کامیاب معاشرے کیلئے تعلیم نسواں ضروری

زاویہ نگاہ

تاریخ    3 ستمبر 2020 (00 : 02 AM)   


ندیم عالم ہدوی
’’تعلیم نسواں‘‘دو الفاظ کا مرکب ہے، تعلیم اور نسواں۔ تعلیم کا مطلب ہے ’’علم حاصل کرنا‘‘۔ نسواں ’’نسا‘‘سے ہے۔ جس کا مطلب ہے عورتیں۔ گویا تعلیم نسواں سے مراد عورتوں کی تعلیم ہے۔ علم اور تعلیم دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے۔
تاریخ مذاہب کے مطالعہ سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑکو تخلیق فرماکر جنت میں ٹھہرایا۔ حضرت آدم ؑ نے تمام نعمتوں کے موجود ہونے کے باوجود تنہائی و کمی محسوس کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت حواؑ کو پیدا فرمایا۔ گویا عورت کا وجود کائنات کی تکمیل کرتا ہے۔  
عورت اس کائنات کا جمال و شاہ کار اور دلکش وجود ہے۔ وہ گردش لیل ونہار کا ایک حسین اور کیف آور نغمہ ہے۔ جس کے دم سے حیات قائم ہے۔ عورت کے بغیر انسانی نسل کا استحکام اور نشوونما ناممکن ہے۔ بقائے حیات و معاشرے کا قیام و استحکام، جسمانی و روحانی آسودگی عورت ہی کے باعث ہے۔ عورت ماں کے روپ میں بے لوث محبت و شفقت و ہمدردی اور ایثار و قربانی کی انمول داستان ہے۔ عورت بیوی کی صورت میں خلوص، وفاداری اور چاہت کا حسین افسانہ ہے۔ عورت بہن کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمت ہے۔ تو بیٹی کے روپ میں خدا کی رحمت۔ سچ تو یہ ہے کہ عورت انسانیت کی عزت ہے۔ مذہب اسلام نے عورت کو مرد کے برابر مقام و مرتبہ عطا فرماکر اس کی حیثیت متعین کردی ہے بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اسلام نے عورت کو تحت الثریٰ سے اٹھا کر فوق الثریٰ تک پہنچادیا ہے۔
مذہب اسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلے میں ایک امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ یہ حصول علم ہرممکن زور دیتا ہے۔ قرآن حکیم میں تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ مقامات پر بلاواسطہ یا بالواسطہ حصول علم کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ پھر یہ مذہب مرد کی طرح عورت کے لیے بھی تعلیم کا حصول لازم قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ.(صحیح بخاری)۔ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن حکیم میں اس دعا کی ہدایت فرمائی گئی ہے: ’’اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما‘‘۔یوں گویا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے حصول علم کی رغبت و تعلیم دی گئی ہے۔ ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم و حکمت کو مومن کی گمشدہ متاع قرار دیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی مخصوص فرمارکھا تھا۔ ازواج مطہرات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دین کی باتیں سیکھ کر دیگر مسلمان خواتین کو سکھاتی تھیں۔ یوں دین کی تعلیم عورتوں تک بھی باقاعدہ پہنچتی رہی۔
بدقسمتی سے اسلامی تعلیمات کی ادھوری تفہیم اور انہی معاشرتی رسوم و رواج میں خلط ملط کرنے کے باعث خواتین کو ماضی میں علوم کے ذرائع اور تابع تک آزادانہ رسائی کا حق حاصل نہیں رہا۔ جس کی وجہ سے وہ نسل در نسل زیور تعلیم سے محروم رہیں۔ اور اگر انہیں گھر میں بھی دین کی تعلیم دی گئی تو وہ بھی اس معیار کی نہ تھی جس سے دین اسلام کا صحیح مفہوم انہیں معلوم ہوسکے اور وہ نئی نسل کی تربیت صحیح انداز میں کرسکیں۔
یہ بات خصوصاً برصغیر ہندو پاک کی مسلم خواتین پر صادق آتی ہے۔ انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو صحیح طرح نہ سمجھایا انہیں سمجھایا ہی نہ گیا اور انہوں نے مغربی تہذیب کی پیروی کرنا شروع کردی۔ جدید مغربی تعلیم مسلمان عورت کے لیے موزوں نہیں کہ یہ اسے اس کے اصل فرائض سے پہلو تہی پر اکساتی ہے۔
سر سید احمد خان کو بجا طور پر جدید تعلیم کا محرک و داعی سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ عورتوں کے لیے جدید مغرب زدہ تعلیم کو نقصان دہ سمجھتے ہیں وہ لکھتے ہیں:’’اے میری بہنو! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنا پرانا تعلیمی طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ وہی طریقہ تمہارے لیے دین اور دنیا میں بھلائی کا پھل دے گا اور کانٹوں میں پڑنے سے محفوظ رکھے گا۔ تمہارا فرض ہے کہ تم اپنے ایمان اور اسلام سے واقف ہو اور اس کی نیکی اور خدا کی عبادت کی خوبی کو تم جانو، اخلاق کی نیکی اور نیک دلی، رحم و محبت کی قدر سمجھو اور ان باتوں کو برتاؤ میں لاؤ۔ گھر کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھو، اپنے گھر کی مالکہ رہو۔ اس پر مثل شہزادی کے حکومت کرو اور مثل ایک لائق وزیر زادی کے منتظم رہو‘‘۔
سر سید احمد خان نے اس گفتگو میں خواتین کے طریقہ تعلیم، لازمہ تعلیم اور استعمال کا بہترین نقشہ کھینچا ہے۔ علامہ اقبال نے انہی خیالات کو یوں پیش کیا ہے:
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
روش مغرب ہے مد نظر
وضع مشرقی کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
علامہ اقبال اور کئی دیگر رہنما و شعرا نے عورت کو اسلامی اقدار کے مطابق حصول علم پر اکسایا ہے۔ مثلاً مولانا الطاف حسین حالی اپنی نظم ’’چپ کی داد‘‘ میں عورت میں حصول تعلیم کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے یوں گویا ہیں:
اے بے زبانوں کی زبانو، بے بسوں کی بازؤ
تعلیم نسواں کی مہم جو تم کو اب پیش آئی ہے
یہ مرحلہ آیا ہے تم سے پہلے جن قوموں کو پیش
منزل پہ گاڑی ان کی استقلال نے پہنچائی ہے
درحقیقت تعلیم ہی وہ زیور ہے جس سے عورت اپنے مقام سے آگاہ ہوکر اپنا اور معاشرے کا مقدر سنوار سکتی ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ کچھ بزرگ تعلیم نسواں کے متعلق بڑی غلط فہمی رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف لڑکوں ہی کو دینا ضروری ہے۔ تعلیم صرف روزگار کے لیے چاہیے۔ اس میدان میں صرف مردوں کو آنا چاہیے۔ عورتیں صرف باورچی خانے کے لیے پیدا ہوئی ہیں اور ان کی زندگی باورچی خانے سے شروع ہوکر دستر خوان پر ختم ہوجاتی ہے۔لیکن اس طرح کی باتیں ہرگز درست نہیں۔ عورتیں بھی انسان ہیں۔ علم کی روشنی انسان کو جینا سکھاتی ہے۔ 
 جاننا چاہیے کہ مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہئے ہیں۔ اگر ایک پہیہ تعلیم میں کافی آگے ہو اور دوسرا پنکچر ہو تو زندگی کا چکر تیز رفتاری سے نہیں چل سکتا اور گاڑی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ کوئی معاشرہ اور کوئی قوم اس وقت تک شاہراہ ترقی پر گامزن نہیں ہوسکتی جب تک مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے۔
کسی دانا کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ بچہ جو کچھ اس درس گاہ سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے کی بہترین تربیت کے لیے ماں تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔ مفکرین کی رائے ہیں:’’مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے، جبکہ عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے‘‘۔فرانس کے مشہور بادشاہ نپولین کا قول ہے :’’آپ مجھے اچھی مائیں دیں، میں آپ کو بہترین قوم دوں گا‘‘۔یہ حقیقت ہے کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی عورت کا ضرور ہوتا ہے۔ خواہ وہ سکندر اعظم کی ماں ہو یا شیوا جی کی جیجا ماتا۔ انگریزی زبان میں اس کا مفہوم یوں ادا کیا ہے ’’جو ہاتھ جھولا جھولاتا ہیں۔ یقینا وہی ہاتھ اس دنیا پر راج کرتاہے‘‘۔علامہ اقبال کے فارسی شعر کا مفہوم ہے:’’قوموں کو کیا پیش آچکا ہے؟ کیا پیش آسکتا ہے؟ اور کیا پیش آنے والا ہے یہ سب ماؤں کی جبینوں سے دیکھا جاسکتا ہے‘‘۔
گھر کی مثال ایک چھوٹی سی سلطنت جیسی ہے جس میں خاوند بادشاہ اور بیوی اس کی وزیر ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ بادشاہ تنہا اپنی سلطنت کا انتظام وانصرام نہیں سنبھال سکتا۔ اسے لازماً اپنے وزیر سے بھی مدد لینا پڑتی ہے۔ بادشاہ خواہ کتنا ہی منظم اور لائق کیوں نہ ہو اگر اس کا وزیر عقل مند اور مدبر نہ ہو تو وہ سلطنت کے امور میں بادشاہ کو صحیح مشورہ نہ دے پائے گا اور ایسی سلطنت بدنظمی کا شکار ہوکر رہ جائے گی۔ پھر اس کا زوال بھی یقینی ہوگا۔ لہٰذا گھریلو سلطنت کے انتظام کو چلانے کے لیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔
کسی بھی گھر کا نظام درست انداز میں چلانے کے لیے گھر کا بجٹ بنانا بہت ضروری ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت گھر کا حساب کتاب اچھے طریقے سے کرتی ہے۔ وہ کفایت شعار ہوتی ہے۔ وہ قرینے اور تربیت سے گھر کا نظام چلاتے ہوئے کچھ رقم بچا بھی لیتی ہے جو کہ مصیبت میں اس کے کام آتی ہے جبکہ ان پڑھ جاہل عورت ایسا نہیں کرسکتی۔ وہ حساب کتاب درست انداز میں نہیں کرسکتی۔ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی ہے۔ مہینے کے آخر پر گھر میں جھگڑے ہوتے ہیں۔ جس کا منفی اثر معصوم بچوں کے ذہنوں پر پڑتا ہے۔ ایسی ماؤں کے بچے مفید شہری بننے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یوں وہ ملکی ترقی میں مثبت کردار بھی ادا نہیں کرسکتے۔
بچوں کی مختلف بیماریوں سے حفاظت اور صحت مندی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ماں حفظان صحت کے اصولوں سے پوری طرح آگاہ ہو اور یہ علم کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔ پڑھی لکھی عورت ان اصولوں سے باخبر ہوتی ہے۔ وہ گھر کے ماحول کو صحت مند رکھ سکتی ہے۔ لیکن ایک جاہل عورت صحت و صفائی کے اصولوں سے بے خبر ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غیر صحت مندانہ ماحول سے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
مذہب کو انسانی زندگی میں خاص مقام حاصل ہے۔ مذہب کی بنیادی تعلیمات اور اہم مسائل سے آگاہی مرد کے ساتھ ساتھ عورت کے لیے بھی اشد ضروری ہے۔ دین ہی وہ کامیاب راستہ ہے جس پر چل کر انسان دنیوی و اخروی زندگی کو کامیاب و کامران بناسکتا ہے۔ پڑھی لکھی عورت مذہبی و دینی تعلیمات وسائل سے اچھی طرح آگاہی ہوتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کی تربیت دینی اصولوں کی روشنی میں بہتر انداز میں کرسکے کہ ملک و ملت کی تقدیر سنور سکتی ہے۔ لیکن ایک جاہل عورت دین و مذہب کی تعلیمات سے نا آشنا ہوتی ہے۔ وہ غیر سلیقہ شعار ہوتی ہے اور پھوڑ ہوتی ہے۔ لہذا وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے فرائض بھی اچھے طریقے سے ادا نہیں کرسکتی۔ جان لاک کا کہنا ہے کہ’’بچے کا ذہن ایک نادیدہ سلیٹ کی مانند ہے اور وہ جو اس پر رقم کردیا جائے وہ رقم تو ہوجاتا ہے لیکن مٹایا نہیں جاسکتا‘‘۔
موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اب وہی قوم یا ملک اس جہاں پر حکمرانی کرسکتا ہے جو علم اور ٹیکنالوجی میں ا?گے ہے۔ اگر کسی ملک کی نصف آبادی یعنی خواتین پسماندہ ہوں گی۔ تو وہ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتی۔ لہذا عورتوں کے لیے تعلیم کا حصول اور واقفیت عامہ یا معلومات عامہ کا جاننا نہایت ضروری ہوچکا ہے۔ آج کی دنیا نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کررہی ہے۔ اس لیے ایک پڑھی لکھی عورت ہی اس نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرسکتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ عورت اپنا مافی الضمیر آسانی سے دوسرے تک پہنچاسکتی ہے۔ وہ اپنی رائے کا اظہار بہتر طریقے سے کرسکتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کرسکتی ہے۔ وہ اپنے خاندان اور معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوتی ہے۔ جبکہ غیر تعلیم یافتہ عورتیں مفید شہری ثابت نہیں ہوسکتیں۔
 رابطہ۔ nadeemalam379@gmail.com
فون نمبر۔9207991095
 

تازہ ترین