تازہ ترین

ہندچین سرحدی تنازعہ | فوجیوں کی واپسی پر میجرجنرل سطح کی بات چیت جاری

تاریخ    9 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی//حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں دولت بیگ اولڈی اوردیسپانگ سیکٹروں میں متعددمقامات پر فوجوں کو واپس بلانے کے معاملے پر سینئرفوجی کمانڈرسطح کی بات چیت جاری ہے۔فوجوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کیلئے کارپس کمانڈر سطح کی بات چیت کے ایک ہفتے بعد یہ بات چیت ہورہی ہے ۔فوجی سطح پربھار ت فوری طور پرچینی فوج کی مکمل واپسی کامطالبہ کررہا ہے اور مشرقی لداخ میں 5مئی سے پہلے کی جوں کی توں پوزیشن کاخواہاں ہے ۔ ذرائع کے مطابق چین کی فوج گلوان وادی اوردیگر متنازعہ مقامات سے واپس جاچکی ہے لیکن بھارت کے مطالبے پرفنگر علاقوں سے پانگ سو،گوگرا اور دیسپانگ سے فوجیں پیچھے نہیں ہٹی ہیں ۔بھارت یہ مطالبہ کررہا ہے کہ چین فنگرفور سے آٹھ تک علاقوں سے فوجیں ہٹالیں ۔واقف کار حلقوں کے مطابق سنیچر کی بات چیت میں بنیادی طوردولت بیگ اولڈی اور دیسپانگ علاقوں سے فوج کی واپسی پر بات ہوگی ۔زمینی صورتحال کو مدنظررکھتے ہوئے بھارتی بری فوج اور فضائیہ نے لداخ،شمالی سکم،اترکھنڈاوراروناچل پردیش  میں حقیقی کنٹرول لائن کے علاقوں میں اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاریاں برقراررکھی ہیںجب تک نہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کاحل نکل آتا۔ فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے،نے پہلے ہی سیکٹر کمانڈروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مکمل طور چوکنارہیں اورچین کی کسی بھی غیر متوقع کارروائی کامقابلہ کرنے کیلئے تیاررہیں ۔ فوج نے پہلے ہی حقیقی کنٹرول لائن پر سرما کے سخت ترین ایام میںفوج اوراسلحہ کی موجودہ تعداد کو برقرار رکھنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ حقیقی کنٹرول لائن کے کچھ علاقوں میں سرما میں درجہ حرارت منفی25ڈگری سینٹی گریڈ تک گرجاتا ہے۔