تازہ ترین

حول میں ایڈوکیٹ بابر قادری کی ہلاکت

نامعلوم مسلح افراد نے گھر کے باہر گولیاں مار دیں، اسپتال پہنچانے سے قبل دم توڑ چکے تھے

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر کے پائین شہر حول سے تعلق رکھنے والے معروف وکیل، ایڈوکیٹ بابر قادری کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولیاںمار کر  ابدی نیند سلا دیا۔ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ جمعرات کی شام6بجکر25منٹ پر اس وقت بابر قادری کو نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گھر کے باہر کھڑا تھے۔گولیاں اسکے جسم میں پیوست ہوئیں اور وہ شدید زخمی ہوئے۔ اگر چہ انہیں فوری طور پر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ پہنچایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق جان نے بتایا کہ بابر قادری کے سر،گردن اور بازومیں گولیاں پیوست ہوئی تھیں اور اُسے مردہ حالت میں اسپتال پہنچایا گیا ۔بابر قادری اپنے پیچھے بیوہ اور 2کمسن بیٹیوں کو چھوڑ گئے ہیں ۔بابر قادری کی ہلاکت کے بعد پولیس وفورسز نے علاقے کو محاصرہ میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ۔اس دوران علاقے میں کہرام اور صف ماتم بچھ گئی ۔ بابر قادری کو بعد میں اپنے آبائی علاقے ٹنگمرگ پہنچایا گیا جہاں پر انہیں پرنم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔ گذشتہ 24گھنٹوں میںیہ اس طرح کی دوسری ہلاکت ہے۔ اس سے قبل بدھ کی شام کھاگ بڈگام میں بی ڈی سی چیئر مین بھوپندر سنگھ کو ہلاک کیا گیا تھا

کون تھے بابر قادری؟

 ایڈوکیٹ بابرقادری بنیادی طور پر ٹنگمرگ سے تعلق رکھتے تھے لیکن کئی برسوں سے اب حول سرینگر میں سکونت اختیار کئے ہوئے تھے۔ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایڈوکیٹ بابر قادری نے2008سے سرینگر کی عدالتوں میں وکالت شروع کی۔ سال2012میں انہوں نے وکلا کی ایک اور تنظیم لائرس کلب کشمیر کی بنیاد ڈالی۔ایڈوکیٹ قادری’’لائرس کلب کشمیر‘‘  کے بانی صدر تھے،جبکہ انہوں نے اپنا کیرئر طلاب لیڈر کے طور پر شروع کیا۔مرحوم نے کشمیر یونیورسٹی طلاب یونین کے قیام میں بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ وہ اکثر و بیشتر ٹی وی مباحثوں میں مدعو کئے جاتے تھے،جہاں وہ جموں کشمیر سے متعلق مختلف امورات پر تجزیہ کرتے تھے۔