کیا ہم پہ یہ گزری؟

تاریخ    6 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
 
وبا یہ چینؔ سے چل کر اُدھر سے کیا ادھر گزری
اَجل انجام ہے اِس کا یہ عالم سے جدھر گُزری
 
بکھیرے بال و پر اپنے یہ بیٹھی مشرق و مغرب
ہر اک جاء ہے یہ واویلا اِدھر گزری اُدھر گزری
 
اچانک ایک خطے میں کبھی شب خُون یہ مارے
نہیں ٹھہرائو ہے اِس کا یہ دُوجے کے بھی گھر گزری
 
اِلٰہی آپ ہی جانیں بھلا یہ ماجرا کیا ہے
وبا ایسی یہ مہلک کیوں جہاں میں خُشک و ترگزری
 
طبیبِ وقت بھی اِس سے ہراساں اور نالاں ہے
بصورت ایک فاتح کے وبا ء یہ اُسکے سرگزری
 
پیامِ مرگ کا لے کر علم یہ چہار سُو گھومے
کسی کا نوجواں بیٹا یہ لیکر با پدر گُذری
 
تمہاری ذات سے ہم نے تعلق توڑ جو ڈالا
مؤجب اسکے بن کے سر سے وہ مثلِ شرر گزری
 
ابھی بھی وقت ہے عُشاقؔ غلط کاری سے توبہ کر
کہو گے ورنہ محشر میں بلا کیا ہم پہ یہ گزری
 
عشاقؔ کشتواڑی
کشتواڑ،موبائل نمبر؛9697524469
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
���
متعلم10ویں جماعت
 شوپیان،شاہِ ہمدان میموریل انسٹی چوٹ،
موبائل نمبر؛9697402129
 
غزلیات
دنیا سے ، بیزاری کیا؟
ایسی بھی، خوداری کیا!
 
سونے والی قوموں سے؟
ہوگی شب بیداری کیا !
 
ہنستے ہنستے،روتے ہو؟
ایسی بھی، مکاری کیا!
 
غم تو سب کو ملتے ہیں؟
ہر شب، آہ و زاری کیا !
 
کیوں گھُٹ گھُٹ کر بات کریں؟
لہجہ ہے، سرکاری کیا !
 
تم نے ہر اِک شاعر کو؟
سمجھا ہے ، درباری کیا!
 
رئیسؔ صِدّیقی 
(پرسار بھارتی کے سابق آئی بی ایس افسر)
rais.siddiqui.ibs@gmail.com
 
نہ جانے کب وہ پہلا سا زمانہ پھر یہاں ہوگا
نہ جانے کب خدا ہم پر دوبارہ مہرباں ہوگا
کہاں اور کس طرح ہم نے گزاری زندگی اپنی
کبھی تو پوچھا جائے گا، کبھی تو امتحان ہوگا
اگر باطل کی ہاں میں ہاں ملاتے ہم رہے یونہی
رہے گا نام ہی کوئی، نہ ہی کوئی نِشان ہوگا
بھٹکتے ہی رہیں گے ہم، الگ گر راستے ہونگے
پُکارے گی ہمیں منزل، مگر گُم کارواں ہوگا
ہو پختہ عزم اور ایمان بھی مضبوط ہوگا گر
مسیحا دوسروں کے واسطے وہ نوجواں ہوگا
کبھی یہ آہنی پنجرہ، زمین پر گِر کے ٹوٹے گا
کبھی تو سامنے اپنے کُھلا وہ آسمان ہوگا
صبح وہ آئے گی اک دن یہاں اِک بار پھر سے جب
چہکتی بُلبلیں ہونگی، مہکتا گلستان ہوگا
 
اے مجید وانی
احمد نگر، سرینگر، 
موبائل نمبر؛ 9697334305
 
 
دل میں تمہارے یاد ہماری نہیں رہی
پہلی سی ہم سے تم کو بھی یاری نہیں رہی
کیوں دیکھتے نہیں ہیں کبھی آپ اس طرف
صورت ہماری آپ کو پیاری نہیں رہی
دل ہم سے بھی لگاؤ! رکھو وصل غیر سے
فیشن نیا ہے! ذلت و خواری نہیں رہی
یوں تو ہمارے عشق کے چرچے بہت ہوئے
ہم سے کبھی بھی چاہ تمہاری نہیں رہی
تم بن ہماری زندگی جیسے ہے اب خزاں
پہلی سی اب تو بادِ بہاری نہیں رہی
وہ بارِ غم پڑا مرے سر پر ہے عشق میں
دنیا میں کوئی چیز بھی بھاری نہیں رہی
رویا ہوں تم سے مل کے بھی اتنا کہ اے صنم
تم سے بچھڑ کے گریہ و زاری نہیں رہی
تم کیا گئے کہ دل سے نشہ پیار کا گیا
بسملؔ شکستہ دل ہے خُماری نہیں رہی
 
 پریم ناتھ بسملؔ
مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار
رابطہ۔8340505230
 
 
مجھ سے کیوں چھین لی ہے خاموشی
میری تو زندگی ہے خاموشی
شور سے ریزہ ریزہ ہو کر بھی
خامشی میں پڑی ہے خاموشی
چاند تب کروٹیں بدلتا ہے 
بال جب کھولتی ہے خاموشی
میں کئی دن سے کھو گیا ہوں کہیں
اس لیے رو رہی  ہے خاموشی
 حالِ دل جب بھی میں سناتا ہوں
زور سے چیختی ہے خاموشی
جس طرح ہو کوئی حسیں دلہن
یوں سجا کے رکھی ہے خاموشی
 
سید مرتضیٰ بسملؔ
طالب علم :شعبہ اردو، ساؤتھ کیمپس یونیورسٹی آف کشمیر
شانگس اسلام آباد 
موبائل نمبر؛6005901367
 
ابھی اوراق پلٹے ہیں ابھی حساب باقی ہے
ابھی آغازِ منزل ہے ابھی تو خواب باقی ہے
 
گزر جاتو پہاڑوں سے نہ لے راستہ ہواؤں سے
تری منزل کی راہوں میں ہے جو عذاب باقی ہے
 
پڑھی چہروں پہ تحریریں جو ہیں اُن میںا بھی یارو
چند اک ابواب دیکھے ہیں اصل نصاب باقی ہے
 
چُھپا کے درد سینے میں لگایا زخم پر مرہم 
دکھاؤں کس کو درد اپنا کہ یہ انتخاب باقی ہے
 
ہے کانٹوں پر سفر تیرا ،عجب میرا بسیرا ہے
ترابیؔ بادلوں سے تو گزر آفتاب باقی ہے
 
چودھری ذکریا مصطفائی ترابیؔ 
اہرہ بل کولگام کشمیر
موبائل نمبر؛7889864454
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
حسین ؓ
جو جوانوں کی تمناؤں میں بھر دے بجلیاں
جو کرے راہِ خدا کی رہنمائی وہ حسین
نغمہِ توحید کی جس نے سُنا دیں دھڑکنیں
ناز جس کے ساز پر کر لے خدائی وہ حسین
راہِ حق میں جو کرے سب کچھ فدا وہ نامور
پھر بھی جس کی چشمِ پُر نم مسکرائی وہ حسین
دینِ حق کا بول بالا جو کرے وہ شہسوار
  روشنی جس کے لہو سے جگمگائی وہ حسین
  جس کی قربانی سے جذبوں کا چمن شاداب ہے
  عاشقوں کو معرفت کی مئے پلائی وہ حسین
کربلا کی خاک تُو رہیو گواہ اس بات پر
اُمّتِ مرحوم کی قسمت جگائی وہ حسین
راہبر بھی ' رہنما بھی راہ پیما بھی وہ ذات
جس کے سر پہ اولیاء کا تاجِ شاہی وہ حسین
وہ رسالت کے گلستاں کا گُلِ سرسبد ہے
جس کے قدموں کے تلے کشور کشائی وہ حسین
جس کے پاکیزہ لبوں کو چُھو لیا سرکار نے
آسمانوں سے بشارت جس کو آئی وہ حسین
  خاکِ پائے نازنیں ہی اک میری اِکسیر ہے
 ذکر جس کا کر رہا ہے یہ شِفائیؔ وہ حسین
 
ڈاکٹر شکیل شفائیؔ
بمنہ/سرینگر، کشمیر
 
 
 
 
 
 
 
غزل 
مجھ کو یارو اب یہاں جینے دو اپنے طور سے
ہر خوشی اور ہر ستم سہنے دو اپنے طورسے
کس لئے ہیں بندشیں، پہرے ہیں کیوں گُفتار پر
جس کے دِل میں جوبھی ہو ، کہنے دو اپنے طور سے
کِھل رہا ہے اپنے اپنے رنگ میں ہر گُل یہاں
سب کو اپنے باغ میں کِھلنے دو اپنے طور سے
اپنے وقتوں کی سبھی باتیں پرانی ہوگئیں
اب جہاں کا کاروان چلنے دو اپنے طور سے
مت ہٹائو مُلک کی تہذیب کے دیریں نقوش
جو جہاں ہے جوں کا توں رہنے دو اپنے طور سے
جو بزرگوں سے چلن ورثے میں ہم کو ہے ملا
ہم کو اُس کی پیروی کرنے دور اپنے طور سے
کتنی صدیوں سے یہ دریا بس یونہی بہتا رہا
اب اِسے اِس حال میں بہنے دو اپنے طور سے
کِتنے قصے اب بھی میرے ذہن میں ہیں مؤجزن
ہر پُرانی یاد کو رہنے دو اپنے طور سے
کِس لئے چھیڑی ہے تم نے پھر پُرانی داستاں
وہ پُرانے داغ اب دُھلنے دو اپنے طور سے
مت کہو شبیرؔ سے کل کیا ہوا کیسے ہوا؟
اُس کو کل کی داستاں لکھنے دو اپنے طور سے
 
جاوید شبیرؔ
اولڈ ائرپورٹ روڑ، راولپورہ، سرینگر
موبائل نمبر؛9419011881
 
 

تازہ ترین