وادیٔ منشیات؟

منشیات کے دلدل میں دھنستا کشمیر

تاریخ    22 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


شاہ عباس
 پولیس نے 18ستمبر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی ضلع بارہمولہ میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات(کوکین) ضبط کرکے 4 افراد کو گرفتار کرلیا ۔پولیس کے مطابق اُنہیں منشیات فروشوں کے بارے میں ایک خفیہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد ایک ناکہ کارروائی کے دوران منشیات کی مذکورہ کھیپ بر آمدکی گئی۔اس سے قبل بھی ایسی متعدد کارروائیوں میں پولیس نے ایسے ہی دعویٰ کئے بلکہ پولیس کم و بیش ہر روز منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال کے الزام میں گرفتاریاں عمل میں لاتی رہتی ہے۔ پولیس کے روزانہ بیانات کو ملحوظ رکھتے ہوئے خطہ کشمیر ’وادیٔ منشیات‘ لگ رہی ہے جہاں کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد عالم بے خودی کا سہارا لیکر معلوم اور نامعلوم غم کو غلط کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ 
 حکام نے گذشتہ برس کراس ایل او سی تجارت بند کرنے کے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس تجارت کی آڑ میں وادی کشمیر میں منشیات در آمد کی جاتی ہیں۔تب سے لگاتار منشیات کے استعمال یا اس کے کاروبار سے متعلق افرادکے بارے میںپولیس کے دعوئوں میں ایسا تاثر ملتا ہے جیسے منشیات کے فروغ میں جنگجو ملوث ہیں اور نشہ آور اشیاء سرحد پار سے سمگل ہورہے ہیں۔ حالانکہ ابھی حال ہی میںمنشیات کے کاروبار کی کڑیاں بالی ووڑ میں گہرائی تک پائی گئی ہیں اور اس سلسلے میں کئی اہم شخصیات تحقیقاتی اداروں کے راڈار پر ہیں اور کئی کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ کشمیرپولیس بیانات کے مطابق اُنہیں منشیات فروشوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات موصول ہوتی ہیں ۔بہ الفاظ دیگر پولیس کے پاس ایسا مضبوط نیٹ ورک ہے کہ اُنہیں منشیات کی ترسیل کے بارے میں قبل از وقت ہی اطلاعات ملتی ہیں ،جو بظاہر ایک اچھی بات ہے لیکن اس سے بہت سارے سوال بھی پیدا ہوتے ہیں جن کے جواب صرف اور صرف پولیس کے پاس ہی ہیں ۔
پولیس کے مطابق اُنہوں نے منشیات کے کاروبار کا قلع قمع کرنے کیلئے ایک خصوصی مہم چھیڑ رکھی ہے لیکن حقائق اور اعداد و شمار سے یہ بات اظہر من الشمس  ہے کہ پولیس کی’ خصوصی مہم‘ کے باوجوداس قبیح کاروبار میں کوئی کمی واقع نہیں ہورہی ہے بلکہ اس میں اب ہیروئین جیسی مہلک نشہ آور شے کا بھی اضافہ ہوا ہے اور یوں وادی کشمیر کے ذی حس شہریوں کی نیندیں حرام ہوئی ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں ہر دس میں سے نو نشہ کرنے والے اسی قیمتی مگر مہلک نشے کا استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں شورش کی وجہ سے اکثر لوگ خاص کر نوجوان اور شورش کے متاثرین ذہنی تنائو میں مبتلاء ہیں جس سے نجات پانے کیلئے بعض مختلف قسم کی نشہ آور اشیا کا سہارا لیتے ہیں ۔اہل وادی کے ذہنی تنائو کے بارے میں یہاںتک بتایا جارہا ہے کہ سرینگر میں قائم ذہنی امراض کے اسپتال کا شمار بھارت میں ایسے مصروف ترین اسپتا لوں میں ہوتا ہے ۔اقوام متحدہ کے ماتحت ڈرگ کنٹرول پروگرام نے2014میں اپنی ایک سروے جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وادی کشمیر میں نشیلی ادویات اور دیگر اشیا کے استعمال کرنے والوں کی تعداد70ہزار کے آس پاس ہے۔
آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کے ماتحت کام کرنے والے نیشنل ڈرگ ڈپنڈ نس ٹریٹمنٹ سینٹرنے 2019میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا کہ جموں کشمیر کے اندر مختلف قسم کا نشہ کرنے والے افراد کی تعداد6لاکھ کے آس پاس ہے۔تاہم ہمارے یہاں کے ماہرین کا ماننا ہے کہ وادی کشمیر کے اندر نشے کی لت میں مبتلاء افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ مذکورہ ماہرین کہتے ہیں کہ جو بھی اس سلسلے میں کوئی سٹیڈی کرتے ہیں وہ لوگوں سے مل کر اُنہیں اس بارے میں پوچھتے ہیں لیکن یہاں کے خاص سماجی خصائل کی وجہ سے لوگ حقائق کو سامنے نہیں لاتے ہیں جس کی وجہ سے صحیح اعداد و شمار ملنا ناممکن کی حد تک مشکل ہوتا ہے۔ماہرین تاہم اس بات کو لیکر حیران ہیں کہ عقیدے کے ساتھ لگائو کے باوجود یہاں کے لوگ نشے کی لت میں مبتلاء  ہوتے ہیں جو اس حقیقت کو آشکارا کرتا ہے کہ عوامی حلقوں کا عقیدے سے متعلق دعویٰ جھوٹا یا خام ہے۔یہاں مذہبی لیڈران کی غیر ذمہ داری بھی منکشف ہوجاتی ہے جو لوگوں کو فروعات میں الجھاکر اصل مسائل سے دور لیجاتے ہیں۔ نیز والدین کی غیر ذمہ داری بھی منکشف ہوتی ہے جو اپنے بچوں کو غیر ضروری چھوٹ دیکراُنہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں اور بعد ازاں اُنہیںاس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔لیکن ایسے بھی ماہرین ہیں جو نوجوانوں پر بلاوجہ  روکتھام کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں اعتدال کی راہ اختیار کرلینا ہی نتیجہ خیز رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں ابھی کچھ برس قبل تک چرس، گانجا، بوٹ پالش وغیرہ جیسی چیزوں کو ہی نشے کے طور استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب صورتحال انتہائی خراب ہوگئی ہے اور یہاں ہیراوئین جیسی مہنگی اور مہلک نشہ آور چیز بھی با آسانی میسر رہتی ہے۔ہیروئین سے نہ صرف نشہ کرنے والوں کی جسمانی و دماغی صلاحیت پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے بلکہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے اور زیادہ عادی لوگوں کو اگر اُن کی مطلوبہ چیز فراہم نہ ہو تو اُن کی جان بھی جاسکتی ہے ۔ ہیروئین ماہرین کے مطابق ایک ایسا نشہ ہے جو ملے تو استعمال کرنے والے کی دماغی صلاحتیں چھین لیتا ہے، زیادہ استعمال کی جائے تو جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے اور نہ ملے تو جان جانے کا خطرہ پھر بھی لگا رہتا ہے اور ذہنی توازن بھی بگڑ سکتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ہیروئین کا ایک گرام اکثر2500روپے یا کہیں کہیں3000روپے تک بھی بیچا جاتا ہے جو ماہرین کے مطابق اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ہیروئین کا استعمال کرنے والے افراد جانی و مالی ،دونوں طرح سے متاثر ہوتے ہیں اور اس میں زیادہ وقت بھی نہیں لگتا ہے۔باعث تشویش بات یہ بھی ہے کہ ہیروئین جیسی نشہ آور اشیا کا ستعمال کرنے والے اکثر نوجوان ہوتے ہیں جنہیں اس بارے میں پہلے ہی علمیت ہوتی ہے۔طبی ذرائع کی مانیں تو وادی کشمیر میں ہیروئین کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ہر گذرنے والے سال کے ساتھ ہوشربا اضافہ ہورہا ہے۔ ابھی حال ہی میں شائع ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف سرینگر کے صدر اسپتال میں اپریل2016سے مارچ2017تک نشہ کرنے والے 450مریضوں کا اندراج ہوا اور یہ تعداد 2018 میں 3500 اور 2019میں 5000تک بڑھ گئی۔
بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ وادی کشمیر کے اندر نشہ کے استعمال سے متعلق اب تک کے سبھی اعداد و شمار جعلی ہیں اور صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔مذکورہ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج تک جو بھی رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں اُن میں صرف15سے 20فیصد حقائق ہیں اور اصل صورتحال تشویشناک  حد تک خراب ہے۔وادی کشمیر میں ہیروئین کے ساتھ ساتھ انجیکشنوں سے نشہ کرنے والوں کی بھی بھاری تعدادموجودہے جن کے ایڈس جیسی مہلک بیماری میں مبتلاء ہونے کا خدشہ بھی ہے۔
ماہرین سماجیات اور مذہبی لیڈران کی سنیں تو اُن کے سامنے نشے کی ہر صورت قابل نفرت ہے اور بے شک اس میں شراب بھی شامل ہے۔کئی ایسے ماہرین کے مطابق شراب ابلاغی دنیا کی وجہ سے سماجی قبولیت حاصل کرگیا ہے اور اس کا استعمال اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہمارے یہاں بھی اُم الخبائث کی دکانوں کے سامنے لمبی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ایک عام نوجوان الیکٹرانک میڈیا سے متاثر ہوکر شراب کی طرف راغب ہوکر تباہی کے پہلے زینے پر پائوں رکھتا ہے کیونکہ شراب نوشی اُس کو چرس، گانجا اور تیزی کے ساتھ ہیروئین تک رسائی دلاتا ہے۔بعض صورتوں میں چرس اور گانجے کا عادی بعد میں شراب کی طرف راغب ہوتا ہے ،لیکن یہ بات طے ہے کہ شراب بھی اسی طرح تباہ کن ہے جس طرح نشے کی دوسری اشیاء۔
 

تازہ ترین