نیم طبی عملے کی خدمات قابل ستائش | حکومت مستقلی کیلئے پالیسی ترتیب دے:کانگریس

تاریخ    1 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر //کانگریس نے پیرا میڈیکل عملے کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے معاملے پر حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے ۔پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جی اے میر نے گورنمنٹ میڈیکل کالجز سرینگر اور جموں اور ان کے ساتھ منسلک ہسپتالوں میں کام کرنے والے 1200پیرا میڈیکل اسٹاف کے ساتھ کئے گئے سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں 2009کے ایس آر او 384کے تحت باقاعدہ بنائیں ۔ میر نے کہا کہ پیرامیڈیکل عملہ بشمول نرسیں ، فارماسسٹ وغیرہ گذشتہ 10 برسوں سے خالی اسامیوں پر کام کر رہے تھے ، اس کے علاوہ ان کا انتخاب حکومت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق عمل میں لایا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکومت ان کی محنت اور لگن سے کام کرنے کی جانب نہیں دیکھ رہی ہے اور نہ ہی ان کی مستقلی کے حقیقی مطالبہ کی طرف کوئی توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے ۔ پیرا میڈیکل اسٹاف کے وفد نے جی اے میرسے ملاقات کی اور اُن کو باقاعدہ بنانے کے حقیقی مسئلے کو حل کرانے کیلئے ان سے مداخلت کی اپیل کی۔میر نے کہا کہ یہ وہ پیرامیڈیکل اسٹاف ہے جس نے 2014 کے سیلاب ، 2016 کی ایجی ٹیشن اور 5 اگست 2019 کے بعد خاص طور پر موجودہ کوویڈ19 بحران کے دوران انتھک محنت سے صحت کے شعبہ میں اپنا کام انجام دیا ہے اور اب بھی انجام دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی حکومت ان کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے ۔میر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پیرا میڈیکل اسٹاف اور مختلف محکموں میں کام کرنے والے دوسرے ملازمین کو باقاعدہ بنانے کیلئے پالیسی ترتیب دیں تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
 

تازہ ترین