تازہ ترین

کشمیر میں ذہنی صحت کی بگڑتی صورتحال

اجمالی جائزہ اور کچھ مفید مشورے

تاریخ    17 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


ہلال احمد تانترے
عالمی ادارہ برائے صحت (WHO) نے لفظِ ـ’’صحت‘‘ کی جو تشریح کی ہے ، اُس میںانسان کے ذہنی صحت کو خصوصی طو رپر بیان کیا گیا ہے۔ کیوں کہ لوگ عموماً صحت کو محض جسم اور اس کے اعضاء کی تندرستی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جب کہ اِس کے ساتھ ساتھ انسان کا ایک نفسیاتی/ روحانی وجود بھی ہے جس کا صحت مند ہونا بھی اُتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ انسان کے بدن کا۔ 
شورش اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کشمیر میں ذہنی صحت(Mental Health) کی حالت تو ویسے ہی ابتر ہے، لیکن اگست2019 کے بعد کے’’سانحات‘‘ نے آگ پر جلتی کا کام کردیا ۔ وہیں جب کورنا لاک ڈائون نے لوگوں کو گھروں کے اندر محصور کر دیا، اُس سے ذہنی صحت کی ابتر صورتحال قابو سے باہر ہو گئی۔ انسانوں کے درمیان روابط میں کھلبلی مچ گئی، دوست احباب سے رابطہ کٹ گیا، ہمسایہ و رشتہ داروں کی خبر گیری کرنا بھی دشوار ہوگیا، گھومنے پھرنے پر پابندی عائد کردی گئی ، بچوں و بزرگوںسے متعلق طرح طرح کے خدشات لوگوں کے اندر پیدا ہو گئے۔ کشمیر کے اوپر ’’مسلط‘‘ کردہ ان سارے لاک ڈائونوں  کے ضمن میں یہ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اِس کے نتائج اب نہایت ہی مہلک نظر آرہے ہیں۔ 
بے روزگاری میں حد درجہ اضافہ ہوگیا، نوجوان دَر دَر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں، دہاڑی مزدور بھی کوئی کام کاج ڈھونڈنے سے قاصر ہیں، پرائیویٹ اسکولوں میں کام کر رہے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پسِ پُشت ڈال دیا گیا، معاشی سرگرمیوں میں جمود پیدا ہوگیا۔ سماجی سطح پر جو صورتحال سامنے آرہی ہے، اُس میں گھریلو تشدد و جھگڑوں کے اندر حددرجہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کسی ہمسایہ یا رشتہ دار کے گھر میں داخل ہونے پر ایک پابندی سی لگ گئی ہے۔ ایک دوسرے سے بات چیت کرنا یا حال احول پوچھنا بھی سنگین عمل بن چکا ہے۔ 
 نفسیاتی تناظر سے اگر دیکھا جائے تو یہ بات بِلا خوف و تردید کہی جا سکتی ہے کہ نفسیاتی صحت کے اندر اتنی ابتری آچکی ہے کہ آئے روز خود کشی کے نئے نئے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ کہیں کسی نے زہر کھا لیا، کسی نے پھانسی کے پھندے سے اپنی جان گنوا دی۔ اچانک اموات میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کہیں کوئی نوجوان اچانک موت(sudden death) کا شکار ہوتا ہے، کہیں کسی کو دل کا دورہ پڑ جاتا ہے، کہیں کسی صحت مند شخص کا اچانک انتقال ہو جاتا ہے، انسان صبح کے وقت نارمل ہوتا ہے لیکن شام کو اُس کا جنازہ پڑھ لیا جاتا ہے۔ ایسی خبریں اگر اخبارات کی زینت نہ بنتی ہوں، تب بھی ایسی صورتحال سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ کیوں کہ ایسے واقعات کشمیر کے طول و عرض میں کچھ عرصے سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ 
یہاں پر انسانوں کی اکثر یت بِنا موت کے ہر رُوز نااُمیدی کی موت مر رہی ہے۔ سیاسی و معاشی ابتری نے ہر کسی کے ذہن میں انتشار پید کر دیا ہے۔ ہر کوئی یہ بات کر رہا ہے کہ’’ سکون نہیں ہے ، صورتحال ہمارے آس پاس ٹھیک نہیںہے، سمجھ نہیں آرہا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے، آخر ہمارا بنے گا کیا؟‘‘ اِنہی سوالات کے اندر مگن ہر کوئی متفکر دکھائی دیتا ہے۔ کہیں کوئی اپنے بچوں کو لے کر تذبذب کا شکار ہے، کوئی تجارت کے سلسلے میں سرگرداں ہے، کوئی روزگار تلاش کرنے کے چکر میں پہیلیاں بجھاتا ہے، کسی کے گھر کے معاملات ٹھیک نہیں ہیں، کسی کاکسی کے ساتھ جھگڑا چل رہا ہے۔ اس ساری صورتحال نے بحیثیت مجموعی انسانوں کے کسی مخصوص حصے کو اپنی لپیٹ میں ہی نہیں لیا ہے، بلکہ اس کا شکار ہر کوئی بلا کسی لحاظ کے ہے۔
اُن تعلیم حاصل کر نے والے طالب علموں کوبھی اپنی دنیا اجڑتی دکھائی دے رہی ہے، جو کسی مسابقتی امتحان کی تیاری برسوں سے کر رہے ہیں ۔ اِن میں وہ غریب ماں پاب ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ بیچ کر بچے کو بیرون کشمیر پڑھائی کے سلسلے میں بھیجا تھا۔ اسی طرح اُن بے روزگار نوجوان کا حال بھی اَشک آور ہے جو یا تو اعلیٰ ڈگریاں ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں یا کسی امتحان کی تیاریوں میں برسوں سے مگن ہیں۔ لیکن نہ ہی بے روزگاری کا پلو اُن کی جان چھوڑ رہا ہے نہ ہی امتحان کی وہ گھڑیاں نزدیک آرہی ہیں ۔ 
صنعتی ترقی(Industrilisation) اور شہروں میں رہنے (Urbanisation) کی وجہ سے انسان کا انسان کے ساتھ رابطہ سکڑ گیا۔ ہمسایہ، رشتہ دار اور دوست سے انسان دور ہوتا چلا گیا۔ صنعتی ترقی سے مادی ترقی وقوع پذیر ہو گئی۔ جس کی وجہ سے انسان مادے کے پیچھے بہکتا چلا گیا۔ وہ ہمیشہ اسی دھن میں مگن رہا کہ کس طرح مادی ترقی کی منازل طے ہو جائیں۔ اُس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوگیا۔ لیکن اِس چیز سے اُس کے دماغ کے اندر یہ فکر جاگزیں ہوگئی کہ جو وقت میں ہمسایہ یا دوست کے ساتھ صرف کروں، کیوں نہ اسے کسی معاشی سرگرمی میں استعمال کیا جائے۔ انسان اتنا مادہ پرست ہوگیا کہ اب اُس کے پاس ہمسایہ دوست تو دُور کی بات، اپنے ہی بیوی بچوں کے لیے وقت  نہیں رہا۔ اور جب اُسے وقت مہیا ہو تا ہے تو وہ فخر سے یہ بات کہتا ہے کہ آج میں نے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وقت صرف کر دیا۔ وہ اس بات کو اس طرح ادا کرتا ہے جیسے کہ اس نے اپنے بیوی بچوں پر کوئی احسان کیا۔ ایسی طرز زندگی کو شہروں میں اِس درجہ فوقیت دی جاتی ہے کہ اسی کے اندر انسان کے بڑا ہونے کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ 
انسانوں کے مابین سکڑتے روابط کی وجوہات میں ایک اور وجہ سوشل میڈیا کو بھی جانا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا موبائل فون کے اندر قسم قسم کی ایسی ایپلی کیشنز فراہم کرتا ہے جن کے اندر انسان داخل ہو کر ایک خیالی دنیا میں گھومتا پھرتا ہے۔ اِن پلیٹ فارمز کے اندر غضب کی کشش ہے ۔ ہر کوئی کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر دوسروں کے ساتھ’’ ہوائی رابطے‘‘ بڑھانا چاہتا ہے۔ حالاںکہ اس کے صحیح استعمال میں کوئی قباحت تو نہیں ہے، لیکن اس نے جو وبائی صورتحال اختیار کی ہے وہ انتہائی تباہ کن ہے۔ اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ گھروں میں، اسکولوں میں، کالجز میں، دفاتر میں، نشست و برخاست میں بھی انسان موبائل فون کے اندر گم ہوکر کسی نہ کسی سوشل کے میڈیا پلیٹ فارم کے اندر دوسروں سے سرگوشیاں کرتا رہتا ہے۔ آس پاس جو انسان موجود ہوتے ہیں، اُن سے رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ گھر وں میں جہاں رات کے وقت سبھی افرد خانہ ایک ساتھ محو گفتگوہونے چاہئیں، وہیں ہر کوئی اپنے اپنے کمرے میں کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر موجود ہوتا ہے۔ اگر کہیں کوئی موجود نہیںہوتا تو وہ اپنا ہی گھر ہے۔ 
اس صورتحال کا تذکرہ کرنا اس لیے ضروری بن گیا، کیوں کہ اس کا بھی اُن وجوہات کو جنم دینے میں اہم کر دار ہے جس کی وجہ سے آج کل کے انسان کا نفسیاتی صحت انتہادرجے تک بگڑ چکا ہے۔ کیوں کہ مادیت کے چکر میں وہ وہ اپنے نفسیاتی و روحانی صحت کا خیال نہ رکھ پایا، اسی لیے تو وہ اس کے اندر اتنا مگن ہو گیا کہ اب کسی کے لیے وقت ہی مہیا نہیں ہے۔ نفسیاتی صحت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے بازار میںخریدا جا سکے یا جس کے خراب ہونے سے بازار سے دو چار دوائی کی گولیاں حاصل کی جائیں۔ اس کے لیے قدرت نے جو قانون بنایا ہے ،وہ یہ ہے کہ قدرت کے ساتھ کھلواڑ نہ کی جائے۔ انسان کو اگر سماجی سطح کا انسان بنایا گیا ہے تو کیوں اس کے پاس ہمسائیگی، رشتہ داری اور دوستی نبھانے کا وقت نہیں ہے۔ کیوں وہ اپنے دماغ کو کچھ دیر کے لیے آرام نہیں دیتا۔ کیوں وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے گھپے نہیںلگاتا۔ کیوں وہ اپنے افکار و خیالات کی صحیح نشو نما نہیں کرتا، کیوں وہ کچھ وقت سیر و تفریح پر خرچ نہیں کرتا؟ دفتری یا کاروباری کام چوبیسوں گھنٹے کر کے اگر وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اُس نے زیادہ کمائی حاصل کر لی ، تو ایسے شخص سے کم تر احمق کوئی اس دنیا میں ہو نہیں سکتا۔ گھر کے کمرے میں خود کو محصور کر کے موبائل فون کے اندر جھانک جھانک کر اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اچھا ٹائم پاس کر لیا تو ایسے شخص سے کم تر کوئی دھوکہ باز ہو نہیں سکتا۔ 
الغرض انسان کو اُس کے اِن تمام لوازمات کے تناظر میں زندگی بسر کرنی ہے جن کے مرکب سے ہی وہ انسان کہلاتا ہے۔ اُس کے اندر جہاں معاش اہم مقام رکھتا ہے وہیں رُوح بھی اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں معاش اس کی زندگی کا جزو لاینفک ہے وہیں نفسانیات کی بھی ایک دنیا اس کے اندر موجود ہے۔ جہاں اس کا اپنا آپ (Self)کثیر توجہ کا طلب گار ہوتا ہے وہیں سماج کے اندر رہ رہی باقی زندہ ذاتیں بھی اسی کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور وہ بھی توجہ طلب ہوتی ہیں ۔ اِن چیزوں کو اگر باہم متضاد نہ سمجھا جائے تو انسانوں کی زندگیاں اُن تمام مہلک بیماریوں سے دُور رہ سکتی ہیں جن کے شکار وہ آج کل ہو رہے ہیں۔ اِن چیزوں کے درمیاں ایک متوسط لکیر کھینچ کر دونوں کے تئیں کام کرنے کی ضرورت ہے، جبھی تو انسانی شکایات کم ہو نگی۔
یہ ہے وہ حقیقی صورتحال جسے اختصار کے ساتھ یہاں  پیش کیا گیا۔ امید ہے کہ اس سے کسی کو کوئی مفر نہیں ہوگا۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک بات تو طے ہے کہ ہر بیماری کا ایک علاج ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ذہنی ہیجان، ذہنی خلفشار، ذہنی دبائو، ڈیپریشن، ناامیدی، یا ایسی ہی نفسیاتی بیماریوں کابھی علاج موجود ہے۔ باقی بیماریوں کے مقابلے میں اس بیماری کا علاج نہایت ہی کفایتی، کارگر اور گھریلو قسم کا ہے۔   
٭انسان کا انسان کے ساتھ رابطہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔ ناگفتہ بہہ صورتحال کے مواقع پر ایک دوسرے سے زیادہ رابطہ بڑھانے کی کوشش کریں۔ ان مواقع پر آپس کی بات چیت کو بھی تھوڑا زیادہ ہی وقت دینا چاہیے۔ انسان جب اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسے نفسیات کے علم Venting out  کی اصطلاح سے جانا جاتا ہے۔ 
٭لاک ڈائون ہو یا ہڑتال، کسی بھی صورت میں اپنے آپ کو چار دیواری کے اندر مقید نہیں کرنا چاہیے ۔ کمرے میں رہنا اگر چہ کتنا ہی سود مند ہو تب بھی باہر کی دنیا میں تھوڑا سا وقت گزارنے کی ضرورت ہے ۔ آس پاس کے انسانوں کے ساتھ دو چار باتیں کر لیں۔ سلام کلام کرلیں۔
٭اپنے گھر والوں کے ساتھ بات چیت کے دورانیے کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ بال بچوں کے ساتھ معیاری قسم کی بحثیں چھیڑیے۔ بڑے اور بزرگوں کی بھی سنیے۔ ان کے ساتھ بھی اچھے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں۔ 
٭احتیاطی تدابیر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پکنک پر جائیے۔ اپنے گھر والوں یا دوستوں کے ہمراہ باہر گھومنے پھیرنے کے لیے وقت نکالیے۔ 
٭کھیل کود میں بھی خاطر خواہ حصہ لیجیے۔ کھیل کود جسمانی و ذہنی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اگر آوٹ ڈور نہیں تو اِن ڈور کھیلوں کا قیام کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ 
٭ اپنی مذہبی رسومات کا پابند رہیے۔ اپنے خدا کے ساتھ رابطہ بڑھائیے۔ اسی سے دعا و مناجات کریں۔ اگر کوئی شکایت ہو تو اُس کے سامنے گڑ گڑایے۔ اُسی کے سامنے اپنے دل کی بڑھاس نکالیے۔ اُسی سے خیر کی طلب کریں۔ 
٭ مطالعہ کیجیے۔ کتابیں انسان کی شخصیت سازی میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ کُتب بینی کا انسان کے ذہنی صحت پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اچھی اچھی اور امید افزاء کتابوں کی ورق گردانی کریں۔ ہو سکے تو اپنے احساسات و خیالات کو بھی قلمبند کریں ۔ 
٭اپنے عادات و اطوار کو صحیح کریں۔ اگر کوئی غلط عادت پڑ گئی ہے، اُسے جلداَز جلد چھوڑیے۔ اچھی عادات ڈالیے۔ کام کاج وہ کریں جسے دل کو سکون ملتا ہو اور جن کاموں سے دل آزردہ ہو جاتا ہو، اُن سے دُور رہیے۔
٭ اگر کسی کو کسی بھی طرح مدد کرنے کا موقع ملے تو ضرور کریں۔ اس کام کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر انجام دیجیے۔ کسی کی مدد کرنے کے بعد جو تسکین رُوح کو پہنچتی ہے ، اُسے کسی کی مدد کرنے کے بعد ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
٭ بے کاری سے بچیں۔ اپنے آپ کو کسی نہ کسی اچھے کام میں مصروف رکھیں۔ یہ کچھ دستی نسخے نمونے کے اعتبار سے ہیں۔ ماہرین نفسیات کی فہرست اس حوالے سے بہت لمبی ہے، جن سے بھی استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
(مضمون نگار جامعہ کشمیر کے شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں اور اُن سے اِی میل hilal.nzm@gmail.comپررابطہ کیاجاسکتا ہے)

تازہ ترین