شیخ محمدعبداللہ کو بہکانے والے کون تھے؟ | جیل سے لکھے گئے خط میں شیخ نے اْنہیں ’دانا لوگ‘ کہا تھا

کڑوا سچ

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


عبدالقیوم شاہ
یہ 1975کے بعد کی بات ہے۔ مرحوم شمیم احمد شمیم نے کشمیر کے کئی سیاسی رہنماوں سے متلعق خاکوں پر مشتمل ہفت روزہ آئینہ کا خصوصی نمبر شائع کیا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ سے متعلق خاکے کی شروعات اْنہوں نے اس تاریخی جملے سے کی تھی: ’’شیخ محمد عبداللہ: وہ شخصیت جس سے ہماری صبح بھی عبارت ہے اور شام بھی۔‘‘  
شمیم صاحب نے شیخ عبداللہ کے کم و بیش چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفر کو فقط ایک جملے میں سمیٹ دیا تھا۔ شیخ عبداللہ واقعی کشمیر کی سیاسی تاریخ کی وہ کڑی ہیں جن کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہے۔ اْن کے بعض حامی کہتے ہیں کہ شیخ صاحب نے عوام سے قْربانی وصول کر کے لیڈری نہیں کی، بلکہ خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے لوگوں کی نمائندگی کی۔ تاہم محاذ رائے شماری کی تحریک کو لپیٹ کر خودمختاری کے عوض چیف منسٹری قبول کرنا اْن کے لئے سیاسی خودکشی سمجھی جاتی ہے۔ 1982میں جب اْن کا انتقال ہوگیا تو اْن کے ایک دوست نے حضرت بل میں جھیل ڈل کے کنارے تدفین کے دوران قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے یہ شعر کہہ دیا تھا: 
عجب نہیں کہ لازوال ہوتا
غضب کیا چھہ سات سال اور جیا
7 جولائی 1978کے دن روزنامہ وْلر نے خصوصی شیرکشمیر نمبر شایع کیا تھا۔ اْس میں شیخ محمد عبداللہ کا وہ خط بھی شامل تھا جو انہوں نے نئی دلی کی کوٹلہ لین جیل سے اپنے دوست جے اے کاشمیری کو11دسمبر1967کے روز لکھا تھا۔خط کے بعض اقتباسات شیخ عبداللہ کے اْسوقت کے موقف کی واضح نمائندگی معلوم ہوتے ہیں: 
’’میرے لئے زندگی ایک سفر ہے جسکے دو راستے ہیں۔ کوئی اپنے نفس کی خواہشات کا غلام بن کر زندگی کا سفر طے کرسکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ بن کر۔1953 میں مجھے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ان دو راستوں میں مجھے اپنے لئے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ ایک جانب بعض لوگ عیش و عشرت اور آرام کی زندگی گزارنے کے لئے اپنے ضمیر کا سودا کرنے کا اشارہ دے رہے تھے۔ وہ مجھے حق خودارادیت کے تصور کو فراموش کرنے اور کشمیری عوام کو خود اپنا مستقبل سنوارنے کے حقوق سے دست بردار ہونے اور کشمیری عوام کے حقوق کا سودا کرنے کے لئے کہتے تھے۔ اْن کے یہ حقوق صدیوں سے حکمرانوں نے پاوں تلے روند ڈالے ہیں۔ دوسری جانب قران شریف  خدا کی آواز میں مجھے آگاہ کررہا تھا کہ میں خدا کی راہ ترک نہ کروں اور دنیوی آرام و آسائش کا غلام نہ بن جاوں۔
دانا لوگ مجھ سے کہتے تھے کہ انسان کے وعدوں کا اعتبار ہی کیا، اِن کو انسان جب چاہے توڑ بھی سکتا ہے۔ دوسری جانب اللہ تعالی کی ہدایت کہ وفاداری اور ایمانداری سے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو ہر قیمت پر پورا کرو ، میرے لئے مشعلِ راہ تھی۔ اْن دنوں میرے ذہن میں زبردست تصادم تھا۔ بالاخر میں نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی صورت میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا سودا نہیں کرسکتا ہوں، جو ان کا حقِ لاینفک ہے۔ ‘‘
اس خط میں شیخ صاحب نے پھر حق خودارایت کے مطالبے کی جوازیت پیش کی ہے۔’’صدیوں سے کشمیریوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ بیرون ریاست کے حکمرانوں نے ان کے ساتھ سخت بْرا سلوک کیا اور انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا جاتا رہا۔ 1931 میں میری قیادت میں کشمیری عوام بیدار ہوئے اور انہوں نے یک زبان ہوکر یہ نعرہ اپنایا کہ یہ حق کشمیریوں کا ہے کہ اپنے لئے خود اپنی حکومت بنائیں اور وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنا خون بہانے کے لئے تیار تھے۔ اِ ن کی خواہشات کی تشریح کرتے ہوئے میں نے عدالت میں مقدمے (کی سماعت) کے دوران کہا تھا کہ میں کشمیریوں کی طرف سے خود اپنی حکومت کے قیام کی تحریک کی ہنمائی کرتا ہوں۔‘‘
خط میں شیخ محمد عبداللہ کشمیر کی بے پناہ خوبصورتی اور کشمیریوں کی سیاسی محرومی اور غربت اور افسردگی کا تقابل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بالاخر ’’1947 میں ساری دْنیا نے خودارادیت کی ان کی جائز اور صحیح مانگ تسلیم کرلی۔ یہ کم ظرفی ہوتی اگر میں اپنے ذاتی مفادات یا اقتدار حاصل کرنے کے لئے کشمیری عوام کے حقوق کی سودابازی کرتا۔ مجھے بہت پہلے اس بات کا احساس تھا کہ حق و صداقت کی راہ میں کانٹے بچھے ہوئے ہیں، لیکن خدا پر مکمل یقین کے ساتھ میں نے یہ راہ اپنائی۔ کیا قران صحیح نہیں کہتا ہے کہ خدا مشرق و مغرب کا مالک ہے، خدا کے بغیر کوئی بھی لائق عبادت نہیں، اْسی کو اپنا رہنما اور مشعل راہ بناو۔ اب بھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا فیصلہ کتنا صحیح تھا۔ اس بات کا اظہار ہی نہیں کیا جاسکتا ہے  کہ مجھے اس فیصلے سے کتنی آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ ‘‘
یہ طویل خط شیخ عبداللہ کی قلبی کیفیت شیخ عبداللہ کی سیاسی زندگی پر تحقیق کرنے والوں کے لئے نہایت اہم ہے۔ وہ آگے لکھتے ہیں: ’’1953 سے اب تک چودہ برس ہونے کو ہیں، (اس عرصے میں) حق و صداقت اور انصاف کو دبانے کی خاطر مجھ پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کی گئیں، اور مجھے بدنام کرنے کے لئی کئی مہمیں چلائی گئیں، مگر ان لوگوں کی یہ ساری کوششیں ناکامیاب ہوگئیں۔ ہر کشمیری کے دل کی دھڑکن سے یہی صداآتی ہے کہ کشمیر ہماری سرزمین ہے ، ہم اپنی تقدیر خود سنواریں گے۔ہماری راہ میں مشکلات ہیں مگر ہماری منزل واضح اور صاف ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اپنی کوششیں جاری رکھیں، اور ہم اپنا قدم عزم و ہمت کے ساتھ آگے بڑھائیں، انشااللہ فتح ہماری ہوگی۔‘‘
یہ اہم ترین خط اْس دور میں لکھا گیا ہے جب شیخ صاحب جیل میں تھے اور کبھی اْن کے ہم نوا رہ چکے لیڈر کشمیر کی خودمختاری کا ایک ایک چیتھڑہ تک بیچ کھا رہے تھے۔ لیکن اس خط کے فقط آٹھ سال بعد تاریخ نے شیخ محمد عبداللہ کی ہمالیائی کروٹ بھی ریکارڈ کرلی۔ دلیلیں اور تاویلیں بہت ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان دولخت ہونے کے بعد شیخ عبداللہ مایوس ہوگئے، بعض کہتے ہیں کہ جاہ پرست سیاسی حوصلہ مندوں نے اْنہیں کہیں کا نہ چھوڑا ، کچھ اور لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ نہرو کے نظریاتی اسیر بن چکے تھے۔ جو بھی ہو، جب کوئی مقہور و مظلوم قوم اپنے ہی مسیحا کو مسیحائی کی صلیب سے گرتا دیکھتی ہے، تو وہ اجتماعی طور پر اس قدر مجروح ہوجاتی ہے کہ ہر راہ گیر کو رہنما سمجھنے لگتی ہے۔ 
رابطہ۔abdulqayoomshah57@gmail.com
94696794449
 

تازہ ترین