتی۔ اس صورت میں اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوتا کہ حمل پہلے شوہر سے ہے یا دوسرے شوہرسے ۔اور اگر اولاد ثعلبیہ کی ہوتی تو بغیر حق وراثت ،سلیکہ کی وراثت کی وارث قرار پاتی اور یوں سلیکہ کی اپنی اولاد کی حق تلفی ہوتی۔ اس واقعہ سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت فضہؓ نہ صرف شرعی احکام سے واقف تھیں بلکہ ان شرعی احکام کی توضیح و تشریح سے بھی آشنا تھیں۔ حضرت فضہؓ کا تفقہ دیکھ کر حضرت عمر ؓنے بے ساختہ ایک تاریخی جملہ کہا کہ’’ ابوطالب کے گھر کی جاریہ بھی بنی عدی سے زیادہ فقہ کی عالمہ ہے ‘‘)کتاب الانساب ابن حجرعقلانی بحوالہ جناب فضہ ؓمولف راحت حسین ناصری(
رابطہ۔7006889184

تازہ ترین