نظمیں

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


آخر کب تک؟

باپ کی آنکھوں سے بہتے اشکوں کے دھارے
ماتم کرتی ماں بیچاری آخر کب تک؟
فصلِ گْل پر بادِ خزاں کی پہرے داری
گلعذاروں کی آزاری آخر کب تک؟
کوڑی پا کر صحنِ چمن کو گروی رکھنا
حق داروں سے یہ غداری آخر کب تک؟
شعلہ فگن ہتھیاروں کی یہ دوڑا دوڑی
سبزہ زاروں پر بمباری آخر کب تک؟
مرحم کے وعدوں پر سینے چھلنی کرنا
جھوٹی تسلی اور مکاری آخر کب تک؟
پرچم اوڈھی لاشوں کی خود کام نمائش
اخباروں کی مینا کاری آخر کب تک؟
مذہب کو ہتھیار بنا کر دنگے کرنا
گلی گلی یہ مارا ماری آخر کب تک؟
کمسن بچے کے سر سے یہ اٹھتے سائے
بیواؤں کی ماتم داری آخر کب تک؟
مفلس تنکے کو ترسے تُو موج منائے
ایسی بے دردانہ زرداری آخر کب تک؟
اپنے ہی ہاتھوں سے  اپنے گھر کو جلا کر
بیگانوں کی خاطر داری آخر کب تک؟
درد چھلکتا آنکھوں میں اور لب پر آہیں
خوف کا سایہ سر پر طاری آخر کب تک؟
آخر تم کو اللہ کے آگے جانا ہے
شیطانوں سے گہری یاری آخر کب تک؟
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر،موبائل نمبر؛7006087267 
 
 
 

۔۔۔رہے گی خاموشی

مصلحت، مصلحت
مصلحت کی بھی ہے بالیقیں کوئی حد
کیا میں اس کے لیے
اپنے ایقان کو بیچ دوں
مجھ کو اسلام سے جو ملی
روحِ ایمان کی تازگی پھینک دوں
حرمتِ نفس کا پیرہن
اس کو بھی پھونک دوں
(کیا میں حیوان ہوں)
اپنی تہذیب اوراپنے اعلیٰ تمدن کا جو
آئینہ ہے
اسے توڑ دوں
۔۔۔۔
بے حیاہوں نہ میں بے ضمیر و ریاکار ہوں
اور نہ غیرت فروشوں کی اولاد ہوں
میں مسلمان ہوں
اہل ایمان ہوں
جس کی تاریخ روشن ہے اخلاص سے
حسن اخلاق سے
۔۔۔۔
میں رواداریوں کی وہ تمثال ہوں
جس کے روشن خدوخال میں
زندگی منعکس ہو کے سرسبز ہے
 
ڈاکٹر حنیف ترین
جامعہ نگر،نئی دہلی، حال راولپورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9971730422
 
 
 
 

تازہ ترین