مایوسی۔۔۔!

جو نہیںوہ خواب،جو ہے وہ لاجواب

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


مسکان گل
ہر انسان کی زندگی میں کم از کم ایسے تین مرحلے آتے ہیں جب وہ شدید مایوسی کا شکار ہوتا ہے ۔ایک جب زندگی اسے مسلسل ناکامی سے دوچار کرتی ہے اور وہ تھک ہار کر جدوجہد ترک کردیتا ہے ۔دوسرا جب وہ زندگی میں کامیابی کو چھونے لگتا مگر اچانک اپنے سے زیادہ ذہین اورکامیاب لوگوں کو دیکھ کر اُن سے حسد کرنے لگتا ہے اور دلبرداشتہ ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔اور تیسرا تب جب وہ محبت میں ناکام ہوتا ہے۔دنیا میں ناکام لوگ تلاش کرنا مشکل کام نہیں ،ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جاتے ہیں ۔مایوسی ان میں ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس مایوسی کے اثرات کے مربع فٹ تک محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔تاہم اس شخص (ناکام شخص)کو ہی کلی طور پر مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ دنیا اس قدر سفاک ہے کہ یہاں کوئی بھی شریف آدمی زیادہ عرصے تک محض اپنی شرافت کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ضروری ہے کہ شرافت کے ساتھ ساتھ اس کے پاس کوئی ایسی گذر سبیل بھی ہو جو اُسے بے رحم معاشرے میں عزت سے جینے کے قابل بنا سکے۔بعض اوقات زندگی میں کامیابی کے لئے کچھ لوگوں سے نفرت کرنا بھی ضروری ہے یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ کچھ لوگوں سے آپ کی نفرت زندگی میں کامیابی کا باعث بن جاتی ہے (ممکن ہے آپ کو نفرت کا لفظ پسند نہ آئے یہاں نفرت سے مراد venomہے)۔آپ کچھ ایسے لوگوں کی فہرست بنالیں جو آپ سے کم ذہین ہو مگر آپ سے آگے ہوں ، اُس فہرست کو اپنے ساتھ رکھیں ،آپ اُس سے عبرت پاسکتے ہیں اور جب بھی آپ اُس فہرست کی طرف نظر ڈالیں گے تو اپنے سے نااہل اور کم ذہین لوگوں کی کامیابی آپ کو چین سے نہیں جینے دے گی اور یہ آپ کی کامیابی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک بات اپنے دل سے نکال دیں کہ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کامیاب نہ ہوپائے تو دوسروں کو بھی برباد کریں گے ، ہرگزنہیں! یہ سراسر آپکی خوش فہمی  ہوگی کیونکہ اگر کوئی انسان کسی کے لئے بُراسوچتا ہے تو اس کے ساتھ بھی بُرا ہی ہوجاتا ہے ۔اس بات پر عمل درآمد کے ضمن میں ایک بات کا خیال رکھیں کہ اپنی کسی ناکامی کا جواز اس بات میں ہرگز نہ کیا جائے کہ جن لوگوں کی آپ نے فہرست بنائی تھی آپ اُن کا مقابلہ اس لئے نہیں کرسکتے کیونکہ وہ لوگ دو نمبر کے کام کرتے ہیں اور آپ فرشتے ہیں۔یاد رکھیں کہ میٹرک سنہ میں عمر کم کروانے سے لے کر امتحان میں نکل آنے تک اور نوکری کے حصول کے لئے تجربے کا جھوٹا سرٹیفیکٹ بنوانے سے لے کر ویزے(Visa)کے لئے جعلی دستاویزات تیار کرنے تک  ہم وہ تمام دو نمبر کے کام کرتے ہیں جہاں ہمارا بس چلتا ہے۔تاہم اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں کامیابی کے لئے غیر قانونی ہتھکنڈے اپنانا جائز ہے۔مطلب صرف اتنا ہے کہ ناکامی کا کوئی جواز نہیں ہوتا ۔انسان کو اُس وقت بھی خاصی مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ کامیابی کے قریب تو ہوتا ہے مگر اپنے سے زیادہ قابل اور بظاہر عقل مند لوگوں کی چکا چوندزندگی اُسے حسد میں مبتلا کردیتی ہے اور وہ بجائے محنت کرنے کے یہ سوچ کر دلبرداشتہ ہوجاتا ہے کہ وہ ان لوگوں جتنا ذہین نہیں، لہٰذا کامیابی کے اس معیار کو کبھی نہیں چھو پائے گا، سَر پٹکنے کا کیا فائدہ!
اکثر لوگ دوسروں کی چمچماتی گاڑیاں اور محل نما کوٹھیاں دیکھ کر اآہیں بھرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کاش میں بھی ایسا ہی نصیب لے کر پیدا ہواہوتا ۔پر یہ بات سوچنے سے پہلے اس بات کا بھی خیال کریں کہ بیلنس شیٹ (Balance Sheet)میں صرف اثاثے ہی نہیں قرضے بھی ہوتے ہیں۔دنیا میں بڑے سے بڑا چارٹر اکونٹ بھی ایسی بیلنس شیٹ نہیں بنا سکتا جس میں صرف Assestsہوں اور Liabilitiesنہ ہوں۔تو کیا کُل کائنات کے چارٹر اکونٹ سے یہی اُمید لگائی جاسکتی ہے کہ وہ ایسا اکاونٹ بنائیں جس میں دونوں سائیڈ برابر ہوں ۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ تصویر کے دونوں رُخ دیکھیں ۔یہ بات ہر ایک شخص کو معلوم ہوگی کہ ’’کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے‘‘سو ہمیں اگر کچھ بھی حاصل کرنا،اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو اُس کے لئے محنت لگتی ہے جو اگر ہم کریں تو کامیابی خود چل کر ہمارے پاس آئے گی ۔
مایوسی کی تیسری بڑی وجہ محبت میں ناکامی ہے جو شخص محبت میں تازہ تازہ ناکام ہوتا ہے اس کے سامنے لاکھ سر ٹپکیں ،سچی محبت کا فلسفہ سمجھائیں یا رومانیت کی طرف قائل کرنے کی کوشش کریں ،اس کی سوئی تب تک وہیں اَٹکی رہتی ہے جب تک اُسے یہ نہیں پتہ چلتا ہے جس کی خاطر وہ اس طرح ٹوٹے ہوئے ہیں وہ تو اطمینان سے اپنے خاوند کے ساتھ نئی نویلی دلہن بن کر گھوم رہی ہے اور آپ ہے کہ ہاتھ میں جام لئے دیوداس بنے بیٹھے ہیں۔دنیا کے ننانوے فیصد عاشق اور محبوب جو ناکام ہوئے ہیں وہ خوش خرم زندگی گزارتے ہیں مگر یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ اگر وہ مایوسی کا دور صبر سے گزاریں،باقی ایک فیصد لوگ جو عشق میں ناکامی کے بعد دیوداس بن کر خود کی زندگی تباہ و برباد کرتے ہیں تو اُن کو ہم یہ بات بتادیں کہ اُن کے جانے سے کچھ نہیں بدلتا ۔لوگ چاردن یاد کرتے ہیں اور پھر چاہ کر بھی کبھی اپنے بچوں کے سامنے اُن کا نام نہیں لیتے کہ کہیں ہمارے بچوں پر اس کے بُرے اثرات پڑیں گے۔
آخر پر بس اتنی سی گزارش ہے کہ اگر آپ زندگی میں کبھی بھی ،کسی بھی مرحلے پر ناکام ہوجاتے تو اپنے من میں یہ بات ڈال دیں کہ صرف آپ میں یہ خاصیت ہے کہ آپ پھر سے کھڑے ہوسکتے ہیں اور اگر آپ کو کوئی بھی مجبوراً یا جان بوجھ کوئی چیز کھونا بھی پڑے تو یہ بات یاد رکھیں ’’جو کھویا ہے اُس کا غم نہیں جو پایا ہے وہ کسی سے کم نہیں۔جو نہیں ہے وہ اِک خواب ہے اور جو ہے وہ لاجواب ہے‘‘۔
چیوڈارہ ،بیروہ بڈگام
darmuskan13@gmail.com
 

تازہ ترین