تازہ ترین

شوپیان میں راجوری کے 3مزدروں کی مبینہ ہلاکت

اہل خانہ کی پولیس افسران سے ملاقات، فوری تحقیقات کا مطالبہ، ڈی این اے چانچ کرائینگے :پولیس

تاریخ    12 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


سمت بھارگو
 
راجوری//شوپیاں انکائونٹر میں 18 جولائی کے بعد لاپتہ ہونے والے راجوری کے تین لڑکوں کے گھر والوں نے پولیس افسران سے مطالبہ کیاہے کہ وہ فاسٹ ٹریک بنیاد پر تحقیقات کروائیں اور انکائونٹر میں مارے گئے تین افراد کی نعشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔ تینوں لاپتہ نوجوانوں کے اہل خانہ نے مقامی سماجی کارکن گفتار احمد چوہدری کے ہمراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اور سینئر سپرانٹنڈنٹ پولیس راجوری سے راجوری پولیس ہیڈ کوارٹرمیں ملاقات کی۔بعد ازآں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محمد ابرار ولد بگا خان ساکن دھارساکری ، محمد امتیاز ولد صابر حسین ساکن ددھارساکری اور ابرار احمد ولد محمد یوسف ساکن ترکسی اجرت کے سلسلے میں شوپیاں گئے ہوئے تھے جہاں سے وہ 17 جولائی کی شام تک گھروالوں کے ساتھ رابطے میں رہے لیکن اس کے بعد ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا’’ہمارے لڑکے لاپتہ ہیں اور ہم سب تشویش میں ہیں‘‘۔انہوں نے کچھ سوشل میڈیا رپورٹس کے بارے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جن لاشوں کی تصاویر سماجی رابطہ گاہوں پر آئی ہیں ان سے اہل خانہ نے گمشدہ مزدروں کی شناخت کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تینوں لڑکے 18 جولائی کو شوپیاں میں ہوئے ایک انکائونٹر میں مبینہ طور پر فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ان کاکہناتھا’’ہم نے پولیس افسران کے سامنے مطالبات رکھے ہیں کہ لڑکوں کی گمشدگی پر تیز رفتار تحقیقات کی جائے اور شناخت کی تصدیق کے لئے 18 جولائی کو شوپیان انکائونٹر میں ہلاک ہونے والے تین افراد کا ڈی این اے کروایاجائے ،ہمیں امید ہے کہ اس پورے معاملے کی تفتیش کی جائے گی اور حقیقت سامنے آئے گی‘‘۔ان کا مزید کہناتھا’’تینوں کاعسکریت پسندی سے کوئی واسطہ نہیں تھا اور وہ شوپیاں روزی روٹی کمانے کے لئے گئے تھے‘‘۔اس دوران سینئر سپرانٹنڈنٹ پولیس راجوری چندن کوہلی نے کہا کہ کنبہ کے افراد نے ان سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات کو پیش کیا اورانہوں نے انہیں ہر ممکن قانونی مدد کا یقین دلایا ہے۔ان کاکہناتھا’’یہ معاملہ کشمیر میں ہمارے ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا جارہا ہے‘‘۔ 

پولیس بیان

پولیس بیان کے مطابق18جولائی کو امشی پورہ میں ہوئی جھڑپ کے بعد 3لاشوں کو پولیس کنٹرول روم سرینگر میں شناخت کیلئے رکھا گیا اور شناخت کرنے کے لئے معقول وقت بھی دیا گیا ،تاہم جب لاشوں کی شناخت نہ ہوسکی توانہیں مجسٹریٹ کی موجودگی میں سپردخاک کیاگیا اور ان کے ڈی این اے نمونے بھی حاصل کئے گئے۔ پولیس نے کہا ہے کہ میڈیا رپورٹوں اور اہل خانہ کی جانب سے دعویٰ کرنے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے شوپیان پولیس ان دعوئوں کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے گی اور ڈی این اے نمونے حاصل کرے گی تاکہ انہیں ملایا جاسکے۔ بیاں میں مزید کہا گیا ہے’’ شناخت کے علاوہ پولیس دیگر سبھی عوامل  قانون کے مطابق  بھی جانچنے کی کوشش بھی کرے گی۔ اس دوران فوج نے بھی سوشل میڈیا اور اہل خانہ  کے دعوئوں کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ہے۔
 

تصادم کو فرضی قرار دیناامن خراب کرنیکی کوشش:فاروق خان

عارف بلوچ
 
اننت ناگ// لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق احمد خان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ شوپیاں تصادم کو فرضی قرار دے کر ایک بارپھر وادی کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اننت ناگ میں ایک میٹنگ کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مشیر نے کہا کہ تین افراد کے لاپتہ ہونے کے بارے میں کچھ اطلاعات ہیں ،تاہم انکوائری شروع کردی گئی ہے اور بہت جلد حقائق سامنے آجائیں گے۔مشیر نے کہا کہ کچھ بھٹکے نوجوانوں کی جانب سے پنچوں و سرپنچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی نمائندے کسی سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ لوگ گائوں کی ترقی کے لئے منتخب ہوتے ہیں،لہذا ایسے افراد کو قتل کرنا بزدلی ہے جس کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
 
 
 
 

بے گناہوں کی ہلاکتیں خاطیوں کو سزادی جائے:این سی 

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان جسٹس(ر)حسنین مسعودی اور ایڈوکیٹ محمداکبر لون نے شوپیان میں 28 جولائی کوبظاہر ایک فرضی تصادم آرائی میں تین مزدوروں کی ہلاکت پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے حقائق کو عوام کے سامنے لانے کی مانگ کرتے ہوئے فرضی جھڑپ میں راجوری کے تین بے گناہ نوجوانوں کی ہلاکت کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی قراردیتے ہوئے کہا کہ حفاظتی فورسز کے دعوئوں کے بعد مہلوکین کے لواحقین کے بیانات سے ساراواقعہ پراسرار ہوگیا ہے اورا س سے ایک ڈرائونے  اور گھنائونے جرم کے ارتکاب کی بو آرہی ہے ۔ اس کیلئے ایک اعلیٰ سطحی، غیر جانبدارانہ اور معیاد بند تحقیقات ضروری ہے تاکہ خاطیوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔