تازہ ترین

مخصوص علاقوں میں 4جی انٹرنیٹ کی بحالی

ممکنات تلاش کرنے کیلئے عدالت عظمیٰ کا جموں کشمیر سرکار کو مشورہ

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی//عدالت عظمیٰ نے جموں کشمیرانتظامیہ سے پوچھا ہے کہ کیا کچھ علاقوں میں 4جی انٹرنیٹ سروس بحال کی جاسکتی ہے۔جموں کشمیرانتظامیہ نے تیزرفتارانٹرنیٹ سروس کی بحالی سے متعلق مہلت طلب کی کیونکہ مرکزی زیرانتظام علاقہ میں ایک نئے لیفٹیننٹ گورنر کی تقرری ہوئی ہے ۔جموں کشمیرمیں تیزرفتار انٹرنیٹ سروس گزشتہ سال اگست سے معطل ہے جب مرکز نے جموں کشمیرکاخصوصی درجہ ختم کرکے ریاست کو دومرکزی زیرانتظام علاقوں جموں وکشمیراورلداخ میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے جمو ں کشمیرانتظامیہ کوبتایاکہ لیفٹیننٹ گورنر کی تبدیلی سے کچھ تبدیل نہیں ہوگا کیوںکہ اس معاملے کودیکھنے کیلئے پہلے ہی خصوصی کمیٹی ہے۔ مرکزی زیرانتظام علاقہ میں 4جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی کو لیکر ایک غیرسرکاری تنظیم کی طرف سے توہین عدالت کے ایک مقدمے کی جسٹس این وی رمنااورآرسبھاش ریڈی پر مشتمل بنچ نے سماعت11اگست تک ملتوی کی ۔عدالت عظمیٰ غیرسرکاری تنظیم کی عرضی، جس میں مرکزی داخلہ سیکریٹری  اورجموں کشمیرکے چیف سیکریٹری کیخلاف 11مئی کے عدالت کے حکم کی جان بوجھ کر عدولی کرنے پر توہین عدالت کامقدمہ شروع کرنے کی درخواست کی گئی تھی،پر سماعت کررہاتھا۔جموں کشمیرانتظامیہ کی طرف سے کیس کی پیروی کررہے سالسٹرجسرل تشار مہتہ نے بنچ کو بتایا کہ انہیں ہدایات کی ضرورت ہے کیونکہ لیفٹیننٹ گورنر بدل گئے ہیں اور نئے ایل جی نے آج ہی اپنا عہدہ سنبھالا ہے  ۔بنچ نے کہا کہ عدالت زمینی سطح پرصورتحال کیسی ہے ،نہیں بتا سکتی ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ معاملے کو ٹالانہ جائے ۔بنچ نے مہتہ کوبتایاکہ کیا کچھ علاقوں میں فورجی بحال کیا جاسکتا ہے اس بارے میں ہدایات حاصل کریں ۔ مہتہ نے کہا کہ اس معاملے میں تاخیر کرنے کاکوئی قصد نہیں ہے کیوں کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کی تعمیل کی گئی ہے اور وہ اس بارے میں ہدایات لیں گے۔بنچ نے مہتہ کو بتایا کہ اُنہیں اس بات کی وضاحت کرنی ہوگی کہ کن حالات میں سابق لیفٹیننٹ گورنر نے کہا تھا کہ فورجی انٹرنیٹ کوبحال کیاجاسکتا ہے اور لیفٹیننٹ گورنرنے کس بنیاد پر یہ بیان دیاتھا۔سینئرایڈوکیٹ  حذیفہ احمدی جو عرضی گزار غیرسرکاری رضاکار تنظیم کی طرف سے پیش ہورہی تھیں ،نے مدعاعلیہ کی طرف سے باربار مہلت طلب کئے جانے کا مسئلہ اُٹھایا۔بنچ نے احمدی کو بتایا کہ وہ بھی تبدیلیوں کے متعلق جانتی ہوں گی اور انہیں عدالت نے دوروز تک انتظار کرنے کو کہا ۔عدالت نے کہا کہ معاملے کو ابھی نپٹایا جاسکتا ہے لیکن عدالت جاننا چاہے گی کہ لیفٹیننٹ گورنر نے کن حالات میں یہ بیان دیا۔بنچ نے مہتہ کو بتایا کہ معاملے کو مزید التوامیں رکھنے کا سوال نہیں ہے اورانہیں اس بارے میں ہدایات حاصل کرنی چاہیے۔