ایئرکرافٹ ترمیمی بل 2020 کو پارلیمنٹ کی منظوری

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی//پارلیمنٹ نے منگل کو ایئرکرافٹ ترمیمی بل 2020 کو منظوری دے دی جس میں اصولوں کی خلاف ورزی کے معاملے میں جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد کو حالیہ دس لاکھ روپے سے بڑھاکر ایک کروڑ روپے کردیا گیا ہے ۔لوک سبھا میں یہ بل بجٹ اجلاس میں پاس ہوا تھا جبکہ راجیہ سبھا میں مانسون اجلاس کے دوسرے دن آج اس بل کو صوتی ووٹوں سے منظوری دی گئی۔اس طرح اس بل پر پارلیمنٹ کی مہر لگ گئی ہے ۔شہری ہوابازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے اس بل پر ہوئی بحث میں کہا کہ کچھ اراکین نے اے ٹی سی ملازمین کی کمی کا مسئلہ اٹھایا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے تین برسوں میں تین ہزار اے ٹی سی مقرر کئے گئے ہیں۔ ہوائی اڈوں کی نجکاری کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اسے تاریخی پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے ۔سال 2006 میں دہلی اور ممبئی کے دو اہم ہوائی اڈوں پر نجکاری کی گئی تھی اور اس کے نتیجوں کے مطابق اب تک ایرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کو 29 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی مل چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد ان دونوں ہوائی اڈوں پر سفر کے ٹریفک میں 33 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2018 میں چھ ہوائی اڈوں کی نجکاری کرنے کی تیاری کی گئی۔ ایک ہوائی اڈے کے لئے تو سب سے زیادہ بولیاں آئی ہیں۔ اس کے لئے پوری دنیاکی کمپنیوں نے بولی لگائی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں ایک ہوائی اڈے کی نجکاری کے سلسلے ریاستی حکومت نے بھی بولی لگائی تھی لیکن اس کی بولی سب سے اونچی بولی کے مقابلے میں 93 فیصدی سے بھی کم تھی۔اس کے بعد ایوان نے اس بل کو صوتی ووٹوں سے پاس کردیا۔اس سے پہلے مسٹر پوری نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں مرکزی حکومت کی جانب سے ان تینوں ریگولیٹرز کے لئے ایک ڈائریکٹر جنرل کی تقرری کا انتظام کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا ہوا بازی کا شعبہ بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور 2022 تک ہندوستان ، امریکہ اور چین کے بعد خطے کا تیسرا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ بل میں کئے جارہے التزامات سے بلتے وقت کی ضروریات پوری کی جا کرسکیں گی اور ملک میں طیاروں کی حفاظت کی سطح کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ کی وبا سے پہلے ملک کا ہوا بازی کا شعبہ 34 کروڑ مسافروں کو سنبھال رہا تھا اور اب پچھلے دنوں شروع کی گئی محدود ایئر لائن سروس شروع ہونے کے بعد یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور دیوالی کے بعد اس میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ اس کے پیش نظر ، ملک میں ہوائی اڈوں کی گنجائش بڑھانے کے لئے مستقل اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بل میں ہوا بازی کے شعبے میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر عائد جرمانے کی رقم میں اضافے کرنے کا بھی التزام کیا گیا ہے ۔ ابھی ان قواعد کی خلاف ورزی پر دو سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کا التزام ہے ۔ نظرثانی شدہ بل میں سزا کی مدت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے لیکن جرمانے کی رقم میں ایک کروڑ روپے تک کا اضافہ کیا جارہا ہے ۔کانگریس کے کے سی وینوگوپال نے اس بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سیکیورٹی کے نام پر ہوائی اڈوں کی نجکاری اور اپنی پسند کے صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کرنے میں لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی انڈسٹریز گروپ کو چھ ہوائی اڈوں پر کام دیا جارہا ہے اور ایسا کرتے ہوئے تمام قواعد کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ممبئی ہوائی اڈے کے معاملے میں بھی، اس گروپ کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بل میں التزامات کئے جارہے ہیں۔کوزیکوڈ میں حالیہ ہوائی جہاز کے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اس حادثے میں 40 افراد کی موت ہوئی ہے اور 40 دن گزر جانے کے بعد بھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حادثے کی وجہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی اس معاملے میں صورتحال کو واضح کرنا چاہئے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے جی وی ایل نرسمہا راؤ نے اس بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چھ برسوں کے دوران شہری ہوا بازی کے شعبے میں مثبت تبدیلی آئی ہے ۔ ہوائی اڈوں کی ترقی کے لئے حکومت کا ایک پرجوش منصوبہ ہے جس کی وجہ سے پچھلے چھ برس میں ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے ۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے لوگ اب اڑان بھر رہے ہیں ، جس کی وجہ سے سیاحت میں ترقی ہوئی ہے ۔مسٹر راؤ نے کہا کہ 50 نئی جگہوں کے لئے فضائی خدمات کا آغاز کردیا گیا ہے ، جس کا کرایہ ایک اے سی بس یا ٹرین کے کرایے کے برابر ہے ۔ کورونا مدت کے دوران ہوا بازی کا شعبہ متاثر ہوا ہے ، لیکن اس دوران لائف لائن فلائٹ سروس چل رہی تھی جس نے دور دراز علاقوں میں دوائیں ، ماسک اور پی پی ای کٹس بھیجیں۔ترنمول کانگریس کے دنیش تریویدی نے کہا کہ ایئر انڈیا کو فروخت نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر اجتماعی طور پر غور کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کورونا دور میں وندے بھارت سیوا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بیرون ملکوں میں پھنسے لوگوں کو ملک واپس لایا گیا۔بیجو جنتا دل کی پرسنا اچاریہ نے بل کی شقوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں شہری ہوا بازی کی بے حد گنجائش ہے ۔ کووڈ انفیکشن کی وجہ سے ایئر لائنز اب بھی پوری صلاحیت سے کام نہیں کررہی ہیں۔جنتا دل (یو) کے رام چندر پرساد سنگھ نے کہا کہ پٹنہ سے باہر ہوائی اڈا تیار کرنے پر اتفاق ہوا ہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بہار میں دربھنگا اور پورنیا سے فضائی خدمات کی شروعات کی جائے ۔ اس کے ساتھ ہی ، مذہبی مقام گیا سے بین الاقوامی فضائی خدمات سروس شروع کرنے پر زور دیا ۔راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا نے بھی دربھنگہ اور پورنیا سے فضائی خدمات شروع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کمپنی کی نجکاری سے پہلے متعلقہ فریقوں سے بات چیت کی جانی چاہئے ۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پرفل پٹیل نے کہا کہ بہت سارے لوگ ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کرنا چاہتے ہیں اور عام لوگ بھی اس سفر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال میں صرف ایک بار چار سے پانچ فیصد لوگ فضائی سفر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شمال مشرقی خطے کے لوگ جنوبی ہندوستان جانا چاہتے ہیں تو وہ دو دن میں ٹرین کے ذریعے پہنچیں گے ، جب کہ ہوائی جہاز کے ذریعے یہ سفر بہت ہی کم وقت میں کیا جاسکتا ہے ۔اس بحث میں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی جھرنا داس ، وائی ایس آر کانگریس کے وجئے سائی ریڈی اور بہوجن سماج پارٹی کے وشومبھر پرساد نشاد نے بھی حصہ لیا۔یواین آئی
 

تازہ ترین