ابن ِ آدم کا شکار بنت ِ حوا

سوچ پراگندہ ہو تو قانون کی لاٹھی کیاکرے گی!

تاریخ    15 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


الطاف حسین جنجوعہ
مرد وخواتین ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیںاور دونوںکے وجود کا ایکدوسرے کے بغیر تصور بھی نہیں کیاجاسکتا لیکن ’پدرانہ ذہنیت ‘رکھنے والے ہمارے معاشرے کے اندر عصر ِ حاضر میں بھی صنف ِ نازک خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہی۔آج بھی بنت ِ حوامتعدد اقسام کے تشدد کاشکار ہے۔ پچھلے چند برسوں سے ہرسال انڈیا میں کوئی نہ کوئی تشدد کا معاملہ میڈیا کے ذریعے زیادہ منظر ِ عام پر آتا ہے لیکن سرکاری اعدادوشمار اور کئی غیر سرکاری انسانی حقوق تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے تیار کردہ رپورٹوں میں انڈیا سے متعلق جوانکشاف کئے گئے ہیں وہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔یہ کہاجارہا ہے وہ ملک جہاں پر بیٹیوں کی پوجاکی جاتی ہے، وہ اُن کے لئے محفوظ نہیں۔ ان دنوں ملک بھر میں ریاست اُترپردیش کے گاؤں ہاتھرس میں اجتماعی عصمت دری اورقتل کا معاملہ موضوع ِ بحث ہے۔ اس سے قبل سال 2019کوریاست تلنگانہ میں میں لیڈی ڈاکٹر پریانکا ریڈی کی ہلاکت ،2018میں آصفہ اور 2012میں دامنی کے بعد انڈیا میں خواتین پر تشدد اور ’ریپ‘ پر بحث چھڑ ی جس میں سخت قوانین بنائے جانے کا مطالبہ کیاجانے لگا ،حکومتی سطح پر قوانین میں ترامیم بھی ہوئیں، لیکن اِ س سے بھی تشدد اور جرائم میں کمی کی بجائے بتدریخ اضافہ ہورہا ہے۔ ’نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے حال ہی میں جاری رپورٹ چشم کشا ہے۔ اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ’ریپ‘ کیا جاتا ہے۔این سی بی آر کی 2019کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، ریپ، ان پر تیزاب سے حملے، انہیں ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور گزشتہ برس سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ انڈیا میں ہر16منٹ بعد خواتین کی عصمت کو تار تار کیاجاتا ہے اور ہر ایک گھنٹے میںجہیز کی وجہ سے خاتون کی موت ہوگی ہے۔ ہر30گھنٹوں کے اندر کسی نہ کسی خاتون کا ’ریپ‘ یا ’گینگ ریپ‘ کیے جانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔بھارت بھر میں 6 منٹ کے اندر کوئی نہ کوئی خاتون بدسلوکی، ہراسانی اور تشدد کا شکار بنتی ہے جب کہ ہر چارمنٹ کسی نہ کسی خاتون کو اپنا شوہر، سسر یا دیگر اہل خانہ نشانہ بناتے ہیں۔لیکن خواتین کے خلاف ظلم وستم اور تشدد کی ایسی وارداتوں کی تعداد اس سے کئی زیادہ زیادہ ہے جوکہ رپورٹ ہی نہیں ہوتی۔ این سی آر بی کی رپورٹ تو اُن اعدادوشمار پر مبنی ہے جس میں متعلقہ پولیس تھانوں میں باقاعدہ مقدمات درج کئے گئے ہوں۔’ریپ‘ کا نشانہ بنائی گئی خواتین زیادہ تر جان پہچان والے افراد، رشتہ داروں، دوستوں اور مدد کرنیو الے افراد کی جانب سے نشانہ بنتی ہیں۔تشدد، بدسلوکی، ہراسانی اور ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین میں 6 سال کی بچیوں سمیت 60 سال تک کی خواتین شامل ہیں جب کہ زیادہ تر ’ریپ‘ اور ’گینگ ریپ‘ کا نشانہ بننے والی خواتین میں نوجوان 24 سے 29 سال کی لڑکیاں ہیں۔زیادہ خواتین کا ان افراد نے ’ریپ‘ کیا جنہیں وہ جانتی تھیں اور ان پر اعتبار کرتی تھیں۔خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور ہر طرح کے جنسی ہراسانی کے واقعات میں 97 فیصد ان کے رشتہ دار، دوست، محبت کرنے والے اور جان پہچان والے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔ایسا ہر گز نہیں کہ خواتین کے تحفظ اور اُن پر ظلم وتشدد کے جرائم میں ملوث افراد کے لئے قوانین نہیں، اگر یہ کہاجائے کہ دیگر مقابلوں کے برعکس بہت زیادہ قوانین ہیں ، تو غلط نہ ہوگا لیکن عمل ندارد ہے۔تعزیرات ِ ہند یعنی انڈین پینل کوڈ میں وپیش 16دفعات وذیلی دفعات خواتین کے خلاف تشدد اور جرائم سے متعلق ہیں جن میں 376، 511, 363, 364, 364A, 365, 366سے  369 تک،  354A، 354A,354C,354D اوردفعہ509، 498A، 366Bاور306شامل ہیں۔اس کے علاوہ خصوصی قوانین بھی بنائے گئے ہیں اس کے علاوہ بچوں پر جسمانی تشدد قانون2012،جن میں انسدادِ جہیز قانون1961، خواتین کی غیر سنجیدہ نمائندگی(ممنوعہ) ایکٹ ، 1986، ستی رسم پر روک تھام متعلق قانون1987، گھریلو تشدد دے خواتین کا تحفظ قانون2005 اور غیر اخلاقی اسملنگ(روک تھام) قانون 1956 شامل ہیں۔علا وہ ازیں حقوق نسواں سے متعلق ہندو بیوہ کی دوبارہ شادی قانون 1856ء،انسداد کم سن شادی 1929ء،حق جائداد قانون 1937ء،ہندو قانون وراثت 1956ء،جہیز پر پابندی قانون 1961ء، مسلم خواتین  (شادی کے حقوق کا تحفظ) قانون، 2019ء شامل ہیں۔
دسمبر 2012 میں دارالحکومت دلی میں ایک چلتی بس پر ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے اجتماعی ریپ نے انڈیا میں ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات پر عالمی توجہ مرکوز کی تھی اور اس طرح کے جرائم کی تحقیقات میں پولیس کے کردار پر بھی توجہ دی گئی تھی۔سنہ 2012 کے قانون میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے مقدمات کو ایک سال کے اندر مکمل کیا جانا ہے لیکن اس کی شاذونادر ہی پابندی کی جاتی ہے کیونکہ یہاں کا قانونی نظام سست روی کا شکار ہے۔جہاں جنسی استحصال کرنے والا رشتہ دار یا گھر کا فرد ہے وہاں جنسی استحصال کے شکار پر شکایت واپس لینے کا شدید دباؤ رہتا ہے۔’گھر کی عزت‘ کی خاطر گھر کے فرد کے خلاف لوگ شکایت کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔جہاں شکایت ہوتی ہے وہاں بھی ایک خاموش کوشش رہتی ہے کہ جرم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمہ نہ ہو۔ نظام شکایت کرنے والے کے خلاف کام کرتا ہے اور اکثر جھوٹا الزام لگانے کی بات ثابت ہوتی ہے۔‘
 یہ مشاہدہ کیاگیاکہ جتنے بھی سخت قوانین بنالئے جائیں، اُس سے فرق پڑتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ جتنے زیادہ قوانین بنتے ہیں ، اُتنی ہی زیادہ تحقیقاتی عمل کے دوران رشوت کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں خاص طور سے پولیس کی طرف سے ایسے جرائم میں تحقیقات کے دوران رکھی جانے والی خامیاں یا تحت ضابطہ کارروائی نہ کرنا تو ایک وجہ ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ مجموعی طور ’’پدرانہ زہنیت ‘رکھنے والا سماج ہے۔کمی سوچ میں ہے جس وجہ سے تشدد اور جرائم کے واقعات میں کمی نہیں ہورہی بلکہ شدت اختیار ہوتی جارہی ہے۔ آپ گاؤں ، وارڈ اور محلہ سطح پر اپنے آس پاس غوروفکر کریں، مشاہدہ کریں کہ خواتین کو لیکر ہماری سوچ کیا ہے۔ہم خود یہ چاہتے ہیں کہ ہماری ماؤں، بہنوں، ازواج کی ہرکوئی عزت کرئے ، اُن کے ساتھ کچھ برا نہ ہولیکن پڑوسی، محلہ کے لئے میں موجود دیگر خواتین کے لئے ہماری غلط نگاہ اور منفی سوچ ہے ۔ہم دوسروں کی ماؤں ، بہنوں کی بے عزتی کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑتے، اُنہیں وہ احترام نہیں دیتے، جس کی وہ مستحق ہیں۔کہیں سے کوئی لڑکی یا خاتون گذرتی ہو، ہم غلط فقرے کسنے اور ہوس کی نظر سے دیکھنے سے گریز نہیں کرتے لیکن اُس وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں، ایسا ہی اُس کی ماں ، بہن، بیٹی کے بارے میں بھی کوئی دوسری جگہ غلط سوچ رہا ہوگا۔ ہم خود غلط کرتے ہیں تو پھر اُس کی قیمت ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹوں کو کسی نہ کسی صورت میں بلواسطہ یا بلاواسطہ چکانی پڑتی ہے۔ گاؤں سطح پر بزرگوں، ذی شعور افراد اور ملازم پیشہ افراد جن کا رائے عامہ میں کافی عمل دخل رہتا ہے، کو ایسی سوچ وفکر کوفروغ دینے اور عملی جامہ پہنانا ہوگا کہ ہم اپنے محلہ اور گاؤں میں دوسروں کی ماؤں، بہنوں کو عزت دیں، اگر اُن کے ساتھ کسی بھی سطح پر زیادتی یا نا انصافی ہورہی ہے، تو اُس کے تماشائی نہ بنیں، بلکہ سنجیدگی سے اُس کو حل کریں۔اپنے گاؤں، محلہ کی خواتین کی عزت کو اپنی عزت سمجھیں، اُن پر غلط نظر کرنے والوں کو بے نقاب کریں اور اُن پر باور کریں ۔ اگر وہ کسی ایسی جگہ ہیں، جہاں اُن کے حقیقی رشتہ دار ساتھ نہیں، تو آپ موجود ہیں، تو اُن کو تحفظ فراہم کریں، اُن کو گھر تک محفوظ پہنچائیں۔ایسی سوچ کو فروغ دیاجائے کہ اگر کوئی لڑکی غلط راہ پر چل رہی ہے تو اہل خانہ کے علاوہ اہل محلہ اور پڑوسی بھی اُس کو صدق دلی اور ایمانداری سے سمجھائیں بجھائیں، اصلاح کریں۔دینی ودنیاوی تعلیم کے ساتھ بچپن سے ہی بچوں کی سوچ اس طرح بنائی جائے کہ پڑوسی، اہل محلہ اور گاؤں کی جتنی بھی خواتین ہیں، اُن کی عزت واحترام کو وہ اپنا اہم فریضہ اور ذمہ داری سمجھیں۔ دین ِ اسلام خواتین کی عزت واحترام کرنے سے متعلق بہترین مثال ہے، جس کو عملی جامہ پہناکر تشدد کو روکا جاسکتا ہے۔ خواتین کو ہم جب ماں، بہن، بیوی، بیٹی، چاچی، ماسی، دادی، نانی ، مامی جیسے رشتوں کی نظر سے دیکھیں گے تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ اِس کے علاوہ کوئی بھی رشتہ نہیں۔جب ہمارے اندر ’’دوسروں کے گھروں کی عزت بھی اپنی عزت ‘‘سمجھنے کی سوچ پیدا ہوگی، تشدد میں خود بخود کمی واقع ہوگی۔ بصورت دیگر کتنے بھی سخت قوانین بنا لئے جائیں ، کوئی فرق پڑنے والا نہیں!
رابطہ۔لسانہ، سرنکوٹ پونچھ(جموںوکشمیر)
موبائل نمبر۔7006541602
altafhussainjanjua120@gmail.com

تازہ ترین