کشمیر اور اقوام عالم | چمن ویران ہیں لیکن زمیں گُل رنگ ہے ساری

گفت و شنید

تاریخ    28 ستمبر 2020 (30 : 12 AM)   


معراج مسکینؔ
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جموں و کشمیربھارت کی آزادی اورقیام پاکستان کے دن سے متناعہ چلا آرہا ہے اور اس مسئلہ کے باعث جنوبی ایشیا میں قیام امن کی صورت حال بدستورغیر مستحکم ہے جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اقوام عالم کے سلامتی کونسل کی قرار داتوں میں در ج’ مسئلہ کشمیر‘  کا حل بھارت او ر پاکستان کے درمیان دوستی کا اہم ترین اور کلیدی ذریعہ ہے،جس کی ضرورت کی طرف کشمیری عوام گذشتہ سات عشروں سے توجہ مبذول کرتا چلا ٓرہا ہے۔ جس کی طرف عدم دلچسپی کے نتیجہ میں جموںو کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کی جانوں اور حقوق کی درد ناک پامالی ہورہی ہےاور گزشتہ 70سالوں سے بھارت کے زیر انتظام جموںو کشمیر کے 80 لاکھ کشمیریوں کو یرغمالی بناکے رکھا گیا ہے۔اس طویل عرصے کے دوران اگرچہ وقفہ وقفہ کے بعد ہند و پاک حکومتوں کے سربراہوں کی طرف سے اس متنازعہ مسئلے کو حل کرنےکے لئے بڑی بڑی بیان بازیاں ہوتیں رہیںاوربعض اوقات منفی بیان بازیوں کے نتیجے میں جنگیں بھی ہوئیں لیکن کسی جنگ کا بھی کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آسکا اور صورت حال جُوں کی تُوں رہی۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ہمسایہ ملکوں کی طرف سے نے باہمی کشیدگی دور کرنےاورمتنازعہ مسائل کے حل کے لئے بات چیت کے دروازے ضرور کھولے گئے ، مذاکرات کے میز سجانے کا بھی سلسلہ جاری رکھا ، ایک دوسرے پر اعتماد سازی کی یقین دہانیاں بھی ہوئیں، لیکن کشمیریوں کو دورِ ابتلا سے نکالنے اور انہیں اپنا حق دلوانے کے لئے مسئلہ کشمیر کا کوئی ٹھوس حل نہ نکالاجاسکا، جس کے پسِ منظر میں جموں و کشمیر کی نوجوان نسل نے عسکری تحریک کی راہ اپنالی جو گذشتہ تیس برسوں سے چلی آرہی ہے۔اگرچہ اس عسکری تحریک کے دوران کشمیری عوام کا کافی خون بہہ چکا ہے اور اس وقت بھی بہہ رہا ہے اور ساتھ ہی لامنتہائی تباہ کاریاں بھی جھیلنا پڑی ہیںلیکن اس کے باوجود تاایں دَم یہ تحریک جاری ہے۔کشمیر کی اس تباہ کُن صورت حال کے دوران بھی دونوں ملک (بھارت اور پاکستان) اپنے تمام باہمی تنازعات بات چیت کے تحت حل کر نے کی باتیں کرتے رہے  اور جموں و کشمیر کی کسی بھی تقسیم کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی فطری شکل کی برقراری اور اس کی شناخت قائم رکھنے کی باتوں پر بھی متفق رہے۔یہاں تک کہ دونوں ملکوں کے درمیان جموںو کشمیر کو تقسیم کرنے والی سرحد کو تبدیل کرنے والی کنٹرول لائین کو’ راہِ امن یا لکیرِ امن ‘بنانے کی خاطرعوام سے عوام کی سطح پر بھی روابط بڑھانے کے لئے بس ،ٹرین اور طیارہ سروس کی سہولتیں بھی فراہم کی گئیں ،کئی معاملات میں نرمی لانے کےاقدامات اور معاہدے بھی کئے گئے البتہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کے حل کے تئیں کوئی مثبت یا با معنی پیش رفت نہیں ہوسکی۔اگرچہ اس ضمن میں مختلف اوقات پرپاکستان کی طرف سے تجاویز بھی پیش کی گئیں تاہم بھارت کی جانب سے زیادہ تر معاملات میںحد سے زیادہ احتیاط اور بعض اوقات بالکل سرد مہری دکھائی گئی ۔جس کے نتیجہ میں یہ سُلگتا ہواکشمیر مسئلہ ایک آتش فشان کی صورت اختیار کرتا چلا گیا،جو اب نہ صرف برصغیر کے لئے بلکہ عالم امن کے لئے ایک فلش پوائنٹ بن کر رہ گیا ہے۔ 
اب جبکہ بھارت میں آر ایس ایس کے زیر اثرموجودہ مرکزی حکومت کا دورچل رہا ہے تو اُس نے کشمیری عوام کو تنگ کرنے کے لئے نئے نئے طریقے آزمانا شروع کر رکھے ہیں۔5اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی گئی اور نئی ترامیم کے ذریعے کشمیریوں سے یہ حق بھی چھین لیااور 1927ء سے رائج قانون کو بالائے تاک رکھ کر 4لاکھ 35ہزار بھارتی باشندوں کو کشمیرمیں اقامتی اسناد(ڈومیسائل) جاری کئے گئے،اور اسی آڑ میں بھارتی باشندوں کو کشمیر میں آبادکرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جن کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ وادیٔ کشمیر میں جائیدادیں خرید سکتے ہیں اور کاروبار کر سکتے ہیں۔ہزاروں غیرکشمیریوں کو اس ڈومیسائل کی بنیاد پر کشمیر میں سرکاری ملازمتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ موجودہ سرکار کی کوشش ہے کہ کشمیر میں بھارتی باشندوں کی ایک بڑی تعداد  آباد کی جائے تاکہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں یہاں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔وادیٔ کشمیرمیںاس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مودی سرکار آر ایس ایس کے ورکروں کو آباد کاری کی آڑ میں کشمیر میں لا کر بسا رہی ہے۔تاکہ یہاں اپنا غلبہ قائم کرسکے۔جبکہ چین بھی اب جموں کشمیر میں اپنی حصہ داری کا جواز پیدا کرچکا ہےاور اس وقت بھارت کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن کر کھڑا ہے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیںکہپاکستان کشمیریوں کو اپنا حق دلانے کے لئے ہر فورم میں آواز اُٹھا تا چلا آرہا ہے اور ہر ممکن سطح پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کر رہا ہے۔چونکہ وہ مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اس لئےآج بھی اُس نے مظلوم کشمیریوں کی آوازاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بلند کی ہے۔ گذشتہ دنوں ترکی کے سربراہ نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کشمیر مسئلہ کو حل کرانے کا مطالبہ کیا ہےاور اس معاملے میں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے ۔جس کا اجلاس 15ستمبر سے نیویارک میں جاری  ہے۔ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر سب سے اہم اور سب سے پرانا حل طلب معاملہ ہے اور پچھلے ستر برسوں سےلاکھوں کشمیری اقوام عالم کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں کہ ان کو حق خود ارادیت اور تمام انسانی حقوق دلائے جائیں، جس کے بارے میں اقوام متحدہ میں کئی قراردادیں موجود ہیں۔حال ہی میں  جنیواؔ میں بھی پاکستان، ترکی، سعودی عرب، نائیجیریا اور آذر بائیجان کے نمائندوں پر مشتمل گروپ نے یو این کے انسانی حقوق کی چیئرپرسن پر مسئلہ کشمیر سے آگاہ کرکے اس کے حل کیلئے زور دیا ہے۔
وادئ کشمیر اس وقت بھی فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز کے نرغے میںہے اور انسانی حقوق کے پامالی کے واقعات ہر روز سامنے آتے رہتے ہیں۔کشمیریوں کے اُن تکالیف اور مصائب میں بھی کوئی کمی نہیں ہورہی ہے جن میں وہ گذشتہ سات عشروں سے مبتلا ہیں ،حالانکہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جموں و کشمیر کا متنازعہ مسئلہ بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ملکوں کے لئے باہمی تنائو کا بنیادی سبب ہےاور یہ بھی طے ہے کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن اور بھارت و پاکستان کی خوشحالی و سلامتی کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل بنیادی جُز ہے جس کے لئے انتہائی لازم ہے کہ تمام فریقین جن میں کشمیری بھی شامل ہے ،منصفانہ طریقے پر اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں ۔کسی بھی فریق کی طرف سے محض بیان بازیوں اور ناجائز تسلط سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ۔اگر ہونا ہوتا تو پھر آج پھر اقوام متحدہ میں ا س کا تذکرہ کیوں ہوتا؟اس تنازعہ کو نپٹانے کے لئے عملی طور پر نتیجہ خیز بنانے کے لئے دونوں ملکوں بھارت اور پاکستان کوتیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیوں ، الزام تراشیوں اور دھمکیوں سے اچھے مواقع کوضائع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔کشمیر کی پوری آبادی چاہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ہو اور بطور انسان ان کے کیا حقوق ہیں، انہیں وہ دئے جائیں۔  وقت کا تقاضا ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ کشمیر میں دہشت اور خوف کی فضا کوختم کرے۔ کشمیریوں کے انسانی حقوق اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کر کے امن و سکون کا ماحول پیدا کرے اور ایک پر امن ماحول میں کشمیریوں کو اپنا حق دلایا جائے۔اس بات کو مدنظر رکھا جائےکہ پچھلے 73برس سے جس طرح کشمیر میں بھارت قانون، اخلاقیات اور انسانیت کو بالائے طاق رکھ رہا ہے، جوکہ دنیا کی نظروں سے پوشیدہ تو نہیں لیکن صدحیف کہ نام نہاد مہذب ممالک اور عالمی ادارے اپنے معاشی مفاد کی خاطر چشم پوشی سے کام لے رہے ہیں۔کوئی دن نہیں جاتا جب کشمیر میں کوئی درد ناک داستان رقم نہ ہوتی ہو۔صرف مرد ہی نہیں خواتین اور بچے تک اس تشدد اور ہلاکت کا نشانہ بن رہے ہیںجبکہ کرونا کی اس وبائی فضا میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔نہ جانے بھارت سرکار کس خناس کا شکار ہے کہ وہ وادیٔ کشمیر میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہےاگر اسی طرز عمل سےاُس کامقصد پرا ہوتا تو کشمیر کی تحریک آزادی کب کی دم توڑ چکی ہوتی۔جو قوم اس نہج پر آ جائے کہ خود اپنے منہ سے کہے’ہمیں گرفتار مت کرو گولی مار دو‘ اس کو دبانا کہاں ممکن ہے؟دوسری بات یہ کہ کشمیر میںانصاف عنقا ہے، اس لئے بھی کہ معاملات عدالت تک پہنچتے ہی نہیں۔علاوہ ازیں درجنوں قسم کی فورسز، ایجنسیاں کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔بھارت کو یہ عمل روکنا ہو گا ۔ظاہر ہے کہ کشمیر کسی آتش فشاں کی صورت اختیار کرچکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ، جس کا بُرا اثر پورے بھارت پر پڑسکتا ہے۔ اگر اس مسئلہ کو فوری حل نہ کرایا گیا تو خدشہ ہے کہ بھارت کی طرف سے جاری اقدامات کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔جس سے نہ صرف خطہ متاثر ہوگا بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔تاہم یہ بات بھی خوش آئند اور اُمید افزا ہے کہ اب او آئی سی نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دینی شروع کردی ہے۔
 

تازہ ترین