تازہ ترین

محدود معیشی پیکیج نامکتفی

سیاسی پیکیج کا بھی اعلان ہو تو بات بنے

تاریخ    14 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر حسب توقع کافی متحرک نظر آرہے ہیں۔منوج سنہا راج بھون میں کم جبکہ باہر زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور اُس خلیج کو مسلسل پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان اب کافی عرصہ سے پائی جارہی ہے۔منوج سنہا چونکہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں اور زندگی کا بہت بڑا حصہ سیاسی میدان میں گزارا ہے تو اُن سے پہلے دن سے ہی یہ امید کی جارہی تھی کہ وہ کاغذی کیڑا بننے کی بجائے قضیہ زمین بر سر زمین والا اپروچ اختیار کریں گے۔ چنانچہ جب اُن کا تقرر ہوا تو اُس وقت بھی یہی بتایاجارہا تھا کہ مرکزی حکومت نے صرف اسی غرض سے جموںوکشمیر کا لیفٹنٹ گورنر بنا کر بھیجا کہ وہ عوامی رابطے استوار کریں اور جموںوکشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا احیاء کرنے میں اپنا کردار نبھائیں کیونکہ سابق لیفٹنٹ گورنرنے کافی حد تک اپنے آپ کو راج بھون اور بیروکریسی کے ساتھ میٹنگوں تک ہی محدو کیا ہوا تھا۔
بہر حال منوج سنہا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے نہ صرف ملاقاتیں کررہے ہیں بلکہ انہوںنے میڈیا کے ساتھ بھی خوشگوار رشتے قائم کرنے کی سعی کے تحت دونوں صوبوں میں میڈیا نمائندوں سے جہاں علیحدہ ملاقاتیں کیں وہیں گزشتہ ایک ماہ کے دوران تین پریس کانفرنسیں بھی کیں۔ کل ہی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں انہوںنے کم و بیش سبھی مسائل کا ذکر کیا ۔اس سے قبل اپنی تیسری پریس کانفرنس میں انہوںنے نہ صرف معاشی مسائل کی بات کی بلکہ سیاسی مسائل کو بھی چھیڑا ۔انہوںنے اعتراف کیا کہ جموںوکشمیر کے معیشی مسائل گزشتہ ڈیڑھ سال کے نہیں بلکہ گزشتہ بیس تیس برسوں کے ہیں اور انہیں حل کرکے ہی معیشت کو پٹری پر واپس لایا جاسکتا ہے ۔اسی اعلان کے بعد ایک معیشی پیکیج کا اعلان بھی ہوا تھا تاہم وہ صرف کاروباری طبقہ تک ہی محدود تھا جبکہ عام لوگوں کیلئے تاحال کوئی راحت کاری پیکیج جاری نہیں کیاگیا ہے۔
گوکہ کچھ لوگ حالیہ معیشی پیکیج پر انگلیاں اٹھارہے ہیں تاہم حکومت کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے اس پر اکتفا کیاجانا چاہئے لیکن ساتھ میں تاکید اس بات کی بھی کی جاتی ہے کہ عوام کی معیشی حالت کو بھی سہارا دینے کیلئے کوئی اعلان کیاجائے۔جموںوکشمیر کو اس وقت ایک اقتصادی پیکیج کی سخت ضرورت ہے ۔یہاںکی معیشت کے تمام کل پرزے ڈھیلے پڑ چکے ہیں اور عملی طور معیشت کی گاڑی پٹری سے اتر چکی ہے ۔وہ سارے شعبے ،جو ہماری معیشت کو سہارا دیتے تھے ،لرزہ براندام ہوچکے ہیں ۔سیاحت سے لیکر زراعت وباغبانی اور دستکاری تک سبھی شعبے عملی طور خسارے سے دوچار ہیں ۔سروسز سیکٹر کا حال بے حال ہے اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ غیر منظم سیکٹر تہس نہس ہوچکا ہے۔اس صورتحال میں کسی معاشی پیکیج کا اعلان ہوا کے اُن خوشگوار جھونکوں کی طرح ہی تھاجو تپتے ریگزار میں لوگوں کی راحت و فراوانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں تاہم یہ معاشی پیکیج کافی نہیں ہے اور اس ضمن میں مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
معیشی پیکیج کی طرح ہی سیاسی پیکیج کی بھی ضرورت ہے ۔بلا شبہ منوج سنہا خلیج پاٹنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ خلیج اُس وقت تک نہیں ختم ہوسکتی ہے جب تک عوام میں اعتماد پیدا نہ ہو۔اس ضمن میں اعتماد سازی اقدامات اٹھانا ناگزیر بن چکا ہے ۔اولین فرصت میں یہاں حقیقی معنوںمیں جمہوری فضاء قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اختلافی موقف رکھنے والوں کی زباں بندی نہ ہو۔اختلاف جمہوریت کا حسن ہے اور اگر اختلافی آوازوں کو ہی کچلا جائے تو جمہوریت بے روح رہ جاتی ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ لیفٹنٹ گورنر فوری طور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کریں گے اور اُن تمام لوگوں کو جیلوں سے آزاد کرائیں گے جو حکومت کے موقف سے اختلاف کرتے ہیں۔ بلاشبہ امن و قانون کی صورتحال بنائے رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم پر امن ماحول میں اختلافی موقف رکھنے والوں کواپنی بات کہنے کا موقعہ فراہم کیاجانا چاہئے ۔
لیفٹنٹ گورنر چونکہ خود سیاسی بصیرت رکھتے ہیں ،تو اُن سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ سیاسی جمود ختم کرنے کیلئے سیاسی میدان کے سبھی کھلاڑیوں کو اپنی سرگرمیاں شروع کرنے میں معاونت کریں گے کیونکہ جب سیاسی سرگرمیاں بحال ہونگیںتو جمہوریت کی بحالی میں پھر زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔
 

تازہ ترین