دفعہ370کی منسوخی کاایک سال | دلّی نے پایا کم ،کھویا بہت زیادہ

دوطرفہ مسئلہ اب3فریقین کیساتھ بین الاقوامی مسئلہ بن گیا

تاریخ    10 اگست 2020 (30 : 01 AM)   


حسیب درابو
5گست 2019کونریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ پچھلے سال کا مطلب کیا ہے اور یہ خطہ اب کیسا دکھتا ہے۔
 اکتوبر انقلاب سے عین قبل لینن نے ٹراٹسکی سے پوچھا "اگر ہم کامیاب نہیں ہوئے تو کیا ہوگا؟" ٹراٹسکی نے جواب دیا "اور اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا؟" جہاں حکومت میںشامل ہر شخص نے لینن کا سوال ضرور پوچھا ہوگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت میں کسی نے بھی 5 اگست 2019 کی آئینی بغاوت سے پہلے ٹراٹسکی کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔
365روز گزر جانے کے بعد وادی کشمیر 300 دن سے زیادہ کے لئے بند رہی ۔ ایک سیاسی لاک جام کے تحت جنوری کے آخر تک اور پھر مارچ کے بعد وبائی لاک ڈاؤن،جو ابھی بھی جاری ہے۔اطلاعات کی رسائی پر قدغن اس قدر سخت تھی کہ مقامی کاغذات صبح کے وقت مفید ہوسکتے تھے لیکن پڑھنے کے لئے نہیں۔ انتظامیہ پر بیوروکریٹک گرفت میںفریقین کوشامل کئے بغیر ، مقامی سیاسی شمولیت یا عوامی شراکت نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر 1931 سے پہلے کے عہد تک جا پہنچا ہے۔
 اہل کشمیر کے لئے ایک سال 1990 کی دہائی میں عسکریت پسندی کے عروج سے بھی بدتر رہا ہے۔ جسمانی تشدد سے زیادہ ، اس بار لوگوں کو نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں شدید ذلت اور دھونس دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ، جیسا کہ یہ دماغ اور جسم پر ہونے والے جسمانی ضرب کے مترادف ایک حملہ تھا۔
کشمیر میں مقامی خوف اور خدشات کو بڑھانے کے لئے ریاست یا سرکار نے سیاسی تبصروں اور ارابطوںکی ایک مضبوط شکل ، افواہوں کا استعمال کیا۔’’کمزوروں کے ہتھیار‘‘ کے کلاسیکی آلہ کو نفسیاتی تشدد کے ایک آلے میں تبدیل کیاگیا جس نے خوف اور غیر یقینی صورتحال کے اظہار کے بجائے تجربے میں مزید اضافہ کیا۔ زندگی جہنم بن گئی۔ ایک عام تاثر جسے پورے سال کشمیریوں کے مختلف طبقوں سے سنا جاتا ہے ، اس کا لب لباب یہ تھا کہ "ہوا بھاری ہے اور اس سے دم گھٹ جاتا ہے"۔
 ایک معاشرے کے لئے،جو پہلے سے ہی ایک سیاسی ، انفرادی اور علامتی شکلوںمیں تشدد کاشکارہے ، نفسیاتی بربریت نے بقول ماہر انسانیت وینا داس کے "انفرادی ، برادری اور قوم کے تجربات" کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
 تب بھی کوئی تعجب کی بات نہیں کہ افواہوں کا جو حلقہ ارباب اختیار کے ریعہ تیار کیا گیا تھا اورجس پران کا مکمل قابو تھا، اب لوگوں کے ذریعے انھیں یقین دہانی کی زبان میں دوبارہ تشکیل دیاجارہاہے "زندہ رہنے کے لئے مزاحمت کریں"۔ خاموشی کا ماحول جس سے کشمیر کا دم گھٹ رہا ہے وہ پیر پنچال کے آرپار جوش و خروش کے ڈھول نگارے میں ڈوبا ہوا ہے۔
اب جو پیغام بلند آوازمیں اور واضح طور پرسامنے آرہا ہے ، وہ یہ ہے کہ 5 اگست 2019 کو کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ، داخلی سلامتی کا مسئلہ اور بین الاقوامی اثرات کے ساتھ ایک دو طرفہ مسئلہ تھا۔ ایک سال بعد آج کشمیر ایک فرقہ وارانہ ہندو مسلم مسئلہ ، اندرونی اور بیرونی سلامتی کا خطرہ اور ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کے کم از کم تین خودمختار سٹیک ہولڈرس ہیں۔
 لہٰذا ، بی جے پی نے بہت سی سیاسی کوششوں اور آسانی کے ساتھ کشمیر کو ہندوستان کے ایک "مسلم مسئلہ" میں تبدیل کردیا ہے۔ یہ اس وقت بھی نہیں تھا جب 1989 میں کشمیری پنڈتوں کو زبردستی بھاگ جانے پر مجبور کیا گیا تھا ، اس کے باوجود اُس وقت غیر متنازعہ طور پر فرقہ وارانہ دباؤتھااوربعد ازاںدونوں طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا تھا۔
 اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیری قوم پرستی کے ارتقا اور گذشتہ کئی سالوں کے تنازعہ میں مذہبی جذبات کا ایک اہم کردار رہا ہے۔اس کے باوجود یہ سیاست اور سیاسی جدوجہد کی نمایاں خصوصیت کبھی نہیں رہا ہے۔ ایک مسلم مسئلے کی حیثیت سے پیش کرنے سے ، اب مذہبی شناخت کشمیر میں قدیم نسلی شناختوںپر فوقیت حاصل کر رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کی یہ واضح مسلم کاری نہایت ہی تکمیلی حد تک پاکستان کی معاونت سے چلنے والی ایک نسلی قومی تحریک کو اسلامی رنگ میں رنگنے میںمعاون ثابت ہورہی ہے۔
 مسئلہ کشمیر جو اب تک دو آئینوں کے تحت لوگوں اوران کے حقوق کے بارے میں معاشرتی معاہدے کی عکاسی کرتا تھا،وہ اب مذہبی عقیدے اور مذہبی گروہوں کے بارے میں ہے جو ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہیں۔ اس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں دونوں طریقوں سے ،اول کس طرح اس تنازعہ کو مذہب سے منسوب کیاجارہا ہے اور دوم کس طرح ایک قابل قبول حل اور اعتباریت کو حل کے ہدف کے حصول کیلئے واضح کیاجاتا ہے۔ تعجب کی بات نہیں کہ ڈومیسائل قواعد میں تیزی سے تبدیلیاں کی گئیں اور منفرد خصوصیات کے ساتھ صرف جموںوکشمیر پر قابل اطلاق حد بندی شروع کی گئی ہے۔کوشش یہ ہے کہ آبادیاتی اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔ اس سے نمائندگی کی قوت سے بیگانگی یقینی بنائے گی۔ باقی خود بخود ہوجائے گا۔
یہ سب ایک ایسے وقت میں کشمیر میں ہورہا ہے جب ہندوستانی مسلمانوں کو’’تنہا’’کرنے کے ناقابل تردید عمل کے براہ راست نتیجہ کے طور بقیہ ہندوستان میں "مسلم مسئلہ" نئے سرے سے ناسور بن چکا ہے۔ مسلمانوں پر (دوسری مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ) براہ راست حملوں کے علاوہ ، "یک و تنہا کرنا" ہندوؤں کی سیاسی بالادستی کا بھی آئینہ دار ہے۔ یہ سب آئین ہند کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے کیا جارہا ہے ، جس سے ایک عوامی جمہوریہ کو ایک بڑی اکثریت پسند جمہوریت بننے کی راہ ہموار ہورہی ہے۔
 بین الاقوامی سطح پر ان پیشرفتوں نے کشمیر کے تناظر اور اس کے تاثرات کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ اب تک قومی اور بین الاقوامی سطح پرکشمیر میں کسی بھی کارروائی کو ہندوستان کی علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے کے جواب اور اس کے بدلہ کے طور پرجائز سمجھا جاتا تھا۔ عالمی برادری نے ایک منفی نقطہ نظر لیاتھا لیکن وہ انسانی حقوق کی پامالیوں تک ہی محدود تھا۔
 لال چوک ، جو کہ کئی دہائیوں تک تحریر اسکوائر سے قبل ہی مظاہروں کی جگہ کے طور پر پیش ہوتا ہے ، کبھی بھی وہ مشہور جگہ کیوں نہیں بن سکا ، جو تحریرسکوائر بن گیا؟ ، کیوں کہ یہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی حکمت عملی اور سفارتکاری کانتیجہ تھا۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے اعلی دسترخوان پر کبھی بھی کشمیر میں مسلح بغاوت کے لئے کسی بھی قسم کی سنجیدہ حمایت حاصل نہیں ہوئی۔مابعد طالبان دور میں اس کے لئے قبولیت بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسلامی ممالک کی تنظیم جیسے فورموں میں بھی علامتی تنقید ہوسکتی تھی ، لیکن اس محاذ پر شرمندگی کو چھوڑئے ،ہندوستان کو شاذ و نادر ہی کسی مجتمع مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
 اب نئے سرے سے متعین ہندوستان کو اقلیتوں پر ظلم کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے،خاص طور پر مسلم اقلیتوں پر۔ چاہئے وہ شہریوں کا قومی رجسٹر(این آرسی)ہو ، شہریت (ترمیمی) ایکٹ یا فرقہ وارانہ فسادات اور حملوں پر ریاست کی خاموشی۔ان سبھی کو اقلیتوں کو دبانے کے طورعالمی سطح پر دیکھاجارہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ واحد ریاست جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں،وہ کشمیرتھی لیکن اب اس ریاست کا وجود ختم ہوچکا ہے۔ اسے ہندوستان کے سیاسی جغرافیہ سے مٹا دیا گیا ہے۔ اس کی آئینی تعمیر اور اس سے وابستہ قانون ساز لغت کو ختم کردیا گیا ہے۔ علامتی تشدد کے اس فعل کا معنی ہے کہ ایک مسلم اکثریت کو منظم طور پر تنزلی ، بے اختیاری اور ووٹ کے حق سے محروم رکھناہے۔
 حیرت کی بات نہیں کہ باقی دنیا میں بھارت کی جانب سے اقلیتوں کو دبانے سے متعلق ایک بیانیہ فروغ پارہا ہے ۔اسلامی دنیا میں رائے عامہ گزشتہ چھ ماہ میں اس سمت میں بڑھ چکا ہے۔ اگرچہ اہم اسلامی ممالک کی حکومتوں ، خواہ وہ سعودی عرب ہو یا متحدہ عرب امارات ، نے ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی سرکاری رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ، ترکی اور ملائیشیا جیسے دوسرے ممالک اس معاملہ میں حد سے زیادہ سرگرم نظر آرہے ہیں۔
 یہ شاید پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان اس بیانیہ کو حاوی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ بلاشبہ امریکہ نے "افغان معاہدے" کے بعد اس پیش رفت میں زیادہ حصہ ڈالا ہے۔سرحدوں کے ساتھ ساتھ چینی فوج کی نقل وحرکت ،جس نے ہر طرف خطرے کی گھنٹی بجادی ،بنیادی طور کشمیر کی صورتحال کا برا ہ راست نتیجہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کے لئے عالمی برادری ،خاص طور پر لبرل سیاسی طبقہ کی خیرسگالی مستقبل قریب میں بڑھ نہیں سکتی ہے۔
اختتامیہ
کئی سال پہلے وادی کے ایک گاؤں میں سیکورٹی بنکر کی دیوار پر ایک گرافٹی بنی تھی جس پر لکھاتھا "ہم یہاں کشمیریوں کے دل و دماغ جیتنے کے لئے ہیں ‘‘۔ اس کے بالکل نیچے جری اور بڑے الفاظ میںلکھا گیا تھا "انھیں سر کے بل حاصل کرو ، دل و دماغ خود بخود پیچھے چلیں گے"۔ اُس وقت یہ فوج کے ایک اعلی افسر کی صریح ناراضگی اور غصہ لگاتھا۔اب جب پیچھے مڑکر دیکھتے ہیں تو یہ نوشتہ دیوار تھی اور وہ بھی بیس سال قبل ہی!
 (حسیب درابو ماہر معاشیات ہیں۔ آپ سابق ریاست جموں و کشمیر کے وزیر خزانہ بھی تھے۔ مضمون ’’دی وائر‘‘کے شکریہ کے ساتھ شائع کیاجارہاہے۔ مترجم ریاض ملک)
 

تازہ ترین