تازہ ترین

گپکار اعلامیہ پر آج گپکار میں بیٹھک

محبوبہ مفتی سے ڈاکٹر فاروق، عمر عبداللہ اور سجاد لون کی ملاقاتیں، خالدہ شاہ کا ٹیلی فون

تاریخ    15 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی

  سبھی دستخط کنند گان کو شرکت کی دعوت، آئندہ لائحہ عمل پر اہم مشاورت ہوگی

 
سرینگر// پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی کی14ماہ کی رہائی کے بعد نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج اپنی رہائش گاہ پر’’ گپکار اعلامیہ‘‘ کے دستخط کنندگان کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس سے قبل بدھ کوڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبدا للہ نے محبوبہ مفتی سے انکی رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی جبکہ شام کو پیپلز کانفرنس چیئر مین سجاد غنی لون بھی ان سے ملنے آئے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر گپکار اعلامیہ کے فریقین کیلئے سہ پہر4 بجے میٹنگ طلب کی ہے،جس میں منگل کو14ماہ طویل عرصے کی رہائی کے بعدمحبوبہ مفتی کو بھی شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ۔ گپکار میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں14ماہ بعد متوقع طور پر اس اعلامیہ پر تمام دستخط کنندگان سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور امکانی طور پر آئندہ کا لائحہ عمل اور ایجنڈا مرتب کیا جائے گا۔ڈاکٹر عبداللہ نے بدھ کو عمر عبداللہ کے ہمراہ محبوبہ مفتی سے ملاقات کی۔عمر عبداللہ نے میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ محبوبہ مفتی کو سا ڑھے 14ماہ کی قید کے بعد سپر یم کورٹ کی ہدایت پر رہا کیا گیا ہے، ہم ان سے ملاقات کیلئے آ ئے ہیں اور خبر پرسی کے لئے یہاں پہنچے ہیں اس میں کو ئی سیا سی مقصد نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا ’’جہاں تک سیاسی گفتگو کی بات ہے، اس کے لئے ہم نے جمعرات کا دن مقرر کیا ہے‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے گزارش کی کہ وہ جمعرات کو 4 بجے ان کے گھر پر تشریف لائیں‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ گپکار اعلامیہ کے سبھی دستخط کنندگان کو فاروق عبداللہ نے میٹنگ کے لئے دعوت دی ہے،جبکہ محبوبہ جی نے کہا کہ وہ اس میٹنگ میں شرکت کریں گی‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’اس مجوزہ میٹنگ کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال پر بحث ہوگی،جبکہ گپکار اعلامیہ کے حوالے سے آئندہ کا ایجنڈا کیا رہے گا اس پر بات چیت ہوگی‘‘۔دریں اثناء محبوبہ مفتی نے اپنی ایک ٹویٹ میں فاروق عبداللہ کا ان کے گھر پر تشریف لانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم یک جٹ ہو کر مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔اس دوران پیپلز کانفرنس چیئرمین سجاد غنی لون نے بھی ان سے شام کے وقت ملاقات کی،اور محبوبہ مفتی کی خیر و عافیت پوچھی۔اس ملاقات میں نعیم اختر بھی موجود رہے۔رسمی ملاقات میں گپکار اعلامیہ اور دیگر سیاسی معاملات پر گفت و شنید کی گئی۔
ادھر عوامی نیشنل کانفرنس کی سرپرست خالدہ شاہ نے محبوبہ مفتی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے ان کی رہائی کا خیرمقدم کیا۔ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ خالدہ شاہ نے محبوبہ مفتی سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔انہوں نے کہاآر ایس ایس کی سربراہی میں تفرقہ بازی کرنے والی طاقتوں کے کہنے پر کیے گئے غیر آئینی ، غیر قانونی فیصلے سے پورے ملک کو خطرہ لاحق ہے۔خالدہ شاہ نے جموں و کشمیر کے وقار اور اس کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کے لئے سیاسی پارٹیوں میں اتحاد کو اہم قرار دیا۔ اس دوران اے این سی کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے پی ڈی پی سربراہ کی رہائی کا خیرمقدم کیا اور تمام سیاسی قیدیوں بشمول انجینئر رشید کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ادھر محبوبہ مفتی نے منگل کی شام رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک منٹ اور 23 سیکنڈ طویل آڈیو بیان میں کہا کہ5 اگست 2019 کو ان کے بقول جموں و کشمیر سے چھینی گئی خصوصی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہم سب کو سخت جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص5 اگست 2019 کی 'ڈاکہ زنی اور ’’بے عزتی‘‘کو بھول نہیں سکتا ۔ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ جو ’’'دلی دربار‘‘' نے پانچ اگست 2019 کو غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر قانونی طریقے سے ہم سے چھین لیا ہے اسے واپس حاصل کرنا ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا’’بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر جس کی وجہ سے جموں و کشمیر میں ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں اس کو حل کرنے کے لئے ہمیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی‘‘۔ان کے بقول’’میں مانتی ہوں کہ یہ راہ قطعاً آسان نہیں ہوگی لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم سب کا حوصلہ اور عزم یہ دشوار راستہ طے کرنے میں ہمارا معاون ثابت ہوگا‘‘۔محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کشمیر سے باہر کی جیلوں میں بند کشمیری نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا’’آج جبکہ مجھے رہا کیا گیا ہے میں چاہتی ہوں کہ جموں و کشمیر کے جتنے بھی لوگ ملک کی مختلف جیلوں میں بند پڑے ہیں انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے‘‘۔
 

فیئر وویو میں رونقیں بڑھ گئیں

سرینگر/بلال فرقانی/ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی 14ماہ کی رہائی کے بعد بدھ کو انکی سرکاری رہائش گاہ واقع فیر ویو گپکار کے باہر اور اندر زبردست چہل پہل دیکھنے کو ملی مرکز کی جانب سے5اگست2019کو جموں کشمیر کے آئین کی تخصیص اور تقسیم کے ساتھ ہی گزشتہ ایک برس سے پی ڈی پی سے ایک ایک کرکے لیڈراں کا اخراج  جاری رہا،اور پی ڈی پی کو جھٹکے پر جھٹکے لگے۔ پی ڈی پی جو اپنی موجودگی  کے حوالے سے بظاہر دم توڑ چکی تھی،محبوبہ مفتی کی رہائی کے بعد  پارتٰ میں جیسے جان آگئی ہے۔بدھ کو انہیں ملنے کیلئے بزرگ کارکنوں سے لیکر نوجوانوں اور پارٹی لیڈروں کا دن بھر تانتا بندھا رہا۔ چہل پہل کے مناظر سے ایسا نظر آرہا تھا کہ پارٹی میں ابھی کافی جان باقی ہے،اور کارکنوں کو بھی محبوبہ مفتی پر کافی اعتماد ہیں۔ بدھ کی صبح سب سے پہلے  محبوبہ مفتی نے 14ماہ بعدپہلی بار پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔ میٹنگ کے دوران کئی امور پر بات چیت کی گئی۔محبوبہ مفتی کے میڈیا ایڈوائزر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پی ڈی پی لیڈران بہت خوش ہیں کہ پارٹی صدر کو رہا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا’’پارٹی کے کئی سینئر لیڈران نے یہاں محبوبہ جی سے ملاقات کی، اس کے علاوہ کئی ورکر بھی ان سے ملے،اور ملاقات کا یہ سلسلہ چند روز تک جاری رہے گا‘‘۔ پارٹی کارکنوں کا کہنا تھا کہ محبوبہ مفتی وقار کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔جموں و کشمیر کی ریاست کی پہلی اور آخری وزیر اعلی محبوبہ کی شبیہ کو بڑھانے کے لئے پی ڈی پی سماجی میڈیاکا استعمال کرتے ہوئے اپنی پارٹی کارکنوں کے ساتھ ملاقاتوں کی ویڈیو اور تصاویر شائع کر رہی ہے۔جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکن نور محمد ، جو بڑھاپے کی وجہ سے بمشکل سیدھے کھڑے ہوسکتے ہیں ، ان لوگوں میں شامل تھے ، جنہوں نے محبوبہ مفتی سے ان کی رہائی کے 24 گھنٹوں بعد ملاقات کی۔اس بزرگ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’میں صبح 6 بجے گھر سے روانہ ہوا تاکہ یہ یقینی بنایا جا ئے کہ میں اپنی بہن اور رہنما محبوبہ جی سے ملاقات کے بعد ہی واپس آؤں ۔ گزشتہ ایک برس سے محبوبہ مفتی کے گھر کے باہر ویرانی چھائی تھی،اور بیشتر پارٹی لیڈروں نے الطاف بخاری کی قیادت والی اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ پارٹی کے سنیئر لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی وچی اعجاز احمد میر نے سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پر تحریر کیا’’  انکی ثابت قدمی ،عزم اور مثالی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں‘‘۔ 

تازہ ترین