تازہ ترین

اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 30فیصدتخفیف

ایم پی فنڈ بھی دو سال کیلئے روک دیا گیا

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نئی دہلی /یو این آئی/ایم پی فنڈ دوسال کے لئے ملتوی کرنے کے حکومت کے فیصلے کی اپوزیشن  ممبران کی طرف سے شدید مخالفت کے درمیان لوک سبھا نے کورونا وبا ء سے لڑنے کے لئے فنڈ جمع کرنے کے لئے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 30فیصد کی کمی کرنے والا’’ پارلیمنٹ ممبر تنخواہ،الاؤنس اور پنشن(ترمیمی)بل 2020 کو صوتی ووٹ سے منظوری دیدی۔کانگریس سمیت حزب اختلاف کے تمام ممبران نے بل کی حمایت کی لیکن کہا کہ حکومت کو ایم پی فنڈ کو فوری بحال کرنا چاہیے۔ان کاکہنا تھا کہ ایم پی فنڈ عوام کا پیسہ ہے اور اس فنڈ کااستعمال کورونا سے نمٹنے کیلئے پارلیمانی حلقوں میں ضروری رہنما اصولوں کے ساتھ کیا جاسکتاہے۔حکومت کو اس فنڈ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ واپس لینا چاہیے۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ یہ وقت کورونا سے جنگ کا ہے اور اس وقت ہرسطح پرحکومت کو اس وبا سے لڑنے کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ ایم پی فنڈ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ عارضی ہے اور اسے بعد میں بحال کردیا جائے گا۔کورونا کے سبب لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیداہوا ہے اور حکومت لوگوں کو کھانا اور ضروری سہولیات مہیا کرانے کے لیے ہراقدام کررہی ہے اور اس کے لیے نومبر تک غریبوں کو مفت راشن دیا جارہا ہے۔حکومت نے کورونا کے سبب پیدا ہوئی معاشی دقت کی بھرپائی کے لیے 20لاکھ کروڑ روپے کا امدادی منصوبہ بنایا اور اس کے ذریعہ معاشی صورت حال میں بہتری لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔دیہی علاقوں میں لوگوں کو روزگار ملے اس کے لیے منریگا میں 40ہزار کروڑ روپے دیے گئے۔ڈی ایم کے ،کے کلاندھی نے حکومت کی تنخواہ میں کمی کے فیصلے کی حمایت کی لیکن کہاکہ اسے ایم پی فنڈ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ واپس لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چھوٹی چھوٹی رقم بچانے کے بجائے بڑے فنڈ کے اخراجات کو روکنا چاہیے اور نئے پارلیمنٹ ہاوس پر خرچ ہورہے 20ہزار کروڑ روپے کے منصوبے کو فی الحال ملتوی کرنا چاہیے۔