رعنا ایوب …عزم و ہمت کا عملی پیکر

بے باک اور بے لاگ صحافت کا دوسرا نام

تاریخ    15 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


محمد اشرف
ایک دور تھا جب صحافی سماج کا آئینہ دار ہوا کرتا تھا ،قلم آزاد ہوا کرتا تھا، سچ کو سچ لکھا جاتا تھا اورجھوٹ کو جھوٹ ،حق ببانگ دہل بیان کیا جاتا تھا،مظلوموں کو انصاف دلانے والے زیر عتاب نہیں لائے جاتے تھے۔اُس دور کاصحافی دیدہ زیب لباس نہیں پہنتا تھا ، بڑی گاڑیوں میں نہیں چلتا تھا؛ لیکن ایک زندہ دل رکھتا تھا، ایک جگر رکھتا تھا۔تنخواہیں کم ہوتی تھیں لیکن صفت بے نیازی و غنی سے متصف ہوتا تھا۔ حاکم وقت کے کھنکتے سکوں کا اسیر نہیں تھا۔صحافت ایک پیشے سے زیادہ جنون تھی۔ اب وہ دن تقریباً ہوا ہوگئے۔ صحافت اب میڈیا سے میڈیا ہائوسز میں تبدیل ہوگئی۔ ایک نفع بخش تجارت بن چکی ہے۔ آج کی صحافت عوام کی آواز نہیں چڑھتے سورج کی پجارن ہے۔ برسر اقتدار جماعت کے کوٹھے کی رقاصہ ہے۔ پونجی پتیوں اور ساہوکاروں کی داشتہ ہے۔ اسے مطلب ہے تو صرف اپنے بزنس سے، چاہے اس کے لیے ملک و قوم کو سولی پے ٹانگنا پڑے، چاہے اس کے لیے بے شرمی کی ہر حد پار کرنی پڑے۔چاہے تہذیب و ثقافت کا بیڑہ غرق ہوجائے۔چاہے کسی سماج و کسی طبقہ کی زندگی اجیرن ہوجائے، اسے اس سے کوئی غرض نہیں ۔ آج کا صحافی ، صحافی نہیں جج ہے۔یہ باتیں کڑوی ضرور ہیں لیکن یہی آج کی صحا فت کی سچائی ہے ۔
موجود ہ دور میں صحافت کے گرتے ہوئے معیار کے باوجود ایسے جیدار، بے باک و بے خوف صحافی موجود ہیں ، جن کی آواز باطل کے ایوانوں میں لرزہ ضرور پیدا کردیتی ہے۔انہی خوش نام صحافیوں میں ایک معتبر نام رعنا ایوب کا بھی ہے۔تہلکہ میگزین کی سابق سینئر رپورٹر ،بہادر ،بے خوف ،نڈر ،جرأت مند ،،باحوصلہ ،پر عزم ، بیباک، ،گجرات فائلز کی مصنفہ ،ملکی وغیر ملکی سیاست پر بے باک ،بے لاگ اور بے خوف تجزیے کرنے والی ،اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے آواز اٹھانے والی ،نا انصافی کے خلاف بولنے اور لکھنے والی ،حق کی آواز ،واشنگٹن پوسٹ کی کالم نگار ،ورڈس ان ٹائم ، نیو یارکر ،این وائی ٹی ،گارجین جیسی میگزین کے لئے لکھنے والی ،امریکہ ،لندن،چائنا،دبئی،قطرسمیت دنیا بھر کے ممالک کا دورہ کر کے اقلیتوں کے خلاف ہو رہی سازشوں کو آشکارا کرنے والی ،بڑی بڑی انسانی حقوق و دیگر تنظیموں کے بلاوے پر لاکھوں عوام کو خطاب کرنے والی ،صحافت میں منصفانہ کار کردگی نبھانے پر سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبد الکلام کے ہاتھوں سنسکرتی ایوارڈ یافتہ ،گجرات فسادات میں اعلی عہدوں پر براجمان سیاسی لیڈروں ،پولیس افسران اور دیگربڑی بڑی مچھلیوں کی شمولیت کا نکشاف کرنے پر سٹیشن آف ایکسی لینس ایوارڈ حاصل کرنے والی ،صحافت میں جرأت مندانہ کردار ادا کرنے پر میک گل میڈل حاصل کرنے والی ،اقلیتوں اور مظلوموں کی مؤثر آواز ،بنا کسی خوف کے ظالم کو ظالم کہنے والی ،آمر حکمراں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی ،غلط کو غلط ،صحیح کو صحیح کہنے والی ،صحافی کے قلم کا پاس و لحاظ رکھنے والی ،کبھی نہ بکنے والی اور نہ ہی کسی کو کبھی خریدنے کا موقع دینے والی ہندوستان کی بیٹی اور محبان وطن کی آس و امید کا نام رعنا ایوب ہے۔
صحافت کے معیار کو بلند رکھنے والی رعنا ایوب 1984 ء میں سرزمین لوح و قلم اعظم گڑھ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی پیدائش کوابھی ایک ہی مہینہ گذرا تھا کہ ان کے والد محترم ممبئی منتقل ہوگئے اور یہیں آباد ہوگئے۔رعنانے یہیں سے تعلیمی سفر شروع کیا اور صوفیہ کالج سے بی۔اے اور ماس کمیونکیشن میں ایم،اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد عملی میدان میں قدم رکھا اور اپنی ایک علاحدہ شناخت قائم کی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا نام ٹائم میگزین نے ان دس عالمی صحافیوں میں شامل کیا ہے جنہیں اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 
 گجرات فائلز(پس پردہ حقائق) کی رسم اجرا کی ایک تقریب میں رعنا بتاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے اسٹنگ آپریشن کر کے گجرات فسادات کی حقیقت لکھی۔ اسے تہلکہ (جس کے لئے انہوں نے یہ اسٹرنگ آپریشن کیا تھا)نے ہی نہیں بلکہ کسی بھی اخبار یا رسالہ نے شائع کرنے سے انکار کر دیا۔موصوفہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں لیکن اس اسٹنگ آپریشن کے لئے انہوں نے اپنا حلیہ ،شناخت اور تعارف سب کچھ بدل کر گجرات فسادات کے ذمہ داروں تک آر ایس ایس نظریہ کی حامی میتھلی تیاگی بن کر پہنچی ،آٹھ ماہ تک اس حلیے میں رہیں ۔گجرات فسادات کے دوران پیش آئے ان حقائق تک پہنچیں جسے منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا ،فرضی انکاؤنٹروں کا پردہ فاش کیا ،فسادات میں ملوث افراد کو جیل بھجوانے میں معاون بنیں۔ انہوں نے ان تمام واقعات کی مکمل تفصیل اپنی مشہور زمانہ کتاب گجرات فائلز (پس پردہ حقائق)میں درج کی ہے ۔یہ کتاب ان باضمیر افراد کے لئے ایک پیغام ہے جو پڑھنے کے بعد سوچیں کہ ان پر جو حکمرانی کر رہے ہیں وہ کیسے افراد ہیں ۔ ایک سال کے اندر اس کے بارہ زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں اور اس کتاب کے سلسلے میں وہ اب تک پانچ سو تقریبات میں شامل ہو چکی ہیں ۔ گجرات فائلز کے منظر عام پر آنے کے بعد ایوان اقتدار میں زلزلہ برپا ہوگیا ،جان سے مارنے کی دھمکیاں تک دی جانے لگیں ،انسانی حدوں کو پھلانگنے والے، انسانیت سوز جرائم کے مرتکب ،انسانیت سے عاری ،انسانیت پر کلنک افراد،حاملہ خاتون کے پیٹ کو چاک کر کے جنین کو ترشول پر نچانے والے ان کی عزت و آبرو تار تار کرنے کی دھمکیاں دینے لگے ۔ان ساری دھمکیوں کے باوجود رعنا ایوب ڈنکے کی چوٹ پر حقیقت کو اجا گر کرتی رہیں اوربے گناہوں کے قاتلوں کو بے نقاب کرتی رہیں جس کے سبب آج دنیا کے بہترین نڈر صحافیوںمیں ان کا شمار ہوتا ہے۔ اس کتاب کے لئے آج تک نہ کوئی ہتک عزت کا معاملہ دائر ہوا ہے اور نہ ہی کتاب کو ضبط کیا گیا ہے ۔اتنا ہی نہیں جن افسران کا اسٹنگ آپریشن کر کے انہوں نے گجرات فسادات کے پیچھے اصل باتوں کا پتہ لگایا، ان افسران نے بھی کوئی اعتراض آج تک درج نہیں کرایا جس کے لئے وہ ان کا شکریہ اد اکرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ کی مخالف نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی ہے۔ گجرات فسادات کے ضمن میں ہی اس وقت کی فوج کے جنرل نے کہا تھا کہ اگر انہیں بر وقت گاڑیاں اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہوتیں توسینکڑوں لوگوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے ملک کے میڈیا کی ایک بڑی جماعت جس وقت کرونا جیسی وبا کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی، ایسے وقت میں رعنا ایوب نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود تڑپتی انسانیت کے لئے خود کو وقف کر دیا ۔رمضان کے ایام میں موصوفہ روزہ رکھ کر بھوک پیاس کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے اپنے گھر سے دور پریشان حال مزدوروں کی ہر ممکن مدد کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔کشمیر کے تعلق سے سوشل میڈیا پرتصاویر اور تبصرہ کرنے پر موصوفہ کو کئی بار جان سے مارنے وعصمت دری کی دھمکی بھی موصول ہو چکی ہے جس کی شکایت پر ممبئی پولیس نے تحقیقات بھی کی ہے ۔کشمیرسے متعلق رعنا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک تین سالہ بچے کا فوٹو شیئر کیا تھا جس میں وہ بچہ اپنے نانا کی لاش کے بازوؤں میں غمزدہ بیٹھا ہواہے اور تبصرے میں لکھا ہے کہ ہندوستان میں کشمیریوں کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آگے لکھتی ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ ہمیں کشمیر کی زمین کی فکر ہے لیکن ہمارے دلوں میں کشمیریوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے نیز وادی کشمیر میں ہونے والی اس قتل و غارت گری پر کسی کو افسوس نہیں ہے ۔مزید لکھا تھا کہ ایک ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے ان کا سر ان تمام چیزوں کو دیکھ کر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں مغلظات کا شکار ہونا پڑا تھا جس کا اسکرین شاٹ لے کر رعنا نے نوی ممبئی پولیس کے حوالے کیا جن میں انہیں جان سے مارنے اور عصمت دری کئے جانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ انہوں نے جب اس کی شکایت نوی ممبئی پولیس کے ٹویٹراکاؤنٹ پر کی تو مقامی کوپر کھیر کے پولیس اسٹیشن کے ایک افسر نے ان کے گھر آکر ان سے ملاقات کی اور ان سے پوچھ تاچھ کی جس پرانہوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں کل پولیس کو اپنا بیان دیں گی اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ فیس بک،ٹویٹر اور انسٹا گرام پرموصول ہونے والی ان دھمکیوں کی نقول بھی بطور ثبوت پیش کریں گی۔محض 26سال کی عمر میں جب انسان کے قلب پر عشق و محبت حسیں جذبات جلوہ فگن ہوتے ہیں، ہاتھوں میں افسانوی مجموعہ ہوتا ہے اور احساسات و جذبات کے دریا میں تلاطم برپا ہوتا ہے، اس عمر میں رعنا ایوب نے وطن کی محبت میںماں کی شفقت تک کو قربان کر دیا اور نکل پڑیں ایسی راہ پر جس میں ہر قدم پر موت ان کو خوش آمدید کہہ رہی تھی ،دہشت کے سائے ساون کے گھنے سیاہ بادلوں سے بھی زیادہ خوف زدہ کرنے والے تھے مگر رعنا ایوب سفر کی ان مشکلات کو حوصلوں کے بل پر کچلتی ہوئی آگے بڑھتی رہیں اور حقائق کی تلاش میں لمحہ بھر غفلت و کوتاہی کا شکار نہیں ہوئیں ۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے 8مہینہ اپنی والدہ سے گفتگو بھی نہیں کی ،ای میل کے ذریعہ خیریت دریافت کرنے کا سلسلہ رہا ،جو ایک کم عمر لڑکی کے لئے انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ رعنا ایوب تاریخ کے صفحات میں مثال بن گئیں۔
(مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد میں ایم سی اے کے طالب علم ہیں)

تازہ ترین