غزلیات

تاریخ    18 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


تھا با ضمیر جُرم کا اقرار کرگیا
پیچ و خمِ نگاہ کو ہموار کر گیا
 
کیسی تھی یہ نگاہ جو پتھرا گئ مجھے
یہ کون مجھکو نقش بہ دیوار کرگیا
 
دیوار و در کی قید میں محفوظ تھا بہت
کھڑکی کھلی تو مجھ پہ کوئی وار کرگیا
 
تھی سوچ منفرد تو سزا یہ ملی مجھے
دشمن میں اپنی جان کا سنسار کر گیا
 
 یہ کس کی سازشوں سے تھی مسموم سب فضا
انصارکو بھی کون یہ اغیار کر گیا
 
اندوہ و انبساط کا ادراک ہے کہاں
میں سرحدِ شعور کو اب پار کر گیا
 
دل میں کچھ ایسے اُترا ہے تیکھی نظر کا تیر
 دل ہی نہیں جگر پہ بھی یلغار کرگیا
 
بسملؔ وفا،خلوص بھی بکنے لگے یہاں 
انسان آج گھر کو بھی بازار کر گیا
 
خورشید بسملؔؔ
تھنہ منڈی،راجوری
موبائل نمبر؛9086395995 
 
 
عشق کے نصابوں میں نت نئے خسارے ہیں
اْڑ رہی ہوائیں ہیں گر رہے غبارے ہیں
 
رات کی منڈیری پر ہم بھی ڈھونڈ لیں سورج
لوگ دن کے آنگن میں گِن رہے ستارے ہیں
 
حد میں اپنی رہنا تھا بارشوں کے موسم میں
زد پہ سیلِ دریا کے اپنے ہی کنارے ہیں
 
روح کے صحیفوں کی گرد جھاڑ لینے دو
جسم کی یہ دیواریں ڈھونڈتی سہارے ہیں
 
آؤ بانٹ لیتے ہیں خواب جاگی راتوں کے
وصل کے تمہارے ہیں ہجر کے ہمارے ہیں
 
گھٹتے بڑھتے جانا ہے ساتھ چھوڑ دینا ہے
اپنے اپنے سائے میں وقت کے اشارے ہیں
 
سرخ رنگ آنکھوں کے خواب کی درازوں میں
پڑھتے رہنا شیداّ ؔجی درد کے شْمارے ہیں
 
علی شیداّؔ
نجدون نیپورہ 
اسلام آباد،کشمیر موبائل نمبر؛9419045087
 
 
کسی گُل سے مرا بندھن کہاں ہے
مرا کردار اب چندن کہاں ہے
ستارے، تتلیاں گُل اور شرارت
جو بچپن میں تھا وہ بچپن کہاں ہے
اٹھائی تیغ کیوں ہاتھوں میں ہم نے
ہمارے سامنے دشمن کہاں ہے  
ہے موسم ہر طرف اب بھی خزاں کا
تمہارے شہر میں ساون کہاں ہے
گلوں سے آئے بس خوشبو وفا کی
محبت سے بھرا آنگن کہاں ہے
وفا کا عکس تھا محفوظ جس میں
بتادو آج وہ درپن کہاں ہے
ہیں تیرے شعر ساحلؔ خوبصورت
مگر تیری غزل میں فن کہاں ہے 
 
مراد ساحل
دوحہ، قطر ،
muraddhangu@gmail.com
 
 
ہے یقیں سر سبز ہوگا نخلِ ہستی ایک دن 
اس طرف بھی آے گی بارش برستی ایک دن 
آب و دانہ کے لئے تا عمر جھیلے ہیں ستم 
ہم  نے کیا دیکھی یہاں پر تنگ دستی ایک دن 
عیش و عشرت رنگ و بو کے چار دن یوں کاٹ کر 
چھوڑ کے جانا پڑے گا باغِ ہستی ایک دن 
اس قدر وحشت نہیں دل کو حریفوں سے مگر 
مار ڈالے گی مجھے بس خود پرستی ایک دن 
ماہِ نو روشن کرے گی پھر ہمارے بام و در
ظلمتِ شب سے رہا ہوگی یہ بستی ایک 
آج وحدت کے رواں ہیں ہر طرف چشمےجہاں
معتبر تھی اس جگہ پر بت پرستی ایک دن
مال و زر پر جان و تن جس نے کیا ہر دم فدا 
راس اس کو آے گی کیا فاقہ مستی ایک دن 
خواب میں سوچا نہ تھا عارفؔ یہاں پر زندگی
آبِ دریا سے زیادہ ہوگی سستی ایک دن
 
جاوید عارفؔ
شوپیان کشمیر 
موبائل نمبر؛7006800298
 
 
جب محبت سے وہ پیش آنے لگے
زخم میرے سبھی مسکرانے لگے
 
جھاڑیوں میں چھپا ہے درندہ کوئی
کیوں پرندے سبھی پَھڑ پَھڑانے لگے
 
روٹھنے میں اسے ایک پل نہ لگا
اور منانے میں اس کو زمانے لگے
 
خواب چُبھنے لگے میری آنکھوں میں اب
تیرے وعدے مجھے اَب ستانے لگے
 
بے وفائی میں جن کا بڑا نام ہے
مجھ کو رسمِ وفا وہ سکھانے لگے
 
سب سے آساں ہدف تھے ہمیں اے ثمرؔ
ہر طرف سے ہمیں پر نشانے لگے
 
سحرش ثمرؔ
فردوس نگر۔علی گڑھ
 
 
 
 
غزلیات
کچھ تو مجبوری ہے زمانے کی
غم چھپا کر بھی مسکرانے کی
لگی ہے شرط پھر اُجالوں کی
ہوا کے رُخ پر دِیا جلانے کی
ہمیں تھا شوق دل لگانے کا
ہمیں سزا بھی ملی دل لگانے کی
آرزو ہے رقیب کی میرے
ہمیں تو خاک میں ملانے کی
گلہ دشمن سے کیوں کروں میں
بات ہے دوستی نبھانے کی
اب تو عادت سی ہوگئی شاہینؔ
پھول ویرانوں میں اُگانے کی
 
رفعت آسیہ شاہین
وشاکھا پٹنم آندھرا پردیش
موبائل نمبر؛9515605015
 
کھویا ہے تو کن خیالوں میں رقیب! 
ان سیہ بالوں یا گالوں میں رقیب
ہاتھ میرا دیکھ کر ان ہاتھوں میں
پڑ گیا آخر سوالوں میں رقیب
کیا بتاؤں شہر والوں کا تمہیں! 
سب سے اچھا شہر والوں میں رقیب
دوستی گہری تھی پہلے دونوں میں 
ہوگئے دو ایک سالوں میں رقیب 
چھوڑنے والا ہی تھا اس کو مگر! 
آ گیا یکسر خیالوں میں رقیب
ہاں مثالوں میں ہوں سر فہرست میں
غم تو یہ ہے، بے مثالوں، میں رقیب
وہ پری حاصل ہوئی، تُو ہے سبب
جا..! رہے تو بھی اجالوں میں رقیب
تو نے بسملؔ فتح پائی آخرش
رہ گیا ناکام، چالوں میں رقیب
 
سید مرتضیٰ بسملؔ
طالب علم :شعبہ اردو ساؤتھ کیمپس، 
یونیورسٹی آف کشمیر
شانگس اسلام آباد کشمیر 
موبائل نمبر؛6005901367
 
نِڈر بھی پیشہ ور بھی دیکھتا ہوں
میں خود کو بے ہُنر بھی دیکھتا ہوں
جگر شاہین کا ہے مجھ میں لیکن
میں اپنے بال و پر بھی دیکھتا ہوں
برستے دیکھتا ہوں تیر و خنجر
میں سینوں کی سِپر بھی دیکھتا ہوں
بہت جذبہ تھا تیری لے میں واعظ
میں اب اِس کا اثر بھی دیکھتا ہوں
دغا ہر پل مِرا تو خندہ ہر دم
یہ کارِ درگزر بھی دیکھتا ہوں
اندھیری وادیوں کے سِلسِلوں میں
کلیمی کا شرر بھی دیکھتا ہوں
میں اپنی بے ادب پلکوں کو اکثر
شبِ آخر میں تر بھی دیکھتا ہوں
بجا لمبی ہے غم کی رات مضطرؔ
میں اِک دُھندلی سحر بھی دیکھتا ہوں
 
اعجاز الحق مضطرؔ
کشتواڑ ،
موبائل نمبر؛9419121571
 
بن آئینے کے سنورنا کیسے ممکن ہو
  اک رند کا سدھرنا کیسے ممکن ہو
 
 سوچ کر مجھ سے رشتہ جوڑ لینا
عادت ہوئی تو بچھڑنا کیسے ممکن ہو
 
جو آندھیوں میں بھی ہاتھ نا چھوڑے
پھر گر کر بکھرنا کیسے ممکن ہو
  
  مانا کہ ایک دن اچانک گر گئے
وہی ہر روز پھسلنا کیسے ممکن ہو
 
ہر روز بدلتے رہے تم پتہ اپنا
گھر کا نقشہ بدلنا کیسے ممکن  ہو
 
  ہائے ! سبھی وعدوں پہ یقین کیا میں نے
اور تمہارا یوں بدلنا کیسے ممکن ہو
 
تمہیں غم کیوں ہے منتظر کسی کا ؟
  زور زور سے مچلنا کیسے ممکن ہو
 
منتظر ؔیاسر 
فرصل کولگام کشمیر
موبائل نمبر؛ 9682649522
 
 

تازہ ترین