تازہ ترین

ضلع کپوارہ میں محکمہ طب کی کیا کہنے!

خاتون نے بچے کو سر راہ جنم دیا

تاریخ    11 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


اشرف چراغ
کپوارہ//ضلع اسپتال ہندوارہ میںدرد زہ میں مبتلا خاتون کو مبینہ طور علاج و معالجہ نہ کرنے کے باعث سرِ راہ بچے کی پیدائش ہوئی۔کلاروس سے تعلق رکھنے والی روبینہ بیگم زوجہ حفیظ احمد ملک کی حالت جمعہ کی شام بگڑگئی اورگھر والو ں نے اسے پرائمری ہیلتھ سنٹر کلاروس لایا جہا ں ڈاکٹروں نے اس کی حالت دیکھ کر ضلع اسپتال ہندوارہ منتقل کیا ۔افراد خانہ کا کہنا ہے کہ ہندوارہ اسپتال پہنچنے کے بعد وہا ں تعینات ڈاکٹروں نے علاج و معالجہ کے بجائے ان کے ساتھ نا شا ئستہ سلوک کیا اور انہیں بارہمولہ منتقل کیا ۔حفیظ ملک کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروںکے نا شائستہ سلوک کے بعد انہو ں نے بارہمولہ کی راہ لی تاہم ہدی پورہ پہنچتے ہی روبینہ نے بچے کو سر راہ جنم دیا ۔افراد خانہ نے الزام عائد کیا کہ ضلع اسپتال ہندوارہ میں کپوارہ کے دور دراز علاقوں کے بیماروں کا علاج نہیں کیا جاتا ہے ۔انہو ں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ہندوارہ اسپتال میں کئے گئے ناشائستہ سلوک کی تحقیقات کی جائے ۔اس حوالے سے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ضلع اسپتال ہندوارہ ڈاکٹر نثار نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ اصل میں اسپتال سے باہر کسی نے دردہ زہ میں مبتلا اور اس کے افراد خانہ سے نا شائستہ سلوک کیا ہے اور ڈاکٹرو ں کا اس میں کوئی بھی ہاتھ نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وہ معاملہ کی تحقیقات عمل میں لائیں گے اور روبینہ کے گھر والو ں سے ان کی بات بھی ہوئی اور ان کو اپنے دفتر طلب کیا تاکہ معاملہ کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے ۔