بنت ِحوا کی قبا چاک

مہذب دور میں درندگی کا سلسلہ کب رکے گا؟

تاریخ    8 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


سیدہ قنوت زہراء
اگر انسانی معاشرے کو ایک گاڑی سے تشبیہ دی جائے تو مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔معاشرتی استحکام کے لئے لازم ہے کہ گاڑی کے دونوں پہیوں میں توازن ہو اور دونوں کے حقوق و فرائض کا یکساں تحفظ ہو ورنہ یہ معاشرہ شدید بگاڑ کا شکار ہوگا اور اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ فطرتی بنیادوں پر عورت کو اپنی منفرد خواص کے باعث نوع انسانی میں نمایاں احترام اور مقام و حیثیت حاصل ہے۔ عورت کو جہاں ماں،بہن ،بیٹی،بیوی کی صورت میں عزت اور اعلی مقام دیا جاتا ہے وہیں عورت کو معاشرے میں شدید ظلم و جبر اور جنسی تشدد سمیت دیگر کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔خواتین کے ساتھ زیادتیاں مختلف طریقہ سے ان کا استحصال ان کی عفت و عصمت کو تار تار کرنے کے واقعات وغیرہ ہر صبح اخبارات کی زینت ہوتے ہیں ۔کسی بھی زبان کا کوئی بھی اخبار ہو یا کسی بھی علاقہ ،ضلع اور ریاست سے نکلنے والا اخبار وہاں کی مقامی خبروں میں اس قسم کی غیر شائستہ اور ظلم و ستم کی داستانیں درج ہوتی ہیں ۔ملک میں زناکاری کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس میں سے گنتی کے چند واقعات ہی عام لوگوں کے سامنے آتے ہیں ورنہ موجودہ دور میں روزانہ بے شمار لڑکیاں ظالموں کی ہوس کا شکار بنتی ہیں جو اپنی اور گھر والوں کی آبرو کی حفاظت ظالموں کے خلاف شکایت درج نہ کرنے میں سمجھتی ہیں۔ایسے مواقع پر پولیس کے رویہ سے بھی لوگ ناراض رہتے ہیں کہ وہ وقت پر شکایت درج نہیں کرتی یا کاروائی کرنے میں اتنی تاخیر کرتی ہے کہ مجرموں کو فرار ہونے کا موقع مل جاتا ہے ۔یقینا اب ہندوستانی قوانین کے مطابق ایسے مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جانی چاہئے مگر عدالتی نظام میں بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے مجرم یا توچھوٹ جاتا ہے یا سزا کا فیصلہ اتنی تاخیر سے آتا ہے کہ اس سے عبرت حاصل نہیں ہوتی ۔نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (NCRB)کی سالانہ رپورٹ ’’ہندوستان میں جرائم‘‘2019 کے مطابق ہندوستان بھر میں 2019کے دوران خواتین کے خلاف جرائم کے 4,05,861واقعات رپورٹ ہوئے اور اتر پردیش میں 59,853ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔2018کے مقابلے خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میں 7.3فیصد کا اضافہ ہوا ہے ،جب ملک میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے ہر روز اوسطاً 87واقعات درج ہوئے ہیں۔
 ملک کے اندر اس و قت ہاتھرس کے سانحہ نے سب کی روحوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ابھی اِس سانحے کی آگ ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ بلرامپور کی طالبہ کی عصمت دری کے واقعے نے ہماری تہذیب کے دامن کو تار تار کر دیا ۔ہاتھرس اور بلرامپور کے سانحہ کی مذمت کے لئے کوئی لفظ نہیں ہے اور مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ اہل خانہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر پولیس نے متاثرہ کی لاش کو خود سپرد آتش کر دیا ۔اس سے زیادہ خاندان کے لئے اذیت کی بات کچھ اور نہیں ہو سکتی ۔یہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے ۔ملک میں ایسے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں جو ایک مہذب سماج کے لئے بدنما داغ ہیں ۔یہ واقعات ریاست میں Law and orderپر بھی سوال کھڑا کرتے ہیں ۔کمزور طبقات ،اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لئے علیحدہ قوانین موجود ہیں ۔لیکن یہ اسی وقت مؤثر ہو سکتے ہیں جب کہ قانون کے رکھوالے اسے ایمانداری سے نافذ کریں ۔آج عورت کو صرف حسن شہوت کی تسکین کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے ۔لہٰذا جو اثرات ہمارے ملک اور معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں وہ حد درجہ خطرناک ہیں ۔جنسی کشش سے زندگی کے پاکیزہ روابط بری طرح بے اثر ہوئے ہیں ۔لہٰذا ان حالات کے پس منظر میں نہ صرف سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہونا چاہئے بلکہ تفریح کے ذرائع ،تہذیب و ثقافت اور ملک کی داخلی پالیسی میں بھی اہل اقتداراور معاشرہ کے سنجیدہ افراد کو عملی تدابیر کی نئی راہیں تلاش کرنی چاہئیں۔ دل تو کر رہا تھا کہ آج کچھ ایسا لکھیں کہ آسمان لرز اٹھے ،زمین پھٹ پڑے ،روح تڑپ اٹھے ،ہماری تڑپ ہمارے لفظوں میں جھلکے ،ہمارے قلم سے لہو ٹپکے،ظالموں کے ظلم کا منظر تصویر بن کر کاغذ پر ابھرے ،بے گناہ اور مظلوموں کی درد بھری چیخیں بادلوں کو چیر کر عرش سے ٹکرائیں اور ظالم نیست و نابود ہو جائیں مگر اِس سانحہ کے تسلسل نے دل کو اس قدر افسردہ کر دیا کہ دل اب خون کے آنسو ں روتا ہے او ر اب مزید کچھ لکھنے سے قلم قاصر ہے۔
رابطہ۔طالبہ بی۔ٹیک(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد)
ای میل۔zqunut@gmail.com
 

تازہ ترین