تازہ ترین

اب تو خطرے کی کوئی بات نہیں

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

تاریخ    26 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


منظور انجم
جنت نظیر کشمیر جسے کبھی رشیوں اور منیوں کی سرزمین کہا جاتا تھا، اب کئی دہائیوں سے انسانی خون سے سیراب ہورہی ہے ۔دو متحارب بندوقوں کے ٹکرائو میں تو انسانی لاشوں کا گرنا کوئی نئی بات نہیں لیکن زیادہ لاشیں نامعلوم بندوقوں سے ان نہتے انسانوں کی گررہی ہیں جن میںسے بیشتر کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چلتا کہ انہیں کس نے قتل کردیا اور کس خطا پر ان کی جان لی گئی ۔کئی دہائیوں سے کبھی دریائوں سے انسانی لاشیں تیرتی ہوئی ملتی رہی ہیں اور کبھی ندی نالوں اور ویرانوں سے ۔صحافیوںکی لاشیں بھی گری ، تاجروں ، طالب علموں ، وکیلوں ، ڈاکٹروں ، انجینئروں ، مبلغوں غرض ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے موت کے گھاٹ اتارے گئے ۔ کسی کو اس کے دفتر میں جاکر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ، کسی کو گھر میں گھس کر ، کسی کو سرراہ اور کسی کو مسجد کے باہر خون میں نہلایا گیا ۔ حال ہی میں گاندربل سے انسانی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ملا ۔یہ کون تھا اور کیوں اس انجام کو پہنچا شاید کبھی بھی پتہ نہیں چل سکے گا ۔ قتل و غارت گری کے اس بھیانک کھیل نے انسانی زندگی کی عظمت اور وقعت ہی ختم کرکے رکھ دی ۔ اب لاشیں دیکھنے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔اس لئے انسانی لاش دیکھ کر اب زندہ لوگوں پر لرزہ طاری نہیں ہوتا ۔ جس طرح جانور کی لاش دیکھ کر ذرا سا افسوس ہوتا ہے اسی طرح انسانی لاش دیکھ کر ذرا سا دکھ ہوتا ہے اور بس ۔لاشوں کے اس تماشے نے انسانی فطرت کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ۔ قدرت نے جس انسان کے وجود میں ایک دل بھی رکھا ہے، جو دوسروں کا درد محسوس کرتا ہے اور ایک دماغ بھی رکھا ہے ،جو بھلے برے کی تمیز کرتا ہے، وہ کیسے قتل و غارت گری کے وسیع تر کھیل کا حصہ بن سکتا ہے، یہ سمجھنا اس حالت میں مشکل ہے جب متحارب قوتوں کے فلسفے انسانوں کا قتل جائز ٹھہراتے ہیں حالانکہ نظر یات کا اختلاف ، سوچ کا اختلاف ، سیاست کا اختلاف ، فلسفوں کا اختلاف ، نسلوں اور گروہوں کا اختلاف ازل سے موجود رہا ہے اور ابد تک رہے گا ۔ اختلاف انسان کا پیدائشی حق ہے جو اسے قدرت نے عطا کیا ہے ۔ اختلاف غلط ہوسکتا ہے ۔ ناجائز ہوسکتا ہے لیکن اس کی بناء پر زندگی کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس کا اختلاف ناجائز ہوتا ہے، زندگی کے کسی موڑ پر وہ خود اس سے منحرف ہوکر جائز بات کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔اور پھراللہ تعالیٰ نے خود اختلاف کی آزادی دی ہے ۔ جب شیطان ،جو اللہ کی عبادت میں دن رات گزارا کرتا تھا،نے انسان کی تخلیق پر اختلاف کیا تو اس کے خالق نے اسے نیست و نابود نہیں کیا بلکہ اسے اپنا اختلاف جاری رکھنے کی آزادی دی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ خود اختلاف کو پسند کرتا ہے ۔اور جس نے اللہ سے اختلاف کیا وہ اختلاف کو پسند نہیں کرتا کیونکہ یہی اس کی شکست کا باعث ہوسکتا ہے ۔
کل ہی کی بات ہے کہ قدیم شہر کے حول علاقے میں ایڈوکیٹ بابر قادری کے گھر میں مسلح افراد گھس گئے ۔ اسے باہر بلایا اور جونہی وہ باہر آیا اس کے سر میں نزدیک سے گولی مار کر اسے موقعے پر ہی موت کے سپرد کردیا ۔وہ کون تھے جو قتل کے ارادے سے اس کے گھر پہنچے اور اس نوجوان ایڈوکیٹ کو انہوں نے کیوں زندگی کی نعمت سے محروم کردیا ۔اس کا کبھی کوئی پتہ چل سکے، وثوق کے ساتھ کہنا بہت ہی مشکل ہے۔بابر قادری کے بارے میں لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ ایک پرجوش انسان تھا جس نے کشمیر یونیورسٹی میں قانون کے طلباء کی یونین بنانے میں اہم کردار ادا کرکے سیاسی خواہشات اور ارادوں کے ساتھ اپنے کیریر کا آغاز کیا تھا ۔ جب اس نے ایڈوکیٹ کی ڈگری حاصل کرلی تو پرائیویٹ ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا کا دور شروع ہوچکا تھا ۔ اس نے دونوں کا خوب استعمال کرکے شہرت بھی پائی اور عزت بھی ۔ ٹی وی چینلوں پر اس کے مباحث پراکثر و بیشتر اعتراضات بھی ہوئے اور تنقید بھی ۔اس کے ٹویٹ بھی اکثر نزاع کا باعث بنے لیکن اس نے کسی اعتراض کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات بہت ہی پرجوش انداز سے کہی ۔عام حالات میں یہ کوئی جرم نہیں لیکن کشمیر میں عام حالات نہیں ۔ یہ سرزمین بڑی قوتوں کی کشمکش کا خونین اکھاڑہ بن چکی ہے، اس لئے اس سرزمین پر خیالات کا کھل کے اظہار کرنا موت کو ہی دعوت دینے کے برابر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین کے بڑے بڑے عالم اوردانشور چاہنے کے باوجود بھی بات کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔درپردہ قوتیں ایک دوسرے کو برداشت کرہی نہیں سکتی ہیں ۔ اگر کرسکتیں تو وہ درپردہ نہ ہوتیں ۔پردوں کے پیچھے صرف سازشیں ہوتی ہیں اور کشمیر ایسی ہی سازشوں کی آماجگاہ ہے ۔ یہاں کون کیا کررہا ہے کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں ۔ اکثر لوگ نا دانستہ طور بھی ان سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں ۔انہیں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ جوکررہے ہیں اپنی مرضی سے کررہے ہیں لیکن بسا اوقات وہ دوسروں کے منصوبوں کی تکمیل کررہے ہوتے ہیں ۔یہی وہ صورتحال ہے جو قوموںکو برباد کرکے رکھ دیتی ہے ۔ آج دنیا میں بہت سی ایسی قومیں ہیں جو سازشوں کا اکھاڑہ بن کر برباد ہوچکی ہیں اورکشمیر بھی بربادی کی اسی راہ پر گامزن ہے ۔کشمیری ا ب متاع کوچہ و بازار کی طرح ہیں۔ ان پر بجلیاں گرتی ہیں ۔ ایک کے بعد ایک قیامت ٹوٹ پڑتی ہے مگر وہ اف بھی نہیں کرسکتے ۔ جب دفعہ 370ہٹادیا گیا تو بہت سے لوگوںکو یہ ناگوار تھا لیکن کوئی بات نہیں کرسکا ۔ اب پاکستان گلگت اور بلتستان کو اپنا ایک صوبہ بنانے کا اعلان کرچکا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس پر اعتراض ہے لیکن کوئی بات نہیں کرسکتا ۔ وجہ یہی ہے کہ بات کرنا موت کو دعوت دینا ہے ۔ کوئی مرنا نہیں چاہتا کیونکہ ایک انسان صرف ایک انسان نہیں ہوتا بلکہ ایک خاندان بھی ہوتا ہے اور اس کے مرنے سے اس سے وابستہ بہت سے لوگ بن مارے مر جاتے ہیں ۔اگر یہ کہا جائے کہ یہ صورتحال پیدا کرنے کیلئے کوئی اور نہیں یہ قوم ہی خود ذمہ دار ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ ہم ہی ہیں جومتحارب قوتوں کے مہرے بنے اور ہم نے ہی ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار کر رکھ دیا ۔جو لوگ ایڈوکیٹ بابر قادری کے گھر گئے اور اسے موت کے گھاٹ اتاردیا ،نہ ہندوستان سے آئے ہوئے لوگ ہوں گے اور نہ ہی پاکستان سے بلکہ یہ اسی سرزمین پر پیدا ہونے والے لوگ ہوں گے ۔ انہیں یہ بھی یقین ہوگا کہ وہ ایک جائز کام کررہے ہیں ۔ایسا نہ بھی ہوتب بھی ان کا ضمیر خفتہ ہوگا اس لئے وہ قتل جیسے اقدام کو ہر انجام سے بے پرواہ ہوکر انجام دے رہے ہیں۔
بابر قادری کے قتل نے پرجوش طریقے پر بات کرنے والوں کو ایک پیغام دیا ہے لیکن اس کے باوجو بھی یہ کہنا غلط ہوگا کہ اب کوئی دوسرا بابر قادری پیدا نہیں ہوگا ۔ بابر قادری پیدا ہوتے رہیں گے چاہے انہیں روز ہی قتل کردیا جائے کیونکہ یہ بھی قدرت کا ہی لاابدی اصول ہے کہ وہ انسانی نسل کے کسی روئیے کا خاتمہ نہیں کرتا ۔وہی ہے جوہابیل بھی پیدا کرتا ہے اورقابیل بھی اور یہ فیصلہ وہ انسان پر ہی چھوڑتا ہے کہ وہ ہابیل کا راستہ اختیار کرے یا قابیل کا ۔اسی لئے اس نے حساب کا ایک دن مقرر کردیا ہے ۔اس دن قتل ہونے والے بھی اس کے سامنے ہوں گے اور قتل کرنے والے بھی ۔قتل ہونے اور قتل کرنے کا جواز کیا ہوگا اور اس کی کیا اہمیت ہوگی یہ فیصلہ وہی کرے گا۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اس نے ہمیں جو زندگی عطا کی ہے اس کا مقصدکیا ہے اورکیا ہم وہ مقصد پورا کرنے کے لئے کوئی کردار ادا کررہے ہیں ۔اگر اس نے انسان کو صرف مرنے اور مارنے کے لئے پیدا کیا ہوتا تو کوئی اس کا کوئی پیغمبر کوئی ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش نہیں کرتا جس میں کوئی کسی سے خوف نہیں کھاتا اور پیغمبر آخر الزماںصلعم نے جو معاشرہ تشکیل دیا، اس میں ایک عورت مکہ سے مدینے تک تنہا سفر کر سکتی تھی اور یہ اُس معاشرے کی نئی صورت تھی جس میں باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے ڈرا کرتا تھا ۔
 اب ہم اس مرحلے تک آپہنچے ہیں جہاں ہم میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ کون کس کا دشمن ہے اور کیوں ہے ؟۔ اس لئے اب ہر کسی کو ہر کسی سے خطرہ ہے ۔ سیاست داں سیاست داں سے ڈرتا ہے ۔ تاجر تاجر سے ڈرتا ہے ۔ صحافی صحافی سے ڈرتا ہے ۔ ادیب ادیب سے ڈرتا ہے ۔ باپ بیٹے سے ڈرتا ہے اور بھائی بھائی سے ڈرتا ہے ۔ ڈر اور خوف زندگی کا حصہ بن چکا ہے ۔ ہر کوئی کسی نہ کسی فلسفے سے متاثر ہے اور آج کا ہر فلسفہ دوسرے فلسفوں کو مٹانے کی ہی تعلیم دیتا ہے ۔ جان دینے اور جان لینے کی وکالت ہر طرف سے ہوتی ہے ۔ ہر کوئی اپنی بات دوسرے پر ٹھونس دینے کو ہی صحیح راہ ثابت کرتا ہے ۔یہی انسانی سوچ کی وہ پستی ہے جو اسے خوار کرکے رکھ دے گی کیونکہ یہ عرب کے قبل اسلام کے معاشرے سے مطابقت رکھنے والی صورتحال ہے جس میں انتقام در انتقام ہی لوگوں کی زندگی کا مقصد ہوا کرتا تھا ۔
