کورونا کے عروج کا وقت گزر چکا | مارچ تک قابو میں آنے کا امکان،سردیوں میں دوسری لہرکا اندیشہ : سرکاری کمیٹی

تاریخ    19 اکتوبر 2020 (30 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
 نئی دہلی //سرکار کی جانب سے کورونا پرتشکیل دی گئی سائنسدانوں کی کمیٹی نے کہا ہے کہ بھارت میں کورونا کا عروج گزر چکا ہے،تاہم سردیوں میں دوسری لہر خارج از امکان نہیں۔سرکاری پینل نے کہا کہ اگر حفاظتی اقدامات پر مناسب طریقے سے عمل کیا گیا تو اگلے سال مارچ تک وائرس کو کنٹرول میں لایا جاسکتا ہے ، فروری کے اختتام تک کم سے کم فعال معاملات ہوتے ہیں۔سرکار کی طرف سے تشکیل دئے گئے پینل میں انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور IITs کے ممبر شامل ہیں۔پینل نے اپنی رپورٹ مرکزی وزارت صحت کو سونپ دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران معاملات کی تعداد اشارہ کرتے ہیں کہ ملک کورونا وائرس کے عروج سے گزر چکا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر97ہزار کیسز سے تعداد کم ہو کر اب 60ہزار تک پہنچ گئی ہے۔وزارت صحت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ مجموعی معاملات 75لاکھ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ فعال مقدمات کی کل تعداد لگاتار دوسرے دن بھی آٹھ لاکھ سے نیچے رہی۔8 اگست کے بعد سے ، ہندوستان روزانہ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ اعداد و شمار داخل کرتا رہا ہے۔اتوار کو ، تقریبا دو مہینوں میں پہلے بار ، امریکہ کی تعداد زیادہ رہی۔پینل نے کہاجب تک وبائی بیماری اپنے سب سے آہستہ مقام پر پہنچے گی و تب تک فروری کا مہینہ گذرنے کو ہوگا اور ایک کروڑ سے زہادہ معاملات درج ہوچکے ہونگے۔سائنسدانوں کی کمیٹی نے کہا کہ اندازہ ہے کہ ہندوستان میں اب کورونا وائرس کا عروج گزر چکا ہے۔ حالانکہ ملک میں اس وبا ء کی دوسری لہر کے اندیشہ کو خارج نہیں کیا جاسکتا اور اس وجہ سے فروری 2021 میں ہندوستان میں کورونا کے کیسز 1.06  کروڑ سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسے میں ملک میں کورونا وائرس کے خلاف بچاو والے ضروری اقدامات ایسے ہی جاری رہنے چاہئیں۔سائنسدانوں کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان میں مارچ میں کورونا کے بڑھتے معاملات پر روک لگانے کیلئے لاک ڈاون نہیں کیا جاتا تو ملک میں اب تک کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کرجاتی ، لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے فائدہ ملا اور اب تک ملک میں 1.14  اموات ہوئی ہیں۔
 
 
 

کورونامیں کمی،24گھنٹوں میں578نئے معاملات |  مزید 7فوت، مہلوکین 1379، متاثرین کی مجموعی تعداد87942

پرویز احمد 

سرینگر //جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے، جبکہ اموات کی تعداد بھی کم ہوتی جارہی ہے۔اتوار کو مزید 7افراد فوت ہوگئے، جبکہ نئے معاملات صرف578ریکارڈ کئے گئے۔ مہلوکین کی مجموعی تعداد 1379تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 457جموں جبکہ کشمیر میں 92فوت ہوئے۔ اتوار کو 18سفر کرنے والوں سمیت مزید 578افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 87942تک پہنچ گئی ہے ۔ ان میں سے 35246جموں جبکہ کشمیر میں متاثرین کی تعداد 52696تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ 578متاثرین میں 385کشمیر جبکہ 193افراد  جموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر کے 385متاثرین میں 167سرینگر، 33بڈگام، 52بارہمولہ، 16پلوامہ، 32کپوارہ،49اننت ناگ، 15بانڈی پورہ، 14گاندربل اور 7کولگام  سے تعلق رکھتے ہیں۔ جموں  صوبے کے 193متاثرین میں 119جموں، 9راجوری، 12ڈوڈہ، 2کٹھوعہ،14پونچھ، 6سانبہ، 22کشتواڑ، 6رام بن اور 3ریاسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
 
 

مزید 7اموات

 پچھلے24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے مزید7افراد فوت ہوگئے۔ مرنے والوں میں 4 کشمیر جبکہ 3جموں صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ سرینگر میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’زینہ کدل سے تعلق رکھنے والی 56سالہ خاتون، والپورہ سے تعلق رکھنے والی 70سالہ خاتون، راج باغ سے تعلق رکھنے والا 60سالہ شخص اور لال بازار سے تعلق رکھنے والا ایک 75سالہ معمر شخص کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا  سے فوت ہوگئے‘‘۔سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ متوفین میں سے 2سکمز صورہ جبکہ 2صدر اسپتال سرینگر میں فوت ہوگئے۔ جموں صوبے میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 3افراد کورونا وائرس سے فوت ہوگئے جن میں  ایک جموں، ایک ڈوڈہ اورایک کٹھوعہ سے تعلق رکھتا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں تعینات ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ نروال ستواری جموں سے تعلق رکھنے والی ایک 83سالہ خاتون14دن اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد جی ایم سی جموں میں فوت ہوگئی۔ سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ مذکورہ خاتون گردوں کی بیماری میں مبتلا تھی اور اسلئے Dailysisپر تھی‘‘۔
 
 

حکومتی بیان

حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے87,942معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے8,677سرگرم معاملات ہیں ۔ اَب تک77,886اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد1,379تک پہنچ گئی ،جن میں سے 922کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور457کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران اتوار کو مزید598افرادشفایاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے288اَفراداور کشمیر صوبے کے 310اَفرادشامل ہیں۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 20,04,113ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  18؍اکتوبر 2020 ء؁ ء کی شام تک 19,16,171نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اَب تک6,27,750افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ اِن میں21,218اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔8,677  اَفراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ52,490اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِسی طرح بلیٹن کے مطاب5,43,986اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔
 

تازہ ترین