پلوامہ میں صحافیوں کی مار پیٹ

ایڈیٹرس گلڈ کی مذمت، ایل جی سے جانچ کا مطالبہ

تاریخ    16 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


شبیرابن یوسف
سرینگر//پولیس نے دوفوٹوجرنلسٹوں کی منگل کے روز پلوامہ ضلع میں ایک جھڑپ کااحاطہ کرنے کے دوران مبینہ طورمارپیٹ کی۔ان کی شناخت نیوزکلک کے کامران یوسف اورفری لانسرفیصل بشیر کے طور ہوئی ہے ۔یہ واقع مارول کاکہ پورہ میں منگل صبح اس وقت پیش آیا جب یہاں فورسزاور جنگجوئوں کے درمیان گولہ باری کاتبادلہ ہورہاتھا۔کامران نے فیس بک پر ایک مفصل پوسٹ میں لکھا،ــ’’آج جب میں مارول میں تصاویر کھینچ رہاتھا،مجھے پولیس والوں ،جن کے ساتھ ڈپٹی سپرانٹنڈنڈ نٹ  پولیس تھے،نے حملہ کرکے بری طرح مارا۔مجھ پر قریب دس پولیس اہلکارٹوٹ پڑے اور مجھے بندوق کے بٹھوں سے بغیر کسی وجہ کے مارا۔میں نے ان کی منت سماجت کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوا۔ اگر میں ہمت کرکے بھاگ نہیں جاتا،مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ میں ماراجاچکا ہوتا۔یہ فوٹو جرنلسٹوں پر ایک حملہ تھا جو اپنا کام کررہے تھے۔مجھے شدیدچوٹیں آئیں ۔مجھے درد ہورہا ہے ۔میرے کئی ساتھیوں کو بھی ماراگیا جو اپناکام کررہے تھے۔میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ پولیس والے اتنے برہم کیوں تھے اور وہ صحافیوں پر کیوں ٹوٹ پڑے جو اپنا کام کرہے تھے۔ ‘‘کامران نے اپنی پوسٹ میں پوچھا ہے کہ کیوں کشمیرمیں صحافیوں پر حملے معمول بن گئے ہیں ؟کیسے ایک افسر اپنے اہلکاروں کو صحافیوں پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دے سکتا ہے جو اپنے کام میں مشغول تھے؟اس رویہ کیلئے جوابدہی کیوں نہیں ہے؟دوسرے فوٹو جرنلسٹ فیصل بشیر نے کہا کہ وہ بھاگ گیا۔فیصل نے کہا کہ انہوں نے ہمیں چیخ کر کہا کہ کیوں وہ فوٹو اُتارہے ہیں۔اُس نے کہا کہ جب وہ بھاگ گیا تو انہوں نے اُس کی کمر کوڈنڈے سے مارا۔ایک ڈنڈا اس کی کیمرہ پر بھی پڑا۔  فیصل کے مطابق اس کے کولہے پر ورم ہے اور وہ چل نہیں سکتا۔ ادھرکشمیر ایڈیٹرز گلڈ(کے ای جی) نے مارول پلوامہ میں اپنے فرائض انجام دینے والے صحافیوں پر طاقت کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں دہلی کے ایک نیوز پوٹل کیساتھ کام کرنے والا فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف زخمی ہوا ہے ۔ کامران نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ انکاؤنٹر کا احاطہ کرنے گئے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ کام شروع کرتے، نیم فوجی دستوں نے انہیں وہاں سے چلے جانے کو کہا، جب وہ موقع سے ہٹ رہا تھا ، تو ڈی ایس پی رینک کے ایک پولیس افسر کی سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں نے بغیر کسی وجہ کے اس کو وہاں سے گھسیٹا اور بڑی بے رحمی سے مار پیٹ کی ۔اس کا کہنا تھا کہ میں وہاں سے کسی طرح اپنے ساتھوں کی مدد سے فرار ہو کر ہسپتال پہنچا ،جہاں ڈاکٹروں نے اس کا علاج کیا ۔اس کا کہنا تھا کہ اس کی ٹانگ میں چوٹ آئی ہے، جس کیلئے اس کو کئی دنوں تک گھرمیں ہی آرام کرنا پڑے گا ۔کشمیر ایڈیٹر گلڈ نے میڈیا افراد کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے میڈیا کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں اجازت دینے کا حکام سے مطالبہ کیا ہے ۔ گلڈ نے پولیس قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میڈیا کے بارے میں فیلڈ عملے کو حساس بنائیں اور طاقت کے غیر ضروری استعمال کی تحقیقات کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقع نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی پولیس اور سیکورٹی فورسز نے زمین پر ہونے والے واقعات کا احاطہ کرنے والے صحافیوں پر حملے کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گلڈ یہ چاہتا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر ذاتی طور پر اس حملہ کی جانچ کرے ۔

تازہ ترین