دنیا کی حقیقت قرآن واحادیث کی روشنی میں

رشدو ہدایت

تاریخ    25 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


پیرزادہ بلال یوسف
یہ حسین ورنگین دنیا،عیش وعشرت کے سامان، بارونق بازار ،نظر کو خیرہ کرتی ہوئی تہذیب ،بھڑکیلے لباس، چمچاتے زیورات، ہنستے، مسکراتے اور قہقہہ لگاتے چہرے، اِٹھلاتے اور اِتراتے ہوئے لوگ، عالی شان عمارتیں، آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں، اونچے اور وسیع وعریض محلات، حویلیاں اور بالاخانے ،پھلوں اور پھولوں سے لدے باغات، وسیع شاہراہیں، لمبی چوڑی سڑکیں، کھیل کود،تفریح، جشن وجلوس کسے اچھے نہیں لگتے ہیں، کون اسے دیکھ کر للچاتا نہیں، کسے یہ تمنا نہیں ہوتی کہ زندگی کبھی ختم نہ ہو اور دنیا کی رونق سے ہم برابر لطف اندوز ہوتے رہیں۔
لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ ساری چیزیں فانی ہیں، سب ایک دن ختم ہوجانے والی ہیں، ہم روز دیکھتے ہیں کہ دنیا تغیر و تبدّل کی آماجگاہ ہے ، ہر آن یہاں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں، بچہ جوان ہوتا ہے ،جوان بوڑھا ہوتا ہے اور ایک دن دنیا سے چلاجاتا ہے۔پودے اگتے ہیں ،بڑھتے ہیں، اپنے شباب کو پہنچتے ہیں، پھر مرجھاجاتے ہیں، سوکھ کر ختم ہوجاتے ہیں، یہ دنیا کھیل تماشا ہے،رنگ رلیوں سے بھر پور ہے ،دل کو لبھانی والی ہے، بڑی نظر فریب ہے،اس کے چنگل میں آنا آسان ہے، اس سے بچنا اور اس کے دامِ تزویر سے محفوظ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :یہ دنیا زندگی لہولعب کے سوا کچھ نہیں، اصل زندگی عالم آخرت ہے،کاش کہ وہ جانتے (سورہ عنکبوت آیت92)
دوسری جگہ قرآن مجید کا ارشاد ہے جس کا ترجمہ یوں ہے:مزین کردی گئی لوگوں کیلئے مرغوب چیزوں کی محبت یعنی عورتیں، بیٹے، سونے اور چاندی کے ڈھیر، گھوڑے، مویشی، زراعت یہ سب دنیاوی زندگی میں فائدہ اٹھانے کی چیزیں ہیں اور انجام کار کی خوبی تو اللہ ہی کے پاس ہے(سورہ آل عمران آیت14)
سمجھدار لوگ کبھی دنیا کے چکر میں نہیں آتے، وہ اپنا دامن بچا لے جاتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ نظر فریبیاں اور چمک دمک صرف چند روز ہ ہے، آخرت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔یہ چار دن کی چاندی پھر اندھیری رات ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:جو جہنم سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہو گیا اور دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے (آل عمران آیت175) سورہ قصق میں ارشاد باری ہے: جو کچھ تم کو عطاء کیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع اور اس کی زینت ہے اور جو اللہ تعالی کے پاس ہے وہ زیادہ بہتر ہے اور باقی زہنے والا ہے،کیا تم سمجھتے نہیں (آیت 60)
 یہ دنیا جو ہمیں اتنی رزق برق دکھائی دیتی ہے ، جس کی رنگینیوں میں ہم کھوئے رہتے ہیں، جس کے ظاہری حسن میں گم ہو کر آخرت کو بھولے رہتے ہیں، اسکی حیثیت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برا بر بھی نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:اگردنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برا بر بھی ہوتی تو اللہ تعالی کسی کافر کو اس کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا۔(ترمزی شریف ومسند احمد) 
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان کٹے مردہ بھیڑ کے بچے کے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کون اسے ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟صحابہ رضی اللہ عنھما نے عرض کیا۔ہم تو کسی چیز کے بدلے اسے لینا پسند نہ کریں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم! یہ دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جتنا ذلیل تمہارے نزدیک یہ مردہ جانور ہے(رواہ مسلم )ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا کی قسم !دنیاآخرت کے مقابلے میں بس ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی دریا میں ڈالے اور دیکھے کہ انگلی ڈالنے کتنا پانی کم ہوا (رواہ مسلم) ایک مسلمان کی نظر ہمیشہ آخرت پر ہونی چاہیے، وہ دنیا کی دل فریبیوں کا متوالانہ ہو ،آخرت کی حقیقی اور واقعی زندگی مقصود ومطلوب ہو،دنیا میں رہ کر اسی کی تیاری کرتا رہے ،اللہ کی نگاہ میں جب دنیا اس قدر حقیر ہے تو مومن دنیا پر فریفتہ ہوکر کیا کرے گا اس کا مطمح نظر تو آخرت ہے ،اس کا اصلی گھر وہی ہے،یہ دنیا عارضی ٹھکانا اور وقتی پڑاؤ ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کے کچھ حصے کو پکڑا اور فرمایا۔دنیا میں اسطرح رہو جیسے اجنبی رہتا ہے، یا مسافر رہتا ہے اور خود کو قبر والوں میں شمار کرو۔(بخاری شریف ) مسافر اور اجنبی جو کسی جگہ پہنچا ہو، نہ زیادہ سامان ساتھ رکھتاہے، نہ اپنے ساتھ زیادہ جھمیلا پالتاہے، وہ ہلکا پھلکا رہنا پسند کرتا ہے، نہ زیادہ دوستیاں کرتا ہے،نہ اپنے آپ کو زیادہ پ پہنچواتا ہے،بلکہ اپنے کام سے کام رکھتا ہے، اور کام کرکے جلد از جلد اپنوں میں پہنچ جانا چاہتا ہے۔یہی حال دنیا کے مسافر کا ہے۔اسے بھی دنیا میں اسی طرح زندگی گزارنی چاہیے، اور ہر وقت اصلی گھر آخرت کی فکر رکھنی چاہیے، دنیا میں جو بھی مہلت عمرملی ہے ،اسے جیسے تیسے آرام ہو پریشانی گزار کر اس قید خانے سے فرار اختیار کرکے آخرت کی طرف چل دینا چاہیے۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :دنیا مومن کیلئے قید خانہ ہے اور کافر کیلئے جنت(رواہ مسلم )یہ دنیا جس کیلئے جنت ہو وہ دل لگائے، جس کیلئے قید خانہ اور جیل خانہ ہو وہ کیوں دل لگائے،کیا کوئی جیل خانے سے بھی محبت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں پھر مومن دنیا میں دل لگائے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے اپنی دنیا سے محبت رکھی، اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت رکھی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، پس آخرت جو باقی رہنے والی ہے اسے ،دنیا پر جوکہ فنا ہونے والی ہے آخرت کو ترجیح دو (مسند احمد)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعیں نے دنیا میں اس طرح دن گزارے تھے کہ اسے ایک جیل خانہ اور پڑاؤ سمجھا، ان کا مقصد زندگی صرف اور صرف آخرت تھی اور جو آخرت کو مقصود بنالیتا ہے وہ دنیا میں دل نہیں لگاتا 
 ایک شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ مجھے ایسا عمل بتادیجئے جس سے اللہ بھی مجھے محبوب رکھے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں رغبت نہ رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا اور لوگوں کے پاس کی چیزوں میں رغبت نہ رکھو لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔(ترمزی و ابن ماجہ )۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اظہر پر چٹائی کے نشانات پڑگئے تھے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ' اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!اگر آپ حکم دیتے تو ہم آپ کیلئے نرم گداز بستر بچھادیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے آرام و آسائش کی چیزیں مہیا کردیتے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے دنیا کیا لینا دینا، میرا معاملہ دنیا میں اسطرح ہے جیسے کوئی سوار، کسی درخت کے سائے میں ٹھہرے ،پھر چھوڑ کر چلاجائے(مسند و ترمزی شریف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم کسی ایسے بندے کو دیکھو جسے دنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی دولت عطا کی گئی ہو تو اس کا قرب اختیار کرو کیونکہ اس پر حکمت کا فیضان ہوتا ہے کسی فاسق وفاجر کی نعمت اور دولت دیکھ کر رشک نہ کیا کرو، تمہیں کیا معلوم مرنے کے بعد اس سے کیا ملنا ہے۔دنیا کی محبت میں مبتلا نہ ہو، دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔
آج ہم دولت کمانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں ،جائیدادیں بنانے، بلڈنگیں کھڑا کرنے ،کھیت وباغات، کاروبار و تجارت میں مسابقت کرتے ہیں، آسائشیں اور راحتیں حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں،کبھی جھوٹ بول کرکبھی دھوکہ دیکر ،کبھی سازش رچاکر ،کبھی جعلی پیر کے منتر پڑھا کر ،سحر جادو ہر ایک حد ہم پارکرتے ہے ،کیا ہمیں اللہ کے پاس واپس نہیں جانا ہے ،ہاں بالکل جانا ہے مگر دنیا کی عیش و عشرت نے ہمیں غافل کیا  جب ہم نے اللہ کی کتاب کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کی طرف دیکھا ہی کب ۔سنئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہم لوگوں پر ہی صادق آتا ہے:اللہ کی قسم! میں تم پر محتاجگی سے نہیں ڈرتا، بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تمہیں دنیا کشادگی سے ملنے لگے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو کشادگی سے ملی، پس تم دنیا حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرو جیسے پہلے لوگوں نے کیا اور یہ مقابلہ آرائی تم کو ھلاک کردے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا۔(بخاری ومسلم )
حساب کس کا لمبا ہوگا؟  جس کے مال ودولت زیادہ ہو، جس کے پاس مال ودولت کم ہو ،اس کا حساب بھی جلدی ہوجائیگا، جلدی سے فرصت مل جائے گی قلت مال آخرت کے اعتبار سے آسانی کی چیز ہے، یہ آسانی اسی کو ملے گی جو حرص دنیا میں مبتلا نہ ہو، دنیا کو مقصود زندگی نہ سمجھے، ہر لمحہ، ہر آن آخرت کی تیاری میں لگارہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے، پس ایسا نہ ہو کہ دنیاوی زندگی تم کو دھوکے میں ڈالے رکھے، اور ایسا نہ ہو کہ شیطان تم کو اللہ سے دھوکہ میں ڈال دے،شیطان تمہارا دشمن ہے ،اس سے دشمن ہی سمجھتے رہو، وہ اپنے گروہ کو باطل کی طرف اسی لئے بلاتا ہے کہ جہنمی بن جائیں(سورت فاطر آیت ۵تا ۶)
رابطہ ۔اچھہ بل سوپور،حال امام وخطیب مرکزی جامع مسجد ملک صاحب صورہ سرینگر 
موبائل نمبر ۔7006826398
 
 

تازہ ترین