تازہ ترین

آرمینیا کیساتھ لڑائی، آذربائیجان کے 60 لوگوں کی موت

تاریخ    18 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


باکو//ارمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نارگورنو - کراباخ کی لڑائی کی شروعات سے لے کر اب تک 60 آذربائیجان شہریوں کی موت ہوگئی ہے جبکہ 270 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ملک کے استغاثہ جنرل دفتر نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔ایک سرکاری ویب سائٹ پر شائع ایک متعلقہ انفوگرافک کے مطابق،’’ آذربائیجان میں اب تک 60 شہریوں کی موت ہوئی اور 270 لوگ زخمی ہوئے ہیں،1704 مکان تباہ ہوئے ہیں اور قریب 90 کامپیکس اور عامرتیں تباہ ہوچکی ہیں۔
 
 

 سلامتی کونسل کی میٹنگ

اقوام متحدہ//آرمینیا اورآذربائیجان کے مابین نگورنو قاراباخ خطے میں جاری لڑائی پر تبادلہ خیال کیلئے بند دروازوں کے درمیان پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ ہونے جارہی ہے۔جمعہ کے روز یہ اطلاع اقوام متحدہ میں روسی مشن کے پریس سکریٹری فیڈراسٹریز زووسکی نے دی۔ فیڈراسٹریزز ووسکی نے کہا‘‘ پیر کی صبح تین بجے بند دروازوں کے درمیان سلامتی کونسل کا اجلاس ہوگا۔’’اس اجلاس کا مطالبہ منسک گروپ ، یوروپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم نے کیا تھا۔ خیال رہے27 ستمبر سے آرمینیا اور آذربائیجان کی فوجیں نگورنو-کاراباخ علاقے پر قبضے کے سلسلے میں پرتشدد لڑائی لڑ رہی ہیں۔ اس لڑائی میں اب تک دونوں جانب سے بہت سے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔روس کی ثالثی کے بعد دونوں ممالک 10اکتوبر کو جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر راضی ہوگئے تھے ، لیکن لڑائی پھر شروع ہوگئی ہے۔
 
 

ترکی ناگورنو کاراباخ کی صورتِ حال بگاڑ رہا ہے: پومپیو

لندن//امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ترکی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے آذربائیجان کو اسلحہ فراہم کرکے صورتِ حال کو بدتر بنا دیا ہے۔مائیک پومپیو کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب آرمینیا اور آذربائیجان کی افواج میں جمعے کو بھی جھڑپیں ہوئی ہیں اور تین ہفتے سے جاری اس جنگ کے ختم ہونے کی امیدیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے رواں برس آذربائیجان کو اسلحہ کی سپلائی میں چھ گنا اضافہ کیا ہے۔ روس دونوں ممالک کے قریب ہے مگر اس نے آرمینیا سے دفاعی معاہدہ کر رکھا ہے۔خبر رساں ایجنسی 'آر آئی اے' نے خبر دی ہے کہ روس نے بحیرہ کیسپئین میں منصوبے کے تحت فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔آذربائیجان میں عالمی منڈیوں کو تیل اور گیس کی سپلائی پہنچانے والی پائپ لائن کے قریب جاری جنگی کارروائیوں سے یورپ اور امریکہ کو یہ فکر لاحق ہو گئی ہے کہ ترکی اور روس جو کہ پہلے ہی شام اور لیبیا پر کھچاؤ کا شکار ہیں، اس لڑائی میں کود سکتے ہیں۔مائیک پومپیو نے ڈبلیو ایس بی ایٹلانٹا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ترکی نے آذربائیجان کو وسائل مہیا کر کے تنازع کو بدتر کر دیا ہے۔ پومپیو کا کہنا تھا کہ مسئلے کے سفارتی حل کی ضرورت تھی نہ کہ ممالک تیسرے فریق کے طور پہلے سے بارود کے ڈرم پر کھڑی صورتحال کو مزید بارود فراہم کرتے۔تاہم اگر روس اور ترکی اس جنگ میں کود پڑتے ہیں تو پھر انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔نوگورنو کارباخ میں بیسمنٹ بم حملوں سے بچنے کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔