تازہ ترین

نظمیں

تاریخ    30 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


 محبت کم نہیں ہوتی 

محبت بس محبت ہے
قیامت ہے تو آئے پھر
میں ہارو نگا میں واروں گا
اسے کوئی تو بھائے پھر
بچھڑنا ہے اسے اک دن 
تڑپنا ہے تمہیں اک دن
سکوت میں رہے گا وہ
بھٹکنا ہے تمہیں اک دن
اگر یہ جان کے بھی پھر اسی میداں میں گھومو گے
تو پھر اک بات بولوں میں؟
تمہیں سود و زیاں کا غم
کوئی زنجش کہیں پیہم
اسے کھونے کا بس اک غم
نہیں ہے! کیوں نہیں آخر؟
 

جواب

سنو اے ناصح سن لو
محبت ایک خواہش ہے
محبت خوشنما مرہم
محبت انتہا غم کی
محبت آزمائش ہے۔
محبت میں اگر دو دل بچھڑ کے دور ہوتے ہیں
بنا اک دوسرے کے وہ غموں سے چور ہوتے ہیں
نئے بندھن میں بندھیں سے
نئے سپنے سجانے سے
نئی دنیا بسانے سے
محبت کم نہیں ہوتی 
محبت دائمی سچ ہے
محبت کم نہیں ہوتی 
 
عقیل فاروق
طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی شوپیان،موبائل نمبر؛8491994633
 
نظم 
چمن زیر و زبر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم
گماں ایسا  اِدھر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم 
یہ کشتی غرق ہوگی کیا ہے نسبت نوح سے اس کو!
زمانے سے حذر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم 
یہ دُنیا ہے مکافاتِ عمل کا اک دبستاں کہ
نشاں بے عیب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم 
زمانے بھر دغا کی اب فضائے بد چلی ہے جو
یقین کر تُو مگر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم 
مکمل پاس اپنے ہو اگر منزل تو رستہ موڑ
کوئی نو خواب سر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم 
تذبذب،مخمصہ اور پھر ذرا سی بیقراری  ہو 
تو اے بیدل سفر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم 
نہیں ہوتا سوائے تیغ عالم میں شرف حاصل
سُخن ایسا جگر کرنے سے پہلے سوچ لینا تم 
 
اقبال خان عذیرؔ
کپوارہ کشمیر
siriqbal247@gmail.com