تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    9 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


ملتی ہے جنہیں تیری رضا کیا نہیں پاتے
خاطر میں نہیں تخت سلیمان بھی لاتے
خورشید ہی آئے تو جہاں ہوگا منور
’’بجلی کے چمکنے سے اندھیرے نہیں جاتے‘‘
ہوتا نہیں ادراک جنہیں سود وزیاں کا
وہ اپنا چمن اپنے ہی ہاتھوں ہیں جلاتے
رہزن کے جِلو میں چلیں جس قوم کے رہبر
منزل تو کُجا وہ کبھی رستہ نہیں پاتے
تھی کیسی خطا ٹوٹ گئے اُن سے روابط
خوابوں میں خیالوں میں نہیں چہرہ دکھاتے
پَل بھر میں بدل جاتی ہیں احباب کی سوچیں
حالات بھی انسان کو کیا کیا ہیں بناتے
یہ زیست بھی بسملؔ ہے نرالی سی پہیلی
آتے ہیں چلے جاتے ہیں جاکر نہیں آتے
 
خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی، راجوری،موبائل نمبر؛9086395995
 
گو تُو ہے پیکرِ بے بدل ترا نفسِ ناطقہ بھی ناب ہے
تُو ہی جنس مانا ہے بالاتر تیری زیست لیکن حباب ہے
تُو کہ شکل و صورت میں ہے خُوبرو ،تُو ہی خشک و ترمیں ہے دوبدو
ہے وجود تیرا نہ کس جگہ تو مقیم ہر جا جناب ہے
کئے تُو نے اب تک جو معجزے تری خِرد کا یہ کمال ہے
تُو زمیں سے پہنچا ہے چاند تک یہ کرشمہ معنیِٔ خواب ہے
تیری خِردمندی کی یہ بازگشت کیا زمیں سے لیکر ہے تا فلک
کہیں تیرا شہرہ ہے بابلند کہیں تیری شہراہ خراب ہے
ہے تجھکو احساسِ خیروشر تیرے دل میں خوفِ خُدا بھی ہے
کئے تُو نے دانستہ کارِبد ہے پتہ کہ یُومِ الحساب ہے
ہے لباس تیرا یہ زر زمیں تُجھے اِس قبا پہ ہی ناز ہے
تجھے کیا پتہ، تجھے آخرش یہ رِدا ملے یہ بھی خواب ہے
یہاں اُسکو حاصل دوام ہے،ہے زباں پہ جسکے ہریؔہریؔ
یہ نماز، سجدہ، طواف ہی میاں رخصتِ یوم الاحساب ہے
 
عشاق کشتواڑی
کشتواڑ، جموں،موبائل نمبر؛9697524469
 
جنگ کے بعد وار ہو جائے!
میری ہر جیت ہار ہو جائے!
 
کیا بھروسہ ہے میرے دشمن کا
دوستوں میں شمار ہو جائے
 
تیر نظروں کا یار وہ مارو
جو کلیجے کے پار ہو جائے
 
تیرے آنے سے ہر کلی مہکے
یہ فضا خوش گوار ہو جائے
 
چاہے اب جان عشق میں جائے
چاہے کچھ بھی ہو یار ہو جائے
 
خود کو خود سے ہی چھین لیں گے ہم
خود پہ گر اختیار ہو جائے
 
میں عقیلؔ اْن کو دیکھ پاؤں گر
میرا بیڑا تو پار ہو جائے
 
عقیل فاروق
طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی شوپیان
موبائل نمبر؛8491994633
 
 
 
 اپنی باتوں کی صفائی نہیں دیتا ہوں میں 
اپنے ہونے کی گواہی نہیں دیتا ہوں میں 
مانگتا ہوں جو ضروت ہو تجھی سے اللہ 
بندے کو کار خدائی نہیں دیتا ہوں میں 
لفظ ایسا ہوں کہ دل میں ہی اُتر جاتا ہوں  
بولتا ہوں تو سنائی نہیں دیتا ہوں میں 
میں ہوں خوشبو کی طرح اُس کے خیالوں میں بَسا 
اپنے دشمن کو دکھائی نہیں دیتا ہوں میں 
کچھ رفوگر سے توقع ہے مری بھی یارو
زخم سینے کی سلائی نہیں دیتا ہوں میں 
میری آنکھوں میں کوئی رنگ تو ہوگا ایسا 
حسن کو درس جدائی نہیں دیتا ہوں میں 
وحشتیں یوں بھی ضرورت ہیں جنوں کی عادل ؔ
اپنی وحشت کی دُہائی نہیں دیتا ہوں میں 
 
اشرف عادل 
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
موبائل نمبر؛ 7780806455
 
 
میرے بارے میں فسادی ہی گماں رکھا گیا
توپ کے گولوں کا گھر میرا نشاں رکھا گیا
کیا مرے مرنے کو مرنے کی سزا کافی نہ تھی ؟
جو مجھے مرکے بھی زنداں میں نہاں رکھا گیا؟
منزلیں ہیں پر خطر اور مرحلے خونین ہیں
جانے کیوں مقتل ہی اپنا کارواں رکھا گیا
مجھ کو تعبیروں میں اکثر درد و غم ملتے رہے
میرے ہر اک خواب میں وہ مہرباں رکھا گیا
جب ستم گر کو مری پرواز کا سایہ دکھا
ہر خرابے پر اترنے کو دھواں رکھا گیا
جمگھٹے میں جُز مرے چند اور بھی کم ظرف تھے
میرا چہرا خاص ہے کیا ؟ جو عیاں رکھا گیا
غور سے دیکھو جی ان میں بس تمہارا عکس ہے
میری آنکھوں میں ہی تیرا آشیاں رکھا گیا
سچ کہیں آفاقؔ تو وہ بوکھلا جائے گا یار
جس کو بہروں کے نگر میں وعظ خواں رکھا گیا
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر
موبائل؛ نمبر 7006087267
 
 
اس دور میں ایسا کوئی کردار نہیں ملتا
باطل کو جودے مات وہ سردار نہیں ملتا
جو درد لئے جیتا ہے اور عشق میں مرتا 
بازار میں ایسے قلندر کا دیدار نہیںملتا
اُمید نہ رکھ خوشبو کی شراروں سے اے بشر
جلتے ہوئے شہروں میں گلزار نہیں ملتا
کرنے کو بہت کچھ ہے اگر نیندسے جاگو
برباد نہ کروقت یہ کبھی سوبار نہیں ملتا
کانٹوں کو سجانے کا ہنر برسات سے سیکھو 
پھولوں کا یہاں سب کو سعیدؔ پیار نہیں ملتا
 
سعید احمد سعید
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛9906355293
 
 
میں گردشِ ایام ہوں
میں سحر تھا میں شام ہوں
میں شوخیٔ تخلیق تھا
تعبیر میں ناکام ہوں
میںخواب خوش آئندہ تھا
اب مُوردِ الزام ہوں
میں ایک، نام میرے انیک
میں کنس ہوں، میں شیام ہوں
ملنے سے وہ تو رہ گیا
خود میں ہی طشت ازبام ہوں
گھر سے میں بے گھر ہوگیا
ہر ہر ڈگر بدنام ہوں
مفلسی کی ہوں خطا
میں بک رہا بے دام ہوں
من سے ہوں ہمت کی صبح
منظر میں لُوٹی شام ہوں
 
آزاد ؔشوکت
زلنگام،کوکرناگ، اننت ناگ
موبائل نمبر؛9682147144
 
 
مجھ سے ملتے نہیں خود سے ہی ملا لیں مجھ کو
میرے بنتے نہیں اپنا ہی بنا لیں مجھ کو
میں حقیقت ہوں اگر، دل میں بسا لیں مجھ کو
میں اگر خواب برا ہوں تو جگا لیں مجھ کو
ہوں ترے دل کی صدا اپنا بنا لیں مجھ کو
گر تری راہ کا کنکر ہوں ہٹا لیں مجھ کو
خواب بنتے ہیں یہ تنہائی کے لمحے کیونکر
سب چُھٹامجھ سےتوان سے بھی چُھڑالیں مجھ کو
دور رہنے سے شکایت تو نہیں ہے لیکن
بھولنے کے بڑے صدمے سے نکالیں مجھ کو
گر تری چاہ ہوں چاہت کی بقا دیں مجھ کو
گر کوئی خواب ہوں پلکوں سے گرا دیں مجھ کا
دم نکلتا ہے جو ہوتے ہیں خفا ہم سلمہؔ
میں تیرے عشق کےصدقے کہ منا لیں مجھ کو
 
اُمِ سلمہؔ
ہرے، کپوارہ کشمیر،ای میل؛umisalma193@gmail.com