رسہ کشی اور مقابلہ آرائی کی لہر | کرونا ئی کثافت سے زیادہ زہریلی

گفت و شنید

تاریخ    10 اگست 2020 (30 : 01 AM)   


معراج مسکین
اقوام عالم خاص طور مسلم ممالک میں شیطانی قوتوں کے سازشی ہتھکنڈے ایک ایسے وقت میں زور و شور کے ساتھ پروان چڑھائے جارہے ہیں،جب ساری دنیا کورونا کی وبامیں مبتلا ہے اور کئی قومیں جنگ کی تباہ کاریوں، پُر اسرا ر آگ کے حملوں،شدید بارشوں، سیلاب،اورنسلی تعصب کے چکر ویو میںپھنسی ہوئی ہیںاور معاشی بدحالی ،بے کاری،بے روز گاری ،خانہ بدوشی اور بھکمری کی حالت میں دَر بہ دَر بھٹک رہی ہیں۔ظاہر ہے کہ جہاں کرونائی قہر نے ہر خاص وعام کے ذہن سے موجودہ سائنسی و ٹیکنالوجیکل ترقی پرانحصارو اعتبار زائل کردیا ہے وہیں اس تیز رفتار دور کےترقی و خوشحالی کے تمام تر دعوے داروں کے منہ پر بھی کالک پوت دی ہے۔شائد کالک کے داغ دھبوں کو مٹانے کے لئے ترقی و خوشحالی کے یہ دعویداراب دنیا میں نئی کثافت کو فروغ دینے کے لئے نئے ہتھکنڈے اور بہانے تراش رہے ہوں، تاکہ منصوبہ بندنیا نظام پرانے نظام کی جگہ لے لیں اور نئی خرابیاںپرانی خرابیوں کی جگہ پرلائی جاسکیں۔خیر کچھ بھی ہو ،آثار یہی نظر آرہے ہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے مابین باہمی رسہ کشی،چپکلش ،کشیدگی اور مقابلہ داری کی جو نئی لہر پیدا کی گئی ہے وہ کرونائی کثافت سے زیادہ زہر آلود ثابت ہوسکتی ہے۔
قارئین کرام ! بلا شبہ ساری دنیا اس وقت کورونا کی مہلک بیماری سے نبرد آزما ہے اور انسانی معاشرے میں ایک خوف ووحشت کا ماحول جاری ہے۔ اس وبائی بیماری نے دنیا کی ترقی کےراز ایسے ا فشا کرکے رکھ دیئےکہ ہر ملک ،ہر ملت اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیتیںبذات ِ خودجانچنے اور پرکھنے کے پیمانے اُن کی نظروں کے سامنےآ چکے ہیں۔اپنے آپ کو سپر پاور، طاقت ور اوردولت منداورشہنشاہ سمجھ کر دنیا پر اپنی دھونس جتانے والے ممالک بھی اس وائرس کے ہاتھوں انتہائی بے بس ہوچکے ہیں۔کورونا ئی قہر نے ایک طرف جہاںبیشتر قوموں كکی زندگی گذارنے کے خدو خال ورنگ ڈھنگ تبدیل کروادیئے ہیںوہیں اُن کے سوچنے سمجھنےکے انداز تک بدل ڈالے ہیں۔ تا حال دنیامیں کورونائی قہر کا سب سے بڑا مار کھانے والا طاقتور ملک امریکہ ،جہاں خانہ جنگی جیسی صورت حال ہے وہیں وہ اپنی قوم کی توجہ کرونائی قہر سے ہٹانے اور اپنی سُپر میسی برقرار رکھنے کے لئے اپنےشیطانی منصوبوں پر بدستور عمل پیرا ہےاور اپنے حواریوںکے ساتھ مل کرشیطانی چالیں چل کر دنیا کوایک بہت بڑے جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔جس کے نتیجے میںنہ صرف دنیا کی لگ بھگ نصف آبادی پر مشتمل دوبڑے ملک بھارت اور چین کی باہمی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ عرب و عجم کے بہت سے ملکوں کے باہم بھی  دشمنی اوراَہنکار شدت اختیارکرکے تباہی اور بربادی کا عندیہ دے رہی ہے۔ جس سے یہ بات نمایاں ہوتی جارہی ہے کہ کروناکے دوران ہی كدنیا پہلے جیسے ہی نہیںرہنے والی ہے بلکہ ہر سطح پر بڑی بڑی تبدیلیاں ہونا ناگزیر ہیں۔
قارئین کرام ! کرونا وائرس نے جہاں کئی طاقتور اور خوشحال ملکوںکی ترقیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے وہیں کئی ترقی پزیرملکوں کی نام نہاد خوشحالیوں کی تما م تر دلیلیںجھوٹی ثابت کردی ہیں۔کرونا وائرس نے انہیں اُن کی اوقات کا احساس دلایا ہے کہ انہیں اپنے قوموں کی بھلائی اور بہبودی کے لئے جو کچھ کرنا چاہیے تھا وہ تو انہوں نے کیا ہی نہیں ،بلکہ محض اپنی بادشاہی ،حکمرانی،ہٹ دھرمی، انّا پرستی اور تعصب کی بنیاد پر دنیا کی تباہی کے لئے سامان تو بہت کیے مگر یہ سوچا ہی نہیں کہ اگر کسی وائرس کی صورت میں ان پر کوئی قدرتی آفت نازل ہوئی تو اس سے کیسے بچا جاسکے اور اپنے عوام کو کیسے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔چنانچہ کوویڈ ۔19نے جب  دنیا پر حملہ کیا تو پتہ چلا کہ امریکہ اورامریکہ جیسے ترقی پسند ملکوں کے پاس بھی نہ تو مناسب ہسپتال ہیں اور نہ ہی ضروری طبی آلات بلکہ کورونا سے بچائو کی ویکسین تک دستیاب نہیں ، اگرچہ مختلف حوالوں سے کورونا کا تذکرہ تو سننے میں آتا رہا لیکن شاید دنیا کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس نام کا کوئی عذاب کبھی اس پر مسلط ہو سکتا ہے جبھی تو  ہر ملک نے انسان اور انسانیت کو مٹانے اور ایک دوسرے کے ملکوں کو تباہ و بُرباد کرنےکے لئے بہت سارے سامان تو کردئے مگرکسی نے اس وائرس کے مقابلے کی تیاری ہی نہیں کی ۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں اس مرض سے مرنے والوں کی تعدادسینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ چکی ہے اور متاثرین کروڑوں میں ہیںجبکہ مرنے والوں کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو کہیں رپورٹ ہی نہیں ہوئی ہے۔طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اس وقت بھی اس قہر سے بچنے یا اس پر قابو پانے کے لئے عالمی سطح پر جو کچھ ہورہا ہے یا منظر عام پر آرہا ہےاس میں کوئی یکسوئی نظر آرہی ہے اور نہ ہی انسان اور انسانیت کی بقا کا کوئی مثبت پہلودکھائی دے رہا ہے۔جس سے یہی عندیہ مل رہا ہے کہ کرونا کا قہر بھی اُس گمراہ انسان کی کم ظرفی ،رذالت،طبقانیت،رنگ و نسل ،منافرت اور تفریق کو مٹا نہیں پارہا ہے جس کی بدولت آج ساری دنیاعذاب میں مبتلا ہے۔گویایہ انسان آج بھی اسی نہج پر قائم ہے جہاں طاقت،اَنا،خود سری اورسرکشی سے صرف مفروضوں اور دلیلوںکو تقویت ملتی رہتی ہےاور انسانیت،سچائی اور انصاف کی تذلیل ہورہی ہے۔
قارئین کرام !فارن پاليسی ميگزين کے ایک سروے رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سےکہا گیا کہ’’ کرونائی وباپوری دنيا کے منظرنامے کو بدل دے گی یعنی کوروؔنا کے بعد دنیا ناقابل تصور حد تک تبديل ہو جائے گی،کئ ممالک کی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی ،معاشی سرگرمياں مفلوج ہوکر رہیں گی اور بڑ ے اور طاقتور ممالک ميں رسہ کشی بامِ عروج پر پہنچےگی ، عالمی کساد بازاری کی انتہا ہوگی۔ چين و امريکہ ، چین و بھارت،امریکہ ایران اور بھارت و پاکستان کے ساتھ ساتھ عرب و ایران ،اسرائیل و ایران،عرب و ترک اور عرب و پاکستان کے درميان جاری کشيدگی اور مقابلہ داری ساری دنیا کے لئے پيچيدگی کا سبب بنے گی، عالمی معاشيات کے پيمانے بدل جائيں گے – ،ترقی پذير ممالک کورونا سے سب سے زيادہ متاثر ہوں گے، بے روزگاری کئ ممالک كکے سماجی تانے بانےمتاثر کردے گی ،بھکمری سے بے شمار اموات ہوگی اور آپسی رسہ كکشی او ر اختلافات كکی وجہ سے معاشرت زمین بوس ہو جائے گی‘‘۔عالمی ماہرین کے یہ خیالات اور خدشات کہاں تک درست ثابت ہوں گےیہ تو وقت ہی بتائے گا ،تاہم اتنا تو سچ ہےکہ كکورونا ئی فضا میں ہم پہلی جیسی زندگی جی تو نہیںرہے ہیں۔ اگر سماجی لحاظ سے غور كکريں تو کافی تبديلی واقع ہو چکی ہے، خاندانی تعلقات نے نئے رنگ و روپ اختيا رکرلئے ہيں، قربت كکی جگہ پر دوری کو  نے لے لی ہے ، انفراديت کو فروغ ملا ہے، رشتے ناطے بذريعہ فون يا وہاٹس اَپ پرنبھائے جانے لگے ہيں، عبادت گاہوں،گھروں اور تفریح گاہوں كمیں مجلسيں مفقود ہو گئ ہيں، اورسماجی رابطے آن لائن ہو گئے ہيں۔ يہ تبديليا ں اس وقت ہيں جب کہ کورؔونا اپنے  انتہا پر نہیں پہنچی ہےاور ہمارا تعليمی نظام تبدیل کرکے رکھ دیا ہے، نرسری سے ليکر يونيورسٹی تک ہر مرحلے كمیں تعليم آن لائن ميں تبديل ہوگئی ہے،جبکہ آن لائن كکلاس کرنے والوں ك تعداد زيادہ ہے اور وسائل کم۔اوپن يونيورسٹيز كکی معنويت ميں اضافہ ہو گيا ہے، آن لائن ہی ريسرچ كکلاسز اورکانفرنسزکا انعقا د ہو رہا ہے۔ تجارتی اعتبار سے بات کی جائے تو ہر طرف خستہ حال صورت حال واضح نظر آرہی ہے،کاروبار کو بحال کرنے کے لئےمشروط بنیادوں پر باری باری تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی پالیسی بنائی گئی ہے ۔ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائےتوہر فردکی شہری آزادی اور انسانی حقوق پر مزيد قدغن لگ گئی ہے۔جابرانہ اور استحصالی نظام كکی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، ہروقت انسان کومشینی آلات كے گھیرے ميں رکھا جارہا ہے، جس كے ذريعے اسکی نقل وحرکت پر نظر رکھی جارہی ہے ۔حالانکہ کورونا وائرس کے بعد جب دنیا پہلے لاک ڈائون میں جانے و الی تھی ،تو ہمارا کشمیر ایک طویل لاک ڈائون سے نکلنے والا تھا ، لیکن نکل نہ سکا۔ وقفہ وقفہ کے بعدلاک ڈائون کے اندر لاک ڈائون میں چلا گیا۔  دہشت گردی کے بہانے کرفیو پہ کرفیو کی زد میں رہا۔اب جبکہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بھارت کےیکطرفہ اقدام کو ایک برس بیت گیا۔ اس دوران بھی کشمیریوں کو رام کرنے کی مودی سرکار کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔گویا 365 دن گزر جانے کے باوجود کشمیر میں حالات نارمل نہیں ہوئے۔بغور دیکھا جائے تو کشمیر دنیا کا واحد خطہ ہوگا جہاں ایک طویل عرصے سے لوگ قید کی زندگی گزار رہے ہیں۔
دراصل یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کو ڈرا کے رکھنا چاہتا ہے ،وہ ایسی شۓتلاش کرتا رہتا ہے جس سے وہ طاقتور کہلائے اور دوسرے اس کے آگے گھٹنے ٹیک دیں،اس کی عقل کے مطابق جو چیز جتنی گہرائی، وسعت، طاقت، فائدہ، اور خوف کا تاثر دیتی ہے ،وہ اسی کے زیرِ دام آکر اُسی کے تابع ہو جا تا ہے۔ یوں اچھا ئی برائی، سزا، جزا، انعام، عذاب کی فکر میں مبتلا رہ کر ظلم اور عجز کا مظاہرہ کرتارہتا ہے۔  لوگوں کا پیٹ بھرےیا  بھوکا ر ہے، وہ انہیں موت یا زندگی دینے کا مجاز بن جاتا ہے۔اسی فطرت کا انسان آج کی دنیا میں عام ہےجس میں اقوام عالم کے زیادہ ترحکمران بھی شامل ہیںجو اسی فطرت کےتحت اس دنیا کو چلاتے آرہے ہیں اورآگے بھی چلانے کی کوششوں میںمصروف ِ عمل ہیں۔
 

تازہ ترین