محکمہ جنگلات کے کیمپاعارضی ملازمین ،6ماہ سے تنخواہوں سے محروم

معاملہ کورونا دور کے بارے میں قواعد کی خلاف ورزی

تاریخ    22 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


سید امجد شاہ
جموں//محکمہ جنگلات کے تحت کمپنسیٹری ایفورسٹیشن فنڈ مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی (کیمپا) کے تحت کام کرنے والے اکیاون عارضی ملازمین کو گذشتہ چھ مہینوں میں کووڈ 19 وبائی بیماری کے دوران ایک ماہ کی اجرت بھی نہیں دی گئی ہے۔ان عارضی ملازمین کو اجرت نہ دے کر ڈیزاسٹرمینجمنٹ ایکٹ 2005اور کورونا کے سلسلے میں جاری ہونے والے دیگر قواعد کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔محکمہ کے عہدیداروں نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ مارچ 2020کے بعد کیمپا کے کسی بھی ملازم کو اجرت کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ فاریسٹری میں پی ایچ ڈی یافتہ جموں کی ایک خاتون ٹیکنیکل اسسٹنٹ نے بتایا کہ ان کی ماہانہ تنخواہ ا?ٹھویں پاس کلاس کے ملازمین کی تنخواہ کا بھی 50فیصد نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ عملہ میں سے ہیں جنہوں نے محکمہ جنگلات کو اپنا پسینہ اور خون دیا ، پھر بھی ان کی باقاعدہ خدمات کو باقاعدہ نہیں بنایاگیااور نہ ہی اس سال اپریل سے کوئی اجرت ادا کی گئی ہے۔قومی اتھارٹی برائے کیمپا کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 184.83کروڑ روپے کی منظوری دی اور اس فنڈ کو جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کو اپریل اور جون 2020میں جاری کیا ہے۔ تاہم بیوروکریسی نے 19جون کو ا?خری قسط جاری ہونے کے بعد سے مزید کوئی اقدام نہیں کیا۔ مرکز نے مالی سال 2020-21کے لئے جموں و کشمیر کی سالانہ منصوبہ بندی کی تمام مجوزہ سرگرمیوں کو منظوری دے دی تھی۔20فروری 2020کو چیف سکریٹری بی وی ا?ر سبرامنیم کی زیر صدارت کیمپا اسٹیٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں مالی سال 2020-21کے لئے اس پر تبادلہ خیال ہوا اور منظوری دی گئی۔جموں و کشمیر اے پی او پر 23اپریل کو قومی اتھارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 5ویں اجلاس میں 105.76کروڑ روپے اور جزوی شجر کاری اور دیگر سرگرمیوں کے لئے جزوی طور پر منظوری دی گئی۔ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ایم او ای ایف کے ڈائریکٹر جنرل فارسٹ کی زیرصدارت اجلاس میں جموں و کشمیر پی سی سی ایف ڈاکٹر موہت گیرا اور سی ای او کیمپا نے بھی شرکت کی۔تاہم ذرائع کاکہناہے کہ نہ ہی فنڈز کیمپا کو جاری کئے گئے ہیں اور نہ ہی عارضی عملے کو کسی بھی طرح کی اجرت کی فراہمی کی گئی ہے۔دریں اثنا ایڈیشنل پرنسپل چیف کنزرویٹر جنگلات اور چیف ایگزیکٹو ا?فیسر (سی ای او) کیمپا نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا ’’ہمیں امید ہے کہ اجرت جاری کردی جائے گی، مارچ تک ادائیگی کی جا چکی ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ خزانہ نے انہیں کچھ سوالات ارسال کئے تھے اور انہوں نے ان معاہدوں اور CAMPA کے تحت کام کرنے والے ضرورت مند ملازمین کی شمولیت سے متعلق سوالات کے جوابات دے دیئے ہیں۔ان کاکہناتھا’’کیمپا پر محکمہ خزانہ کے ذریعہ کارروائی کی جارہی ہے اور انہیں یہ رقم CAMPA کے پبلک اکاو?نٹ سے جاری کرنا ہوگی‘‘۔ انہوں نے مزیدکہا’’اس سال طریقہ کار کو تبدیل کردیا گیا ہے کیونکہ ہم بینکوں سے کام کرتے تھے، اب ہمیں خزانے کے ذریعہ کام کرنا ہے، خزانے کو چلانے کے لئے بجٹ ہیڈ میں الاٹمنٹ کی ضرورت ہے‘‘۔
 

تازہ ترین