خود کشی

کہانی

تاریخ    13 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


طارق شبنم
 طارق شبنم 
’’بھابھی۔۔۔۔۔۔  اگر بھیا نے سلیم کے ساتھ میری شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو میں خود کشی کرکے اپنی جان دیدوں گی‘‘۔
رضیہ نے روتے ہوئے اپنی بھا بھی نگہت سے کہا ۔
’’دیکھو رضیہ تمہارا بھیا تم سے بہت پیار کرتا ہے اور تمہاری ہی بھلائی چاہتا ہے۔ میری صلاح مانو تم سلیم کا خیال دل سے نکال دو کیوں کہ ایک تو وہ بیکار ہے اوپر سے اس کا چال چلن بھی ٹھیک نہیں ہے، تمہارے بھیا کہتے ہیں کہ وہ آوارہ لڑکا ہے اور شراب بھی پیتا ہے‘‘ ۔
نگہت نے اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بھا بھی ۔۔۔ کچھ بھی ہو آپ کو کسی بھی طرح سے بھیا کو اس شادی کیلئے راضی کرنا ہوگا‘‘۔
’’دیکھورضیہ ۔۔۔۔۔۔ تم ابھی نادان ہو، لیکن میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ تمہاری زندگی بر باد ہو جائے اور نہ ہی تمہارا بھیا ایسا ہو نے دیں گے‘‘۔
نگہت کے دوٹوک جواب سے رضیہ،جسے نگہت سے مدد کی امید تھی، کے جسم میں درد کی ایک تیز ٹیس اٹھی اور وہ نا امید ہوکر روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کچھ دیر آنسوں بہانے کے بعد دروازہ بند کرکے فون پر سلیم سے بہت دیر تک با تیں کرتی رہی ۔اس واقع کے بعد رضیہ نے نگہت سے سلیم کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کی لیکن اس کے نفسیاتی زیر وبم میں عجیب قسم کا سرور چھا یا رہا۔ قریب دو ہفتوں کے بعدنگہت کچن میں کام میں مصروف تھی کہ دفعتاً اس کے موبائیل فون کی گھنٹی بجی۔اس نے ہیلو کیا تو دوسری طرف کوئی انجان مردانہ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
’’ یہ رانگ نمبر ہے’’ ۔
کہہ کر اس نے فون کاٹ دیا اور پھر سے کام میں مصروف ہو گئی ۔رضیہ، جو ایک طرف بیٹھی چائے کی چسکیاں لے رہی تھی، اپنے ہونٹوں پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ سجا کر اٹھی اور گردن کو خم دے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی ،لیکن نگہت کا دھیان بالکل بھی اس کی طرف نہیں تھا ۔
’’نگہت ۔۔۔جان من ۔۔۔ جلدی سے چائے لائو بہت تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے‘‘۔
ابھی وہ کام نپٹا کر بیٹھی ہی تھی کہ اس کے شوہر کی آواز آئی۔
’’جی ۔۔۔۔۔۔ آتی ہوں‘‘ ۔
تھوڑی ہی دیر میںوہ چائے لے کر گئی اور شوہر کے ساتھ خود بھی چائے پینے لگی جس دوران دونوں انتہائی خوشگوار انداز میں آپس میں باتوں کے ساتھ ساتھ ہنسی مذاق بھی کرتے رہے ۔شام کا کھانا کھانے کے بعد سارے افراد خانہ اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے ۔ کچن کا کام نپٹا کر نگہت بھی اپنی خواب گاہ میں گئی لیکن خالد وہاں موجود نہیں تھا ۔اس نے کچھ دیر خالد کا انتظار کیا لیکن جب وہ نہیں آیا تو رضائی اوڑھ کرلیٹے ہوئے یہ سوچنے لگی کہ آخر خالد آج خلاف معمول اتنی دیر تک کہاں ؟اور کیوں رہ گیا؟کیوں کہ خالد کا معمول تھا کہ وہ نگہت کے آنے سے پہلے ہی کمرے میں موجود ہوتا تھا ۔بہر حال کافی دیر گئے جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو نگہت نے آنکھیں موندتے ہوئے پوچھا ۔
’’خالد۔۔۔۔۔۔ آدھی رات ہوگئی ،کہاں رہ گئے تھے اتنی دیر تک؟‘‘
’’تم سوجائو ،تم کو کیا ہے میرے ساتھ ‘‘۔
خالد نے غصے بھرے لہجے میں کہا اور سگریٹ سلگا کر تکئے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
خالد کا غصہ دیکھ کر نگہت کی نیند اُڑ گئی اور وہ بھی اٹھ بیٹھی اور پیار سے پوچھا ۔
’’خالد صاحب ۔۔۔۔۔۔ خیریت ہے ،اتنا غصہ کس بات پر ؟‘‘
’’کر چپ ،بد چلن آوارہ لڑکی ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’خالد کیا ہو گیا تم کو ،میں نے ایسا کیا کیا جو ۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔
’’بے شرم ۔۔۔۔۔۔بد کردار ۔۔۔۔۔۔ مجھے سب معلوم ہے کہ میرے پیچھے تم کون سے گل کھلارہی ہو‘‘ ۔
خالد نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور آئو دیکھا نہ تائو ،اس کے بالوں کی لٹ پکڑ کر اس کے معصوم چہرے پر کئی زناٹے دار چانٹے                رسید کئے کہ وہ کچھ دیر کے لئے بے ہوش ہو گئی ۔نگہت کی پٹائی کرنے کے بعد خالد کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہو گیا اور وہ سوگیا جب کہ نگہت ،جس کے دل میں جیسے کانٹے چبھ رہے تھے، آنسوں بہاتے ہوئے اندر ہی اندر اپنے نصیب کو کوستی رہی ۔
نگہت ایک تعلیم یافتہ، با سلیقہ ، خوب صورت اور نیک سیرت لڑکی تھی ۔خالد نے نگہت کا انتخاب خود کیا تھا اور دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ان کی شادی صرف سات ماہ پہلے ہوئی تھی اور زندگی بڑے ہی خوشگوار انداز میں گزر رہی تھی ۔خالد نگہت پر جان چھڑکتا تھا ہر طرح سے اس کو خوش اور مطمعن رکھنے کی کوشش کرتا تھا جب کہ نگہت بھی دن رات اسی کے خیالوں میں کھوئی رہتی تھی ، دل و جان سے اس کی خدمت کرتی تھی ۔نگہت رات بھر آنسوں بہاتے ہوئے ان ہی سوچوں کی بھول بھلیوں میں کھوئی رہی کہ آخر کیوںاور کس کی باتوں میں آکر خالدبہک گیا؟ جو آج پہلی بار مجھ سے اتنا برا سلوک کیا۔ آج تک تو سب ٹھیک ٹھاک تھا لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔آخر اس نے کافی سوچ سمجھ کر دل ہی دل میں یہ فیصلہ کرلیا کہ میں خالد کو منا کر ضرور اس کی غلط فہمی دور کروں گی ۔صبح خالد تیار ہو کر نگہت سے بات کئے بغیر ہی دفتر چلا گیا جس سے نگہت کے درد میں اور اضافہ ہو گیا کیوں کہ وہ روز دفتر جانے سے پہلے کچھ وقت اس کے ساتھ گزارتا تھا اور اُس سے رخصت لے کر جا تا تھا ،اس پر طرہ یہ کہ اس کی نندرضیہ،جسے وہ اپنی چھوٹی بہن کی طرح دل سے پیار کرتی تھی اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھی ، نے بھی اُس سے قطع کلامی کر کے اس پر مختلف طریقوں سے طعنے کسنے شروع کر دئے، جس کی وجہ سے وہ اور زیادہ پریشان ہو گئی ۔سہ پہر کو خالد دفتر سے واپس آیا تو نگت چائے لے کر اس کے سامنے گئی ۔۔۔۔۔۔ 
’’چائے پی لیجئے‘‘ ۔
نگہت نے چائے اس کے سامنے رکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔
’’رکھو اور دور ہوجائو میری نظروں سے‘‘ ۔
ا س نے انتہائی تلخ لہجے میں کہا ۔
’’خالد ۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا تم کو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’تم جاتی ہو یا اچھی طرح سے تمہاری خبر لے لوں ،بد ذات لڑکی‘‘ ۔
خالد کا غصہ آسمان کو چھونے لگا تو نگہت نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی ۔نگہت نے خالد کو منانے اور اس کے دل میں پنپ رہے نفرت کے بیجوں کو اکھاڑنے کے لئے کافی جتن کئے لیکن بے سود ۔خالد اس کی ایک بھی سننے کو تیا ر نہ تھا بلکہ نگہت کے تئیں اس کا رویہ دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا تھا ۔اس طرح نگہت کے سارے رنگین سپنے صابون کے بلبلوں کی طرح ٹوٹ گئے اوراس کی زندگی جہنم سے بھی بد تر بن گئی ۔وہ اس گھر میں بغیر تنخواہ کے مظلوم نوکرانی بن کر رہ گئی ۔اسے نہ گھر سے باہر جانے اور نہ ہی کسی سے ملنے کی اجازت تھی ۔فون پر وہ صرف اپنے میکے والوں سے بات کرتی تھی لیکن انہیں وہ اپنے دکھوں پریشانیوں کے بارے میں بالکل نہیں بتاتی تھی اور نہ بتانا چاہتی تھی ۔کئی مہینوں تک نگہت اندر اندر یہ درد سہتی رہی ،آخر تنگ آکر ایک دن اس نے خالد ،جو دفتر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا سے کہا ۔
’’خالد ۔۔۔۔۔۔ آخر میرا گناہ کیا ہے؟ جو آپ مجھ کو اس طرح تڑپ تڑپ کر جینے کے لئے مجبور کر رہے ہو‘‘۔
’’دفاں ہو جائو میری نظروں سے ۔میں تمہارے مُنہ نہیں لگنا چاہتا ہوں‘‘ ۔                                                                       
’’نہیں خالد ۔۔۔۔۔۔ آج تمہیں میرا فیصلہ کرنا ہی ہوگا‘‘ ۔
’’میں فیصلہ کر چکا ہوں ۔۔۔۔۔۔تم میرے گھر سے دفاں ہو جائو ،مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘ ۔
’’خالد ۔۔۔۔۔۔ خدا کے لئے مجھ پر اتنا بڑا ظلم مت کرو ،میں اللہ کو گواہ مان کر کہتی ہوں کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ 
خالد کے الفاظ پگھلا ہوا سیسہ بن کر نگہت کے کانوں میں اتر گئے اور وہ لجا جت سے ہاتھ جوڑ کر خالد کے سامنے گڑ گڑانے لگی تو اس نے نگہت کے نازک جسم پر کئی وار کئے۔
’’اگر واپس آکر میں نے تم کو یہاں دیکھا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا ۔ابھی اور اسی وقت اپنا بوریا بسترا باندھو اور دفاں ہو جائو‘‘ ۔
خالد نے سخت غصے میں آکربُر ی طرح سے اس کو دھتکارتے ہوئے کہا اور چلا گیا۔
’’ممی کی بیماری ۔۔۔۔۔۔ پا پا کی غربت ۔۔۔۔۔۔ اور بھائی اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ مست ،اب کیا کیا جائے ۔۔۔۔۔۔؟‘‘ 
خالد کے جانے کے بعدنگہت کے دل میں شعلے سے اٹھنے لگے اور ذہن میں پریشان خیالات کا چرخہ چلنے لگا ۔ بہت دیرتک کام کرتے کرتے پریشان سوچوں کے تانوں بانوں میں اُلجھے رہنے کے بعد وہ اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے اپنے کمرے میں گئی اور فون پر اپنے والدین کے ساتھ باتیں کرنے لگی ۔جی بھر کے ان سے باتیں کرنے کے بعد عجلت میں موبائیل فون پر خالد کے نام ایک مسیج ٹائپ کرکے اسے بھیج دی ، بد حواسی کے عالم میں اپنے دوپٹے کو پنکھے کے ساتھ لٹکا کر پھندا بنایا اور تپائی پر چڑھ کر اپنے گلے میں ڈال دیا ۔
’’نگہت ۔۔۔۔۔۔ زندگی اللہ کی دی ہوئی انمول نعمت ہے اور خود کشی ایک گناہ عظیم ۔ تعلیم یافتہ ہوکر بھی تم ایسی گھناونی حرکت کرکے اوپر  والے کی نافرمانی کے ساتھ ساتھ ا اپنے والدین کے عزت کو مٹی میں ملائوگی‘‘۔
دفعتاً اس کے اندر سے آواز آئی۔
’’تو کیا کروں۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’اللہ کی رضا میں راضی رہنا سیکھو،وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا‘‘۔
وہ اپنی آنکھوں میں اُمڑ آئے سیلاب کو روکتے ہوئے اسی حالت میں سوچ و فکر کے اتھاہ سمندر میں کھو گئی ۔۔۔۔۔۔
ادھر نگہت کی مسیج پڑھتے ہی خا لد دفتر سے نکلا اور ٹیکسی پکڑ کر جلدی گھر پہنچ گیا ۔
’’ بس وہ آج ہی یہاں سے جانے والی ہے ‘‘۔
’’کیوں ؟‘‘
’’ کیوں کہ ہماری شادی میں بس وہی ایک رکاوٹ ہے جسے میں بھیا کو  شیشے میں اتارکرہٹانے میں کامیاب ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔
’’شادی۔۔۔۔۔۔  ؟کیسی شادی ؟میں تمہارے ساتھ کوئی شادی وادی کرنے والا نہیں ہوں‘‘۔
’’دھوکے باز ۔۔۔۔۔۔ کمینے۔۔۔۔۔۔‘‘۔
کہہ کر رضیہ ،جس کے مُنہ میں جیسے زبر دستی کڑوی گولیاں ٹھونس دی گئی ہوں، رونے لگی۔۔۔۔۔۔
گھر کے دروازے پر پہنچتے ہی فون پر بہن کی گفتگو سن کر خالد کے دل پر چھریاں چلنے لگیں ، وہ تیز تیز سیڑ ھیاں چڑھ کراپنے کمرے کے دروازے کو زور سے دھکا دے کر اندر ڈاخل ہوگیا اور نگہت کے گلے میں پھندا دیکھ کر ششدر رہ گیا۔
’’نگہت ۔۔۔۔۔۔ نگہت ۔۔۔۔۔۔ خدا کے لئے مجھے معاف کردو ،میں تمہارا گناہ گار ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘۔
گلے میں پھندا ڈالے تپائی پر کھڑی نگہت خالد کی آواز سن کر سوچوں کی دنیا سے باہر آگئی ۔اس کے ذہن کا نہ جانے کون سا پو شیدہ دریچہ وا ہو گیا کہ وہ  اطمینان سے گلے سے پھندا نکال کر تپائی سے نیچے آگئی ۔اتنی دیر میں رضیہ ،جس کے چہرے پر افسردگی اور مرونی کی برف سی جم گئی تھی ،بھی وہاں پہنچی لیکن شرمندگی کے باعث وہ نہ ہی نگہت اور نہ ہی اپنے بھائی سے آنکھ ملا سکی ۔
’’خالد ۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں دل سے معاف کر دیا ،مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے‘‘ ۔
نگہت ،جس کی نیلی نیلی جھیلوں کی اتھاہ گہرائیوں والی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسئوں موم بتی کے پگھلے ہوئے قطروں کی طرح لٹکے ہوئے تھے ، نے دل ہی دل میں خالد سے کہااوربظاہر اسے کچھ بات کئے بغیر اپنا ضروری سامان سمیٹ کر پُر اعتماد انداز میںگھر چھوڑ کر نکل گئی ۔ خالداوررضیہ شرمندگی کی حالت میںہاتھ ملتے ہوئے ہارے ہوئے جواریوں کی طرح دیکھتے رہ گئے۔ 
���
رابطہ ؛ اجس بانڈی پورہ (193502)کشمیر
موبائل نمبر؛9906526432،ای میلپ؛tariqs709@gmail.com
 

تازہ ترین