تازہ ترین

شوپیان جھڑپ میں راجوری کے 3مزدور وں کی مبینہ ہلاکت

سوشل میڈیا پر کہرام،فوج کی طرف سے تحقیقات سے متعلق بیان جاری

تاریخ    11 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


شبیر ابن یوسف
سرینگر//شوپیاں میں گزشتہ ماہ راجوری کے3مزدوروں کی جھڑپ میں ہلاکت سے متعلق سماجی میڈیا پر الزامات کے گھنٹوں بعد ہی فوج نے پیر کو کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ فوج نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے کہا’’ہم نے شوپیاں میں 18 جولائی2020کو آپریشن سے متعلق سماجی میڈیا پر اطلاعات کو نوٹ کیا‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگجوئوں کی شناخت نہیں ہوئی اور انہیں ضوابط کے تحت سپرد خاک کیا گیا۔کرنل کالیہ نے کہا’’ جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے3جنگجوئوں کی شناخت نہیں ہوئی اور نعشوں کو موجودہ ضوابط کے تحت سپرد خاک کیا گیا‘‘۔کرنل کالیہ نے کہا کہ فوج اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پیر صبح سے ہی سماجی میڈیا پر یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ راجوری کے3شہری،جو شوپیاں میں مزدوری کیلئے آئے تھے، امشی پورہ جھڑپ میں مارے گئے۔ سماجی میڈیا کے صارفین نے اپنے پیغامات میں الزامات عائد کیا ہے کہ تصاویر سے ان کے رشتہ داروں نے اپنے بچوں کو پہچانا ہے۔ اس سے قبل18جولائی کو پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شوپیاں ضلع کے امشی پورہ علاقے میں62آرآر کو مصدقہ اطلاعات ملی کہ وہاں پر جنگجو ہیں،جس کے بعد اس علاقے میں فوج نے آپریشن شروع کیا۔بیان میں کہا گیا کہ تلاشیوں کے دوران جنگجوئوں نے فوجی اہلکاروںپر فائرنگ کی اور جھڑپ شروع ہوئی،جبکہ بعد میں پولیس اور سی آر پی ایف بھی آپریشن میں شامل ہوئی۔بیان کے مطابق جھڑپ کے دوران3عدم شناخت جنگجو مارے گئے،جبکہ تینوں جنگجوئوں کی نعشوں کو جائے تصادم سے برآمد کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔پولیس نے کہا تھا’’ مارے گئے جنگجوئوں کی نعشوں کو طبی و قانونی لوازمات بشمول ’’ڈی این ائے‘‘ حاصل کرنے کے بعد آخری رسومات کیلئے بارہمولہ روانہ کیا گیا‘‘۔پولیس بیان میں مزید کہا گیا تھا’’ اگر کوئی  خاندان مارے گئے جنگجوئوںکو اپنے بچوں کے طور پر دعویٰ کرتی ہے تو وہ نشاندہی اور بارہمولہ میں انکے آخری رسومات میں شمولیت کرنے کیلئے آگئے آئیں۔
 
 

راجوری کے 3 مزدور شوپیان میں لاپتہ

۔18جولائی سے کوئی رابطہ نہیں،پولیس میں رپورٹ درج

سمت بھارگو
 
راجوری//راجوری کے دھار ساکری اور ترکسی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مزدور پیشہ تین نوجوان شوپیان میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔ان تینوں افراد کی گمشدگی کی اطلاع ان کے کنبہ کے افراد نے پولیس چوکی پیڑی میں درج کرائی ہے جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ذرائع کے مطابق 26سالہ ابرار احمد ولد محمد یوسف ساکن ترکسی ، 21سالہ محمد امتیاز ولد صابر حسین ساکن دھار ساکری اور 18 سالہ محمد عمران ولد بگا خان ساکن دھار ساکری مزدوری کے سلسلے میں کشمیر گئے ہوئے تھے لیکن 18 جولائی سے لاپتہ ہیں۔دھار ساکری کے رہائشی محمد امتیاز کے چچا لال حسین نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ اس کا بھتیجا (امتیاز) 2 جولائی کو گھر سے روانہ ہوا اور شوپیان پہنچا جہاں اس نے مزدوری شروع کی۔انہوں نے بتایا’’ہم اس سے مستقل بنیادوں پر بات کرتے تھے اور وہ تعمیراتی مقامات کے ساتھ ساتھ باغات میں بھی روزانہ کام کررہاتھااور کام کی جگہ پر ہی رہتاتھا کیونکہ اس کے پاس کوئی رہائش نہیں تھی‘‘۔انہوں نے مزید بتایا’’17 جولائی کو ہمارے علاقے سے دو اور لڑکے (محمد عمران اور ابرار احمد) وہاں پہنچے اور امتیاز کے ساتھ شامل ہوگئے جس کے بعد تینوں نے کرایہ پر کمرہ لیا‘‘۔انہوں نے کہا ’’امتیاز نے مجھے 17 جولائی کی صبح ساڑھے سات بجے فون کیا اور بتایا کہ اس علاقے کے دو اور لڑکے اس کے ساتھ ہیں اور انہوں نے رہائش کے لئے ایک کمرہ لیا ہے اور ضروری سامان خریدا ہے جس میں راشن بھی شامل ہے ‘‘۔تاہم انہوں نے بتایاکہ اس کے بعد اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور اس کا فون نمبر بند ہے۔لاپتہ ابرار احمد ساکن ترکسی کے والد محمد یوسف نے بتایا کہ اس کا بیٹا تقریباً ساڑھے تین سال تک کویت میں ملازمت کرتا رہااور مزدور کی حیثیت سے پہلی بار وادی کشمیر گیا۔انہوں نے بتایاکہ اس کاامتیاز سے رابطہ تھا جو جولائی کے ابتدائی دنوں میں وہاں گیا تھا اوران کابیٹا اپنے بہنوئی (18سال کا ابرار) کیساتھ شوپیان گیا۔انہوں نے بتایا’’میرے بیٹے نے 17 جولائی کو شام کے اوقات میں اپنی اہلیہ کوفون کیا اور اپنے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ ان تینوں نے ایک کمرہ کرایہ پر لیا ہے اور اب اسی میں رہ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزدوری کے کام کی تلاش کریں گے‘‘۔لاپتہ نوجوان کے والد کے مطابق ’’میں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم تینوں لڑکوں کا سراغ لگائیں اور ان کی واپسی کو یقینی بنائیں کیونکہ ہم سب گھبراہٹ کا شکار ہیں‘‘۔علاقے کے پنچ ارشاد احمد نے بتایا کہ تینوں کے لاپتہ ہونے کی باضابطہ شکایت مقامی پولیس چوکی میں درج کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا’’لاپتہ لڑکے میں سے دو میرے پنچ وارڈکتھونی محلہ سے ہیں اور ان کے اہل خانہ نے مجھ سے رابطہ کیا جس کے بعد ہم پیڑی پولیس چوکی گئے جہاں تیسرے لاپتہ شخص کے اہل خانہ بھی پہنچے اور ہم نے پولیس چوکی میں شکایت درج کروائی ہے‘‘۔دھار ساکری کے سرپنچ اعجاز احمد کاکہناہے’’ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی تیز رفتار تحقیقات کریں اور تینوں لاپتہ افراد کا سراغ لگائیں‘‘۔ دریں اثنا ، ایڈیشنل ایس پی راجوری ، لیاقت علی نے بتایا کہ کنڈی تھانے کی پیڑی پولیس چوکی میں تین افراد کی گمشدگی کی اطلاع درج کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا’’ہمیں ان کے اہل خانہ سے ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور رپورٹ درج کی گئی ہے ،ہم نے کشمیر میں اپنے ہم منصبوں کو مزید تفتیش اور ان کا پتہ لگانے میں مدد کے لئے تینوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کردیاہے‘‘۔
 

الطاف بخاری اور تاریگامی کاعدالتی تحقیقات کامطالبہ

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//جموں وکشمیر اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے ضلع راجوری کے تین غریب مزدوروں کی گمشدگی کا راز جاننے کے لئے معیاد بند غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ایک بیان میں بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پرزور دیا ہے کہ تین مزدوروں امتیاز احمد ولد ساگر حسین، ابرار احمد ولد بگا خان اور ابرار احمد ولد محمد یوسف جن کا 17جولائی سے کوئی اتہ پتہ نہیں، کی گمشدگی کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’لیفٹیننٹ گورنر جموں وکشمیر سربراہی والی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سنجیدہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا حکم دے گی ۔انہوں نے کہا کہ اُن کی گمشدگی کے پیچھے کی سچائی کو جلد ازجلد سامنے لایاجاناچاہئے ۔ادھرسی پی آئی ایم نے شوپیاںمیں17جولائی کوراجوری کے 3مزدوروں کے لاپتہ ہونے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے معیاد بند عدالتی تحقیقات کرنے کی مانگ کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق تینوں ایک دن قبل اُس وقت لاپتہ ہوگئے جب سیکورٹی فورسز نے شوپیاں میں 3غیر شناخت شدہ جنگجوئوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر تصدیق شدہ رپورٹ کے مطابق لاپتہ مزدوروں کوشوپیاں میں18جولائی کو ہوئے فرضی تصادم آرائی میں مارا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیںصدمہ خیز ہیں اور موجودہ ہائی کورٹ کے جج سے معیاد بند وقت کے اندر تحقیقات کی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میںماضی میں انعامات اور ترقیوں کیلئے شہریوں کی ہلاکتیں کی گئی ہیں اور2010کی بے چینی مژھل فرضی جھڑپ کی وجہ تھی۔ بیان میںکہاگیا کہ جو ان ہیبت ناک جرائم میں ملوث ثابت پائے جائیں گے، ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے۔ ادھر پی ڈی پی نے 3مزدورں کی ہلاکت کو انتہائی خوفناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعہ نے جموں و کشمیر کو تباہی کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔پارٹی ترجمان نے کہاکہ راجوری سے لاپتہ3 مزدوروں کی ہلاکت نے حالیہ مہینوں میں ایسی تمام جھڑپوںپر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر لاشوں کی شناخت نہ کرنے یا انہیں اہل خانہ کے حوالے نہ کرنے اور انہیں دور درازمقامات پر دفن کرنے کے فیصلے پر۔ترجمان نے کہا کہ  کشمیر میں مسلح افواج کو بے گناہ لوگوں کو حراست میں رکھنے ، ان پر تشدد کرنے یا ان کو ہلاک کرنے کے لئے چھوٹ دی گئی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حالیہ مقابلوں کی غیر جانبدارانہ اور اعلی سطحی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

 

تازہ ترین