جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

زرعی شعبہ بھی کارپوریٹ سیکٹر کے استحصال کیلئے کھل گیا

تاریخ    1 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


اسد مرزا
پچھلے ہفتے پورے ملک میںہونے والے کسانوں کے مظاہروں نے یہ واضح کردیا ہے کہ کسان نئے زرعی قوانین سے کس قدر ناراض ہیں۔اس سے پہلے راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کے دوران ان قوانین کو جس طرح منظور کرایا گیا اسے بھی ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میںانتہائی افسوس کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے غالباً سب سے زیادہ سبکی اس وقت ہوئی جب اس کی حلیف جماعت شرومنی اکالی دل کی رکن ہرسمرت کور نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے مودی کابینہ سے استعفی دے دیا۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے بھی ان تینوں قوانین کی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی بعض شقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

زرعی قانون

خیال رہے کہ تین ماہ قبل جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چل رہا تھا تو حکومت ہند نے تین آرڈی نینس جاری کئے تھے۔ عام طورپر آرڈی نینس صرف ہنگامی قوانین کے لیے جاری کیے جاتے ہیں اور جیسے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوتا ہے انہیں مناسب قانونی شکل میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ ان تینوں آرڈی ننس کا تعلق زراعت اور کھیتی باڑی سے تھااور انہیں جاری کرتے ہوئے کسانوں کے حق میں اصلاحات قرار دیا گیا تھا جس سے کہ زرعی سیکٹر کی زنجیروں کو توڑنے میں مدد ملے گی۔ اب یہ تینوں آرڈی ننس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوچکے ہیں اور قانونی شکل لینے میں صدر کے دستخط کی محض خانہ پری باقی رہ گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تینوں قوانین یعنی (i) کسانوں کی پیداواری تجارت(فروغ اور سہولت کاری)بل2020  (ii) کسان (خود مختاری اور تحفظ) قیمتوں کے تیقن اور کھیتی سے متعلق خدمات بل 2020 اور (iii) لازمی اشیا (ترمیمی) بل 2020  سے زرعی سیکٹر کی ترقی اور کسانوں کے مفادات کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی ،اس سے مارکیٹ سے بچولیوں کا خاتمہ ہوگا، ایک قومی منڈی تشکیل پائے گی، کسان اپنی پیداوار کو کسی کو بھی اور کہیں بھی فروخت کرسکیں گے اور اندرون ریاست اور بین ریاستی زرعی پیدوار کے فروخت کے سلسلے میں تمام رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔ اس سے آڑھتیوں اور بچولیوں کی اجارہ داری ختم کرنے میں مدد ملے گی ، کسان اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرسکیں گے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ زرعی مصنوعات ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے جاسکیں گے۔ اس سے یہ مصنوعات جہاں کثرت میں پیدا ہوتی ہیں وہاں سے کم پیداوار والے علاقوں کو بھیجی جاسکیں گی اور اس کا فائدہ صارفین کو بھی ہوگا۔ وہ معیاری، تازہ اور سستی قیمت پر یہ پیداوار خرید سکیں گے۔
ان زرعی قوانین کا دفاع کرتے ہوئے مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کہتے ہیں کہ ان قوانین سے کسانوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی اور زرعی معیشت مستحکم ہوگی۔ تومر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں کسانوں کے مفادات محفوظ ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ الیکٹرانک مارکیٹنگ پلیٹ فارم  eNAM پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر منڈیوں میں نافذ کردیا جائے گا ۔ اس سے زیادہ شفافیت آئے گی اور وقت کی بچت بھی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسان اب اپنی مرضی سے اپنی پیداوار کی قیمت مقرر کرسکیں گے اور اس کی ادائیگی تین دنوں کے اندر کردی جائے گی۔ فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او) چھوٹے کسانوں کو متحد کریں گی اور کسانوں کو مناسب قیمت یقینی بنانے کے لیے کام کریں گی۔ وزیر زراعت کے مطابق صرف معاہدے پر دستخط کردینے سے ہی کسان کو اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے تاجروں کے پاس نہیں جانا پڑے گا بلکہ تاجر خود ان کے کھیتوں سے مال اٹھائیں گے۔

قوانین کی مخالفت

اگر کسانوں کو زیادہ آزادی مل رہی ہو اور ان کی آمدنی میں اضافہ بھی ہورہا ہے تو ایسا کون سا کسان ہوگا جو ایسے قوانین کا خیر مقدم نہیں کرے گا۔ لیکن خود کسان ہی اس ’آزادی‘ کی مخالفت پر اتر آئے ہیں اور پورے ملک میں اس کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ آخراس کی وجہ کیا ہے؟
اپوزیشن جماعتیں اور کسانوں کی بعض تنظیمیں کانٹریکٹ فارمنگ یا ٹھیکے پر کھیتی کے تحت کسانوں کی پیداوار کی قیمت کے معاملے پر سوال اٹھارہی ہیں۔ کانگریسی رہنما پی چدمبرم نے مرکزی حکومت کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کا فوڈ سیکورٹی نظام ہی سوالات کے گھیرے میں آجاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان آرڈینینسوں میں سب سے ’سنگین خامی‘ یہ ہے کہ ان میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ کسانوں کو جو رقم ملے گی وہ ایم ایس پی سے کم نہیں ہوگی۔ ایم ایس پی یعنی کم از کم سہارا قیمت حکومت کی طرف سے طے کردہ وہ رقم ہے جو وہ کسی بھی پیداوار کے لیے طے کرتی ہے تاکہ کسانوں کو نقصان نہ ہو۔  چدمبرم کے مطابق حقیقی صورت حال یہ ہوگی کہ ا ن قوانین کے ذریعہ کارپوریٹ کمپنیوں کو ملک کے زرعی سیکٹر میں چور دروازے سے داخلے کا راستہ مل جائے گا۔
ہندوستانی زرعی سیکٹرکا المیہ یہ ہے کہ یہ بہت سارے قوانین کے بندھن میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ قوانین قیمتوں ، مقدار اور اسٹوریج جیسے معاملات کا تعین کرتے ہیں۔ تاہم اپنی غیر منظم نوعیت کے باوجود زرعی سیکٹر ہندوستانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے اور ایسے وقت میں بھی جب ملک کے دیگر شعبوں کی کارکردگی خراب رہی ہے ، زرعی سیکٹر نے معیشت کی ہمیشہ مدد کی ہے۔
حکومت ہر سال ایم ایس پی پرگیہوں، چاول اور دیگر فصلوں کی بہت بڑی مقدار میں خریداری کرتی ہے۔ اگر منڈی اور ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی (اے پی ایم سی) کے نظام کو ختم کردیا گیا یا اسے کمزور بنادیا گیا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ کسانوں کو اپنی فصل کی کم از کم قیمت بھی مل سکے گی۔ کسانوں کو ان کی فصلوں کی پوری قیمت ملنے کی ضمانت اسی وقت دی جاسکتی ہے جب ان کی فصلیں حکومت خریدے اور وہ بھی منڈیوں کے ذریعہ ۔
کسان اس لیے ناراض ہیں اور مظاہرے کررہے ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر منڈی اور اے پی ایم سی سسٹم کو کمزور کردیا گیا تو اس کا حتمی انجام ایم ایس پی سسٹم کے خاتمہ پرمنتج ہوگا۔ اور نئے قانون کی وجہ سے کارپوریٹ سیکٹر کو ہندوستان کے زرعی سیکٹر میں داخلہ مل جائے گا ۔ جس کا انجام ہوگا، چھوٹے او ر درمیانہ درجہ کے کسانوں کی موت ۔

مستقبل کے خدشات

درحقیقت ان تین قوانین میں سے صرف ایک، جس سے ہندوستانی کسان سب سے زیادہ خوف زدہ ہیں ، وہ ہے کسان (خود مختاری اور تحفظ) قیمتوں کے تیقن اور کھیتی سے متعلق خدمات بل 2020۔ اس کا تعلق کانٹریکٹ فارمنگ سے ہے۔ ہندوستانی کسان پہلے سے ہی جی ایم (Genetically Modified) بیجوں کے استعمال سے پریشان ہیںکیوں کہ ان کی وجہ سے انہیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری قرضے لینے پڑتے ہیں اور ان قرضوں کی ادائیگی نہ کرپانے کی صورت میں انہیں اپنی زندگی کا چراغ خود ہی گل کر دینے کے لیے مجبور ہوجانا پڑتا ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے نتیجے میں صورت حال اس سے بھی زیادہ بھیانک ہوسکتی ہے۔
ناخواندہ کسان بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ کارپوریٹ کمپنیاں انہیں یقینی قیمت، بیج اور جراثیم کش ادویات کا لالچ دے کر اپنے جھانسے میں لے سکتی ہیں لیکن انجام کار ایک دن انہیں اپنی زمین کے حق سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ پنجا ب میں اس طرح کی کارپوریٹ بدعنوانیوں کی مثالیں دیکھنے کو مل چکی ہیں۔جہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے انہیںگیہوں اور چاول اگانے کے بجائے زیادہ منافع کے لیے آلو اور ٹماٹر اگانے کا لالچ دیا ۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے کھیت بنجر زمینوں میں تبدیل ہوگئے بلکہ پانی کی سطح بھی بہت نیچے چلی گئی۔ وہ دن دور نہیں جب کچھ کارپوریٹ گھرانے زرعی سیکٹر پر اپنا کنٹرول قائم کرلیں گے اور ملک میں مختلف فصلوں اور خوردنی اشیاء کی قیمت اور دستیابی کا تعین اپنی مرضی سے کریں گے۔ اور بہت سے دیگر شعبوں کی طرح صارفین اور معیشت پوری طرح ان پر منحصر ہوجائے گی ۔ جس کے نتیجے میں چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کسانوں کا وجود ہی ختم ہوجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ان زرعی قوانین کی منظوری نے ،  اور اس سے پہلے تعلیم اور محنت سے متعلق دیگر قوانین کی منظوری نے، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہونے کے باوجود یہ قوانین کیسے منظور کرالیے گئے۔ غالباً این ڈی اے کی بعض حلیف جماعتوں نے قوانین کی منظور ی سے قبل جو موقف اختیار کیا تھا وہ محض دکھاوا تھا اور حقیقت میںاند رون خانے سب کچھ پہلے سے ہی طے تھا۔
دوسری بات یہ کہ اس طرح کے متعدد قوانین جس طرح منظور کرائے جارہے ہیں ، یہ ہمارے لیے باعث تشویش ہونے چاہئیں کیوں کہ یہ تمام اقدامات ہندوستان کو ایک ’ہندو راشٹر ‘ میں تبدیل کرنے سے قریب تر کررہے ہیں ۔ آر ایس ایس کے تجارت، محنت اور کسانوں سے متعلق ونگ ، سودیشی جاگرن منچ ، بھارتیہ مزدور سنگھ او ربھارتیہ کسان سبھاکے بانی دتو پنت ٹھینگری نے اپنی کتاب The Third Way میں ہندومذہبی کتابوں جیسے کہ مختلف وید، اسمرتی اور شاستروں کی روشنی میںمعیشت اور سماج کو ہندوتوا کے اصولوں پر قائم کرنے کا جو نظریہ پیش کیا ہے ، حکومت غالباً اسے عملی طورپر نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز دوبئی سے وابستہ رہے ہیں)
ای میل۔ asad.mirza.nd@gmail.com
 

تازہ ترین