غزلیات

تاریخ    16 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


زندگی مرغزار کیا ہوگی
یہ خزاں پُر بہار کیا ہوگی
 
آہنی روزوشب کی صدیوں میں 
صورتِ انتظار کیا ہوگی
 
جینے مرنے کا فرق کھو بیٹھی
زندگی اور خوار کیا ہوگی
 
لبِ اظہار کے دوراہے پر
خامشی زیرِ بار کیا ہوگی
 
فکرِ سود و زیاں ہو جامد تو
کوششِ کار و بار کیا ہوگی
 
کامیابی کے سیلِ باطل میں
معتبر کوئی ہار کیا ہوگی
 
حنیف ترین
صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس،
جامعہ نگر،نئی دہلی، حال راولپورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9971730422
 
 
مسلسل مسکرائے جا رہا ہے
وہ زخموں کو چُھپائے جارہا ہے
مجھے دیکھا نہیں اک بار مڑ کر
یہی غم مجھ کو کھائے جارہا ہے
سمندر تیری آنکھوں کا اے ہمدم 
گھروندوں کو گرائے جارہا ہے
یہ جو سینے میں ہے طوفان برپا
نشاں دل کے مٹائے جارہا ہے
نیا سورج اُبھر آیا ہے پھر بھی
وہ شمعیں ہی جلائے جارہا ہے
تمہارے شہر کا ہر آدمی کیوں
مجھے ہی آزمائے جارہا ہے
ثمر ؔکی آنکھ بھر آتی ہے جن سے
وہی قصے سنائے جارہاہے
 
سحرش ثمرؔ
فردوس نگر۔علی گڑھ
 
 
 
 اپنے حالات کو سینے میں دبانے والے 
اس نئے دور میں لوگوں کو ہنسانے والے 
 
تو نے تیزاب سے پودے مرے جُھلسا ڈالے 
جا ترے پیڑ پہ بھی پھل نہیں آنے والے 
 
اس لئے نیند بھی آنکھوں سے اُڑی ہے شاید 
میری تعبیر نہ تھے خواب میں آنے والے 
 
رائیگاں دیکھ دھواں بھی نہ گیا بستی سے 
رو پڑے لوگ مرے گھر کو جلانے والے 
 
یاد ماضی کو کرو گے تو رہو گے پیچھے 
دن جو گزرے ہیں وہ واپس نہیں آنے والے
 
لوگ ہنس دیں گے دلاسہ نہیں دیں گے تجھ کو 
اپنے حالات زمانے کو بتانے والے 
 
اہل فنِ ہوتے ہیں کچھ ایسے ہی ساحلؔ صاحب 
موم کی نائو کو شعلوں پہ چلانے والے
 
 مراد ساحل ؔ
دوحہ، قطر،موبائل نمبر؛9405187859
 
 
 
 
مُرجھا چکے گُل یاد کے ' ذکرِ گلستاں کیا کریں
تالے پڑے جذبات پر شہرِ خموشاں کیا کریں
 
مت یاد کر اُس دور کو رسوائیاں جس کو ملیں
آثار دل پر اب تلک اس کے نمایاں کیا کریں
 
پتّھر کبھی پانی ہوا ' صحرا بہ گلشن ڈھل گیا
میرے ہی زخموں پر پڑا ہر دم نمکداں کیا کریں
 
ابرِ کرم اک بار تُو نگری مِری آ کے برس
مدّت سے فصلِ اشک ہے سُلگے فروزاں کیا کریں
 
رونق گئی اُجڑا چمن، پنچھی بچھڑ کر گُم ہوئے
دریا کنارے ہار کر بیٹھا ہے دہقاں کیا کریں
 
بادل فلک پر تیر کر گمنام منزل کو چلے
ہیں تشنگی میں اب تلک دل کے یہ ارماں کیا کریں
 
پایا جو رازِ عشق کو کانٹوں پہ گذری زندگی
زخموں سے بھی کرنا پڑا گھر میں چراغاں کیا کریں
 
اک شخص تھا باحوصلہ ،بلبل چہکتا تھا بڑا
پھر یک بیک تھم سا گیا اُس کا وہ طوفاں کیا کریں
 
شکیل شفائیؔ
بمنہ/سرینگر، کشمیر،
 
 
خوشی میں نگاہوں کو نم دیکھتے ہیں
کہ ہم دھوپ چھاوں بہم دیکھتے ہیں
لٹیرے یہاں تخت شاہی پہ بیٹھیں
بھلے بے خطا سر قلم دیکھتے ہیں
ہنسی خواب میں بھی نہ ہونٹوں پہ پائی
مگر روز لاکھوں ستم دیکھتے ہیں
سمے کے حصاروں سے اک دن نکل کر
قدم سے ملا کر قدم دیکھتے ہیں
مروت، صداقت کہاں ہے زمیں پر
نصابوں میں خالی رقم دیکھتے ہیں
نہ بادہ، نہ شیشہ، نہ خُم کی ہے حاجت
تمہاری نگاہیں صنم دیکھتے ہیں
بڑی آس عارفؔ کلی کو ہے لیکن
بہاروں کے آثار کم دیکھتے ہیں
 
جاوید عارفؔ
پہانو شوپیان کشمیر
موبائل نمبر؛7006800298
 
 
روشنی دِل کی جب بجھا لینا
راستے میں دِیا جلا لینا
 
یہ جہاں غم کا اِِِک بسیرا ہے
آنسوئوں سے اَگن بُجھا لینا
 
مطلبی لوگ ہیں زمانے کے
بھول کر بھی نہ دل لگا لینا
 
چند گھڑیوں کی ساری خوشیاں ہیں
یاد دل میں نہ تو بسا لینا
 
غم ہمیشہ خوشی کے ساتھ رہا
قربتوں میں نہ غم بُھلا لینا
 
عشق ہوتی ہے جو بھی شے صورتؔ
اِس سے پیچھا نہ اب چُھڑا لینا
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9419364540
 
 
خزاں شبی میں جوتیرے غم کو سجا لیا تو کیا کروگی
کبھی تجھی سےجو تجھ کو میں نے چُرا لیا تو کیا کروگی
تجھی میں سمٹوں، مروں میں ہمدم ترے ہی دل ہو فغان وماتم
تُجھے جدا کر تُجھی کو تُجھ سے ملا لیا تو کیا کروگی
طلوحِ دم سے غروبِ دم تک خدا سے میری مخالفت کر
مگر میں تُجھ کو دم ِتہجد سے پا لیا تو کیا کروگی
نظر نظر کی وہ شوخیاںتو نظر سے یکدم ملا ئیو نا
کہ جو نظر نے نظر سے یکسر گرا لیا تو کیا کروگی
میں روتے روتے تجھے یوں اکژہنساتا نا ہوں وفا کے دم پر
کہ ہنستے ہنستے جو تو نے خود کو رُلا لیا تو کیا کروگی
جو تو نے مجھ کو شکایتوں سے رہا کیا تو کیا کروں گا
جو میں نے تجھ کو محبتوںمیں بُھلا لیا تو کیا کروگی
تو اپنے فن سے مری حقیقت کو اک شبیہہ نہ کر کہ میں جو
ترے تصور کو اک رُباعی بنا لیا تو کیا کروگی
یہ ملحدوں کا نگر ہے اور یاں تجھے خدا کر رہا ہے مظہرؔ
جو اس ہی دعوے پہ سر وہ اپناکٹا لیا تو کیا کروگی
 
ساعد حمزہ مظہرؔ
دریش کدل سرینگر
موبائل نمبر؛8825054483
 
 
گونجے نہ فضا میں کبھی نغمات یقیں کے
دیکھے نہ زباں پر تیری کلمات یقیں کے
 
اِک بُت بھی تراشے گا نہیں دل یہ مرا اب
پامال ہوئے ہیں سبھی آلات یقیں کے
 
آنگن میں اُداسی کا میرے میلہ لگا ہے
ٹل جائیں گے کس روز یہ خطرات یقیں کے
 
اِ ک بار محبت میں ذرا دل لُٹا کے دیکھ
کھل جائیں کے تم پر بھی فسادات یقیں کے
 
قائل ہوئی ہوں جب سے میں بلذات یقیں کی
ظاہر ہوئے تم پر بھی فسادات یقیں کے
 
یوسف سے اُس اللہ کی رحمت کا ذکر کر 
تم بھول نہ پائو گے عنایات یقیں کے
 
عذراؔتجھے رہبر ہی کہیں چھوڑ نہ جائے
ملتے نہیں رہزن میں کمالات یقیں کے
 
عذرا ؔحکاک
سرینگر،کشمیر
bintegulzaar@gmail.com
 

تازہ ترین