تازہ ترین

امشی پورہ شوپیان فرضی انکائونٹر | مہلوکین کی قبر کشائی ہوگی

قانونی لوازمات پورا ہونے کے بعدلاشیں لواحقین کے سپرد کی جائیں گی :آئی جی پی

تاریخ    1 اکتوبر 2020 (00 : 02 AM)   


کشمیر نیوز سروس
 سرینگر//امشی پورہ شوپیان فرضی انکائونٹر میں جاں بحق راجوری کے تینوں نوجوانوں کی لاشیں انکے لواحقین کے سپرد کی جائیں گی۔ گزشتہ روز اس معاملے کی نسبت فورسز کو اطلاع دینے والے دو مقامی نوجوانوں کوگرفتار کرکے8روزہ پولیس ریمانڈ حاصل کی گئی تھی۔  فورسز کیلئے بحیثیت مخبر کام کرنے والے شوپیان ضلع سے تعلق رکھنے والے دونوں نوجوانوں کیخلاف پولیس سٹیشن ہیر پورہ میں کیس درج کر کے ان پر قتل اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ایجنسی کیساتھ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ،وجے کمار نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قبر کشائی کر کے امشی پورہ شوپیان انکائونٹر میں مارے گئے تینوں نوجوانوں کی نعشیں لواحقین کے سپرد کی جائیں گی ۔ آئی جی کشمیر نے کہا کہ ضروری قانونی لوازمات پوری کرنے کے بعد قبرکشائی کرکے لاشوں کو نکال کر متعلقہ کنبوں کو سونپا جائے گا۔آئی جی کا یہ بیان متعلقہ متاثرین کے مسلسل مطالبے کے بعد سامنے آیا  ہے جس میں وہ ابرار احمد، امتیاز احمد اور محمد ابرار نامی مہلوک نوجوانوں کی لاشیں لوٹانے کا اصرار کررہے ہیں۔ مذکورہ تینوں نوجوان18جولائی کے روز امشی پورہ شوپیان میں فرضی جھڑپ میں جاں بحق کئے گئے۔مذکورہ نوجوانوں کے گھروالوں نے اْن کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ جنگجو نہیں بلکہ مزدور تھے اور مزدوری کی غرض سے ہی شوپیان گئے ہوئے تھے جہاں بقول اْنکے فوج نے اْنہیں فرضی معرکہ آرائی میں جاں بحق کیا۔ان کا کہناتھا کہ ڈی این اے نمو نے میل کھانے کے بعد اب یہ واضح ہوگیا کہ امشی پورہ شوپیان انکائونٹر میں جاں بحق کئے گئے تینوں نوجوانوں کا تعلق راجوری سے ہے اور وہ ان لواحقین کے بچے ہیں ۔ڈی این اے نمونے میل کھا نے کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اُنکے بچوں کی نعشیں واپس کی جائیں ،تاکہ وہ اُنہیں اپنے مقامی قبرستانوں میں سپرد خاک کر سکیں ۔ ادھر راجوری انتظامیہ نے لواحقین کو مشاورت کیلئے طلب کر لیا ہے ۔ یاد رہے کہ رواں برس18جولائی کو فوج نے امشی پورہ شوپیان میں ایک جھڑپ کے دوران تین نوجوانوں کو عدم شناخت عسکریت قرار دیکر جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔تاہم اس معاملے نے اُس وقت نیا موڑ لیا جب سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کے بعد راجوری کے تین خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ جاں بحق تین نوجوان اُنکے لخت جگر ہیں ،جو 17جولائی کو شوپیان مزدوری کے لئے گئے ہوئے تھے ۔وجے کمار کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ابرار احمد ،امتیاز احمد اور محمد اِبرار کے لواحقین نے مطالبہ کیا کہ اُنکے بچوں کو قتل کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے اور بچوں کی نعشیں واپس کی جائیں ۔ فوج نے کورٹ آف انکوائری کرکے اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ آپریشن میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990  اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ فوج کے وضع کردہ طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی کی گئی جس کی پاداش میں اس آپریشن میں شامل افسران اور سپاہیوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ڈی جی پی نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ امشی پورہ شوپیان معاملے کی تحقیقات آخری مرحلے میں ہے ۔
 

تازہ ترین