تازہ ترین

معاشرتی زوال و انحطاط

موجب اگر ہم ہیں تو مہم جو بھی ہمیں ہی بنناہے

تاریخ    23 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


فدا حسین بالہامی
 افراد سے ہی معاشرہ بنتا سنورتا ہے اور بگڑتا بھی ہے ۔ افراد صالح اور نیک طینت ہوں تو صالح معاشرہ کا وجود میں آنا طے ہے ۔ ینز انہی کی کج روی اس کو تباہی کے دلدل میں دھنساتی ہے۔ یعنی سماجی امراض کے باعث افراد ہی ہیں اور انہی کے پاس بیمار سماج کے واسطے دوا بھی پائی جاتی ہے ۔جہاں کہیں سماج میں خرابی پیدا ہو جائے تو جان لینا چا ہئے کہ اس خرابی کا اصل ماخذ وہ دل و دماغ ہیں جن میں برائی پنپ کریہ برائی معاشرتی عفریت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں ہی رفاہی معاشرہ (welfare society)کسی معجزے کے بدولت تشکیل پاتا ہے نہ اس کے قیام کی خاطر عالمِ ملکوت سے فرشتے نازل ہوتے ہیں بلکہ رفاہی معاشرے کا وجود بزبانِ حال اس میں رہ رہے فرشتہ صفت انسانو ں کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اس دلیل کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کی ابتری کی وجوہات دریافت کرنا چاہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ کہیں انفرادی حیثیت سے ہم بھی اس ابتری کے ذمہ دار تو نہیں ہیں ؟
 یہ امرخود فراموشی کا نہیں بلکہ خود گیری کا مطالبہ کرتاہے لیکن ہمارے یہاں اپنے آپ کو جانچنے پرکھنے کا کسے یارا ہے۔ خود ستائی اور خودرائی ہر شخص کا خاصہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی آنکھ کا تنکاڈھونڈنے کے چکر میں ہمیں اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا ۔ جسے دیکھئے معاشرے میں پھیلی سماجی بیماریوں کی وباء پر واویلا کرتا نظر آئے گا ، ہر کسی کو ناموزوں معاشرے کا گلہ ہے ۔ ہر زبان پر یہی بات ہے کہ اب جینا دو بھر ہو چکا ہے، کون ہے جو سماجی بدحالی کا شاکی نہیں اور بظاہر اصلاح کا طالب بھی ۔المیہ تو یہ ہے کہ عین اسی وقت سماج پر تنقید کے تیر برسائے جارہے ہیں جب ناقد خود بھی کسی نہ کسی سماجی برائی کو فروغ دینے میں ملوث اور منہمک ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ’’وازواں‘‘ نوش فرمانے کے دوران ہی اصراف کی بات چل پڑے تو باتوں باتوں میں ’’مصرف‘‘ کی خوب خبر لی جاتی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اصراف کے موضوع پر اچھا خاصا مباحثہ بھی ہوتا ہے۔ مضحکہ خیز صورت حال کچھ یوں ہے کہ مے خانوں میں بیٹھ کر مساجد کی ویرانی کا رونا رویا جاتا ہے۔ڈیڑھ انچ کی مسجدوں کے امام ہی قومی انتشار کی دُہائی دے رہے ہیں ۔ سرکاری ہسپتال کا ایک ڈاکٹر پرائیویٹ مطب (clinic ) میں بیٹھ کر سرکاری ہسپتال کی زبوں حالی بیان کررہاہے۔ سرکاری ٹیچر اپنے بچوں کو غیر سرکاری اداروں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلواتے وقت سرکاری اسکول کی تعلیمی معیار کی نا گفتہ بہ حالت پر نوحہ کناں ہے۔ہمارا سیاست داں سیاسی نظام کی کجیاں گنواتے نہیں تھکتا ہے۔ الغرض ہر طبقے سے وابستہ افراد بیک وقت عملی اعتبار سے معاشرتی زوال و انحطاط کے موجب بھی ہیں اور اس کے خلاف ’’لفظی مہم جو‘‘ بھی بن بیٹھے ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ عملی کج روی اور احوال واقعی کی بدحالی کا شکوہ چہ معنی دارد؟زبانی شکوہ و شکایت پر یقین کیجئے تو گمان ہوتا ہے کہ جیسے کسی دوسری دنیا سے کوئی پر اسرار مخلوق غائبانہ طور ہمارے معاشرے میں داخل ہوکر تباہی مچاتی ہے اور پھر آنا فاناًگم ہوجاتی ہے۔ اپنے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں تو سب اس حمام میں ننگے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارا تعلق مندرجہ ذیل گروہوں میں سے کسی ایک گروہ سے ہے۔
(۱) خود رفتہ افراد پر مشتمل گروہ جس کا حال یہ ہے کہ یہ برائی کا مرتکب ہو کر بھی خود کو نیکوکاروں میںشمار کرتا ہے۔اس گروہ میں شامل افراد سماجی بدعات کو عبادت سمجھ کر سرانجام دیتے ہیں۔ اپنی کور چشمی کی وجہ سے یہ اشخاص اپنے اپنے گردو پیش علی الخصوص اپنے آپ کا جائزہ لینے سے قاصر ہیں۔اور اپنی غلط روی سے آگاہ ہو کر تدارک کرنا انہیں گوارا ہی نہیں۔ جہالت اور سادہ لوحی ان کی زندگی کا اثاثہ ہے۔
(۲)اس گروہ میں ایسے افراد شامل ہیں کہ جو اپنا لیکھا جوکھا اپنے ہی ہاتھوں تیار کرتے ہیں اور اپنا کیا دھرا بخوبی جانتے ہیں۔لیکن دوسروں کی نسبت اپنے گناہوں کو سبک سمجھ کر اپنے ضمیر کو بہلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔یہ اپنی غلط روش کو نظر انداز کر کے دوسروں کی خطائوں کو طشت از بام کرنا ہی اپنا وظیفہ سمجھتے ہیں۔ ان کی طرز زندگی کا لب ’’خودرا  فصیحت دیگرے را نصیحت‘‘ہے۔
(۳) :ہمارے سماج میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو اپنی بد اعمالی پر پردہ ڈالنے کے لئے مختلف جتن کرتے ہیں۔ مردم فریبی ان کا ہتھیار ہے، روباہی ان کا ہنر ،مکاری اور دغابازی ان کا وطیرہ۔قول و فعل میں تضادان کی پہچان ہے۔ یہ خلوت میں میں آگ لگا کر جلوت میں بجھانے کا ڈھونگ رچاتے ہیں تاکہ شک کی سوئی ان کی طرف گھوم نہ جائے۔ اس قسم کے افراد مالِ یتیم پر ہاتھ صاف کر نے کے باوجود بھی اس طرح کے جملے وردِ زبان رکھتے ہیں۔ کہ دنیا فانی ہے اور مالِ دنیا فتنہ!
مذکورہ بالا صورتِ حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اصلاحِ معاشرہ محض ایک ایسا مرغوب و مانوس موضوع ہو کر رہ گیا ہے کہ جس پر عوام و خواص بلا ناغہ تکلم کے جوہر دکھا سکتے ہیں۔ معاشرے کی تنقید زبانی چٹخارا بن گیا ہے کہ جس کے مزے لوٹنا ہرکس و ناکس کا معمول بن چکا ہے۔ دراصل یہ غیبت کی مہذبانہ شکل ہے اور اس عیب جوئی کے ذریعے ایک قسم کی نفسیاتی لذت حاصل کی جاتی ہے۔وہ زمانہ گیا کہ جب بڑے سے بڑا اصلاح پسند مقرربھی معاشرے میں رائج بدعات کے خلاف بولنے سے قبل ہزار مرتبہ سوچتا تھا کہ کہیں سامعین کے رد عمل کا نتیجہ بالکل برعکس نہ ہو۔علی الرغم اس کے آج جتنا آپ معاشرے کے معائب و نقائص کی نشاندہی کریں گے سامعین محظوظ ہوں گے کیونکہ ان کا مزاجِ سماعت بھی اس قسم کی سمع خراشی سے مانوس ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ بولنے والے کے رقیق اور اوچھے الفاظ بھی باعثِ ارتعاش ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ لگتا ہے ہ واعظین ،مقررین ،مصلحین اور مبلغین کا چیخنا چلانا صدا بہ صحرا ہو رہا ہے۔غور طلب بات ہے کہ ایک جانب ہمارے خطباء جمعہ اور دیگر خطبوں میں بے حیائی، بدکاری، فحاشی، بد اخلاقی، شراب خوری، قمار بازی،رشوت ستانی،چغل خوری  وغیرہ جیسی معاشرتی برائیوں کے متعلق عذابِ الٰہی کی وعیدیں سناتے تھکتے نہیں ہیں اور دوسری جانب عین اسی وقت ان برائیوںکے عادی افراد بغیر کسی کھٹکے کے شیطانی مشن کو آگے لے جانے میں اپنی رفتار تیز کر دیتے ہیں۔کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ مساجد اور دیگر تبلیغی مراکز میں داغے گئے زبانی میزائل ہوا میں ہی تحلیل ہوں گے اور زمیں پر ان کے بدکاری کے اڈے گوشہ عافیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
رہی بات انتظامیہ اور حکومتی کارکنوں کی، انہیں اپنے اقتدار کی کرسی پیاری ہے۔ اس کا حصول و حفاظت ان کا پہلا اور آخری مدعاہے۔ انسانی معاشر ہ پستیوں کا شکا ہو تو ہو تختِ اقتدار و منصب سلا مت ہے تو سب خیر ۔نئی نسل چاہے منشیات کے ہتھے چڑھ جائے ، انسانی وسائل کی تازہ دم فصل مختلف قسم کی سماجی بیماریوں سے انسانی سماج کے لئے زہر کیوں نہ بن جائے ان کے کان پر جو ں تک نہیں رینگتی ہے ۔ یہ اپنے گود کے پالوں کے لئے صرف اور صرف منصبِ جاہ و حشم چاہتے ہیں۔چنانچہ جن کی زندگی عیش کوشی ،آرام طلبی ، اور جنسی تلذز سے عبارت ہواور جن کے چراغِ محفل میں تیل کے بدلے شراب جلتی ہو،یہ نشہ آور کا ممنوع ہونے کے باوجود ان پر قدغن لگانے کی ہمت کہاں سے جٹا پائیں گے ؟ہمارے ارباب اقتدار کا مطمعِ نظر اور فلسفہ حیات اس مصرعے سے عبارت ہے ـ  ـ؎  
 بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
ہمارے معاشرے میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ معاشرتی بگاڑ کا قلع قمع کرنا تو محض امن عامہ پر مامور حکومتی اداروں اور کارندوں کا کام ہے۔اور اسی سوچ کے تحت بہت سے افراد اپنی ذمہ داری سے پلو جھاڑ دیتے ہیں۔جبکہ ہر فرد سماج کا رکن ہوتا ہے اور کیا بحیثیت ِ رکنِ معاشرہ ہمارا اصلاح معاشرہ میں کوئی کردار نہیں ہے؟اس حقیقت کو ہم کبھی بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں کہ ہم بھی اسی معاشرے کے مختلف اعضا ء ہیں۔جب پورا سماج بیماری میں مبتلا ہو تو ہم اپنی تندرستی کا ڈھونڈورا کیوں کر پیٹ سکتے ہیں؟اگر ہم نیک نیتی سے معاشرے کا سدھار چاہتے ہیںتو ہمیں انفرادی طور پر اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ ہم جس معاشرتی بگاڑ پر آہ و فغاں کر رہے ہیں کہیں کسی نہ کسی صورت میں ہم بھی اسکے ذمہ دار تو نہیں ہیں؟خود احتسابی ہی ایک موثر ذریعہ ہے کہ جسے اصلاح کا عمل اپنے آپ ہی شروع ہوگا۔
اجتماعی سطح پر اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ واضح طور پر علماء ،فضلاء،سماجی کارکنوں،مفکروں، دانشوروں،صحافیوں،خطیبوں،قلم کاروں،استادوں وغیرہ پر عائد ہوتا ہے۔لیکن بگڑے ہوئے معاشرے کی نوعیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ محض تبلیغ و وعظ،سیمنار اور سمپوزیم کا انقاد ہی کافی نہیں ہے۔اس سلسلے میں ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ شیطان کے کارندے اگر منظم انداز میں شر و فساد پھیلا رہے ہیں اور ان کا پروگرام ہمہ گیر ہے تو دفاعی حکمت عملی بھی ہمہ جہت اور منظم ہونی چاہئے۔محض الفاظ کے الٹ پھیر شیطانی قلا بازیوں توڑ کاممکن نہیں ہے۔ہزار ہا مرتبہ اندھیرے کو کوستے رہنے اور زبانی’’روشنی روشنی‘‘ کاورد کرنے سے نہ اندھیرا چھٹے گا اور نہ روشنی ہوگی۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ’’اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے شمع روشن کرنا‘‘
 دینِ معاشرت اسلام اور کتاب ِ ہدایت قرآن رفاعی اورصالح معاشرہ کے خدو خال ہمارے سامنے اسی لئے پیش کیا ہے تاکہ ہم اس کے عملی انتباق کی خاظر ہر ممکن جد و جہد کریں اسلامی علوم محض درسگاہوں ،دانشگاہوں اور لائبریریوں کی زینت بڑھانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ’’ اصلاحِ افکار‘‘ کے ساتھ ساتھ’’ اصلاح احوال ‘‘ان علوم کا ایک اہم ہدف و مقصد ہے۔ یہ وہ واحد مذہب ہے کہ جس کی تاریخ کے دامن میں ایک مثالی معاشرہ (ماڈل سوسائٹی) آباد ہے۔مقامِ حیرت ہے کہ دینِ معاشرت آج کل مساجد اور درسگاہوں تک محدود ہے اور قرآنِ کریم الماریوں کی زینت ہے۔جو لوگ اسلام کو معاشرے تک پہچانے کے اہم کام پر معمور ہیں وہ رفتہ رفتہ خود ہی معاشرے سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ وہ گاہے بگاہے منبر و محراب میں جلوہ افروز ہوکر بذعمِ خود اپنے فریضے سے عہدہ بر آ ہوتے ہیں ۔ مگر اصل میں انہوں نے ایک الگ ہی دنیا بسائی ہے ۔بے شک مدارس کی روح پرور فضاء قابل ِ دید و شنید ہے لیکن ان کے قرب و جوا ر میں لعو و لعب کی بے ہنگم آوازوں سے ماحول مکدر ہے ۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ جیسے جسم و روح میں تضاد ہو۔ اندر ربِ دوجہاں کی تسبیح اور باہر شیطنت کا راج ہو۔خداوندان مکاتب کو دینی طالب ِ علموں کی تعلیم و تربیت کے طریقہ کار میں بہتری لانا ہوگی تاکہ یہ تعلیمی ادرارے ایک قسم کی تجربہ گاہ کی صورت اختیار کریں، جہاں سماجی ناسور کے لئے مداوا تیار کیا جاسکے۔فارغ التحصیل طلباء درسگاہ سے نکل کر محرابِ مسجد میں گوشہ نشین ہوکر عافیت کی چادر تان نہ بیٹھ جائیں۔بلکہ کارگاہ ہستی کی تلخ کامیوں سے آشنا ہو ، علم کی فضائے لطیف میں فکر و تخیل کے پروں کے مدد سے عالمِ لاہوت تک رسائی بڑی آسانی سے ہو سکتی ہے۔ مگر عملی زندگی میں کثافت سے پُر نشیب و فراز کو عبور کرنا کارے دارد ولا معاملہ ہے۔ یہاں ایک ہی جست میں کئی کئی مرحلوں سے گزر نا ممکن نہیں ہے۔ بلکہ ہر مرحلہ مشقت طلب ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کومروجہ اور دینی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں کی معاشرتی زندگی دب کر نہ رہ جائے۔کیونکہ اصلاحِ معاشرہ میں ان کا کردار مرکزی نوعیت کا ہے۔ ان کے معاشرتی روابط انٹرنیٹ اورسوشل سائٹوں کی نذر نہ ہوجائیںتاکہ حصولِ علم کے پہلو بہ پہلومشاہدات و تجربات اور حسن معاشرت کی اہمیت سے بھی واقف ہوں ۔ اور حصولِ علم کی چاشنی کے ساتھ ساتھ زندگی کی حلاوت سے بھی آشنا ہوںنیز اصلاح ِ معاشرہ کے لئے اپنا فعال کردار نبھائیں۔
 رابطہ۔ 7006889184
ای میل۔ fidahussain007@gmail.com