گوشہ اطفال|8 اگست 2020

تاریخ    8 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


بوجھو تو جانیں…!!!

1۔منہ سے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اک اک بات مگر ہے کھولی
ہے وہ علم کا اک خزانہ رکھے پاس اسے ہر دانا
 2۔غور کرو اور دیکھو بھالو چاہے پی لو چاہے کھالو
 3۔گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں
کیا نام ہے اس شوخ کا بتلائو تو جانیں
 4۔کالے بن کی کا لی ماسی
ہے وہ سب کے خون کی پیاسی
 5۔گوداموں میں مال چھپائے پہرا دے ، کچھ نہ بتائے
پتھر دل سے پڑ گیا پالابوجھ سکھی کیا ہے یہ نرالا
 جوابات:1۔کتاب 2۔غصہ 3۔مرغا 4۔جوں 5۔تالا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خالی جگہ پُر کریں...!

 1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان سے نکلتا ہے لیکن کھایا بھی جا سکتا ہے۔
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آواز پوری دنیا میں چوبیس گھنٹے سنی جا تی ہے۔
3۔موسم اچھا تھا اور باغ میں بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے تھے۔
4۔ سب سے پہلے ایٹمی بجلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی ملک نے تیار کی۔
5۔قوس وقزاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگوں پر مشتعمل ہوتی ہے۔
6۔دنیا کی گرم ترین جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔
7۔سمند ر کی ذہین ترین مخلوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔
8۔ٹیلی اسکوپ سے آسمان کا مشاہدہ کرنے والا دنیا کا پہلا انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔
9۔رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔
10۔رنگین ٹی وی کی ایجاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے کی۔
خالی جگہ کے جوابات
 1۔نمک 2۔ اذان 3۔کھیل 4۔پاکستان 5۔سات 6۔ ایتھوپیا 7۔ڈولفن 8۔گیلیلیو گیلیلی 9۔گرین لینڈ 10۔جان بیرڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حکایت سعدی

 
فرحت اقبال
 
 ایک ریاکار شخص جو صرف دنیا کو دکھانیکے لیے نیکیاں کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کا مہمان بنا۔ اس نے بادشاہ پر اپنی بزْرگی کا رعب ڈالنے کے لیے بالکل تھوڑا سا کھانا کھایا لیکن نماز میں کافی وقت لگایا۔ جب یہ شخص بادشاہ سے رخصت ہو کر اپنے گھر آیا تو آتے ہی کھانا طلب کیا۔ اس کے بیٹے نے کہا، ’’کیا آپ بادشاہ کے ساتھ کھانا کھا کے نہیں آئے؟ ‘‘اس نے کہا، وہاں میں نے اس خیال سے کم کھایا تھا کہ بادشاہ کو میری پرہیزگاری کا اعتبار ہو جائے اور اس کیدل میں میری عزت زیادہ ہو۔‘‘بیٹے نے کہا،’’ پھر تو آپ نماز بھی دوبارہ پڑھیں کیونکہ وہ بھی آپ نے بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ہی پڑھی تھی۔
اس حکایت میں شیخ سعدی ؒنے ریاکاری کی مذمت کی ہے۔ ریاکار اگرچہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اپنی چالاکی سے لوگوں کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالم الغیب خْدا کو کس طرح دھوکہ دے گا! قیامت کے دن اس کے اچھے برے سب اعمال ظاہر ہو جائیں گے اور اس ریاکاری پر سخت عذاب کا مرتکب ہوگا۔پیارے بچو!اللہ کی نظر سے کوئی جھوٹ، سچ چھپ نہیں سکتا، اس لیے کبھی ایسے کام نہیں کرنے چاہیے جو اللہ کی نظر میں نا پسندیدہ ہوں۔
 

انسائیکلو پیڈیا

 
فرحان خان
کیا سمندر کے کنارے زمین ہوتی ہے؟
 ہمارا یہ خیال ہے کہ سمندر کے سرے کا پتہ ہو یا نہ ہو لیکن اس کا کنارا ضرور ہوتا ہے۔ کئی سمندر تو چاروں جانب زمین سے گھرے ہیں ،جیسے کہ بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کب ایک سمندر براعظم سے مل جاتا ہے پتہ نہیں چلتا لیکن ایسے میں جزائر کے سلسلوں سے اس کی حد کا تعین کیا جاتا ہے۔بہر حال ایک ایسا بھی سمندر ہے، جس کا کوئی بھی کنارا زمین سے نہیں ملتا۔ اور یہ سارگوسا سی یا بحیرۂ سرقوسہ ہے۔یہ سمندر بحر اوقیانوس کے مغرب میں واقع ہے اور قطب شمالی سے ایک جانب کو مڑتی ہوئی لہریں ہی اس کے حدود کا تعین کرتی ہیں۔بحرالکاہل کی چکر کھاتی لہروں کے سبب ہی بحر سرقوسہ کا پانی پرسکون رہتا ہے اور ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوتا۔
2060 مربع کلو میٹر کا بیر طویل علاقہ
 افریقہ میں ایک جگہ ایسی ہے، جس پر کوئی بھی ملک اپنا حق نہیں جتاتا۔ یہ علاقہ 'بیر طویل یا 'بئر طویل کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کا رقبہ 2،060 مربع کلومیٹر ہے اور یہ مصر اور سوڈان کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔یہ خطہ 20 ویں صدی کے آغاز میں اس وقت وجود میں آیا جب مصر اور سوڈان نے اپنی اپنی سرحدیں کچھ اس طرح کھینچیں کہ یہ علاقہ کسی کے دائرے میں نہیں آیا۔بیر طویل خشک آب و ہوا والا علاقہ ہے اور یہاں کی زمین بنجر ہے لہذا کوئی اسے اپنانا نہیں چاہتا۔ لیکن اس علاقے نے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
جنگلی پودا اینسیٹ
 پودوں کی چند جنگلی اقسام ہیں جو ہمارے لیے حیرت انگیز طور پر کام کر سکتی ہیں۔ اسی قسم کا پودا اینسیٹ ہے۔ یہ افریقی ملک ایتھوپیا میں اگتا ہے۔ ایتھوپیا کے لوگوں میں اس کے 200 نام ہیں۔ وہ اسے کھاتے ہیں، ادویات اور چٹائی بناتے ہیں۔ گھروں کی تعمیر اور جانوروں کے چارہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس سے کپڑے بھی بناتے ہیں۔اینسیٹ کیلے کے خاندان کا ایک جنگلی پودا ہے۔ سائنسدانوں کی کوشش ہے کہ اسے دوسرے ممالک میں اگایا جا سکے کیونکہ اس کی مدد سے زیادہ لوگوں کے پیٹ بھرے جا سکتے ہیں۔ اینسیٹ سے آٹا، اور سوپ بھی بنتا ہے اور اسے آلو کی طرح ابال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ خود کو خشک سالی، سیلاب اور طوفان میں بھی محفوظ رہتا ہے۔
 

ملا ح نصر الدین کا پُر مزاج جواب

مزاحیہ
 
حسن احمد
 
ایک دن اکبر بادشاہ نے ملا دو پیازہ سے کہا ’’بتائو دنیا میں اندھے زیادہ رہتے ہیں یا آنکھوں والے؟‘‘ ملا دوپیازہ نے بتایا کہ ’’حضور اندھے زیادہ رہتے ہیں۔‘‘ اکبر نے تعجب سے کہا ’’اس کا ثبوت ؟‘‘ ملا دو پیازہ نے جواب دیا۔ ’’عالی جاں! دس روز کی مہلت دیں تو ثبوت دے سکتا ہوں۔‘‘ اکبر بادشاہ نے مہلت دی۔ ملا دو پیازہ نے دوسرے ہی روز ایک چوراہے پر بیٹھ کر چرخے کے ذریعے بان بٹنے شروع کردیئے اور اپنے ہمراہ ایک منشی کو بٹھالیا جس کے پاس قلم دوات اور رجسٹر تھا۔ اب جو بھی راہ گیر ادھر سے گزرتا ملا دو پیازہ کو بان بٹنے دیکھ کر کہتا۔ ’’ہیں… ملا دو پیازہ یہ آپ کیا کررہے ہیں؟‘‘۔
ملا دو پیادہ منشی کو حکم دیتے ’’لکھو اندھوں میں‘‘اور منشی اس کا نام معلوم کرکے اندھوں کی فہرست میں لکھ دیتا۔ اس طرح شام تک راہ گیر آتے رہے اور ملا دوپیازہ کو دیکھ کر تعجب سے پوچھتے کہ ’’یہ کیا کررہے ہیں‘‘ اور ملا دوپیازہ کے حکم سے منشی اس راہ گیر کا نام اندھوں کی فہرست میں شامل کردیتا۔ دن بھر میں صرف دو آدمی ایسے آئے کہ انہوں نے بان بٹنے دیکھ کر کہا ’’ملادو پیازہ بان کیوںبٹ رہے ہیں؟‘‘ ان کو آنکھوں والوں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔
دوسرے روز اتفاق سے اکبر بادشاہ ادھر سے گزرے اور حیرت سے سوال کیا ’’ملا دو پیازہ یہ کیا کررہے ہیں؟‘‘ ملا نے منشی کو حکم دیتے ہوئے کہا ’’لکھو اندھوں میں۔‘‘
اگلے ہی روز ملا دو پیازہ نے دونوں فہرستیں اکبر بادشاہ کی خدمت میں پیش کیں۔ جب اپنا نام اور اپنے تین رتنوں کا نام بھی اندھوں کی فہرست میں دیکھا تو تیوریاں چڑھا کر کہا ’’میرا نام اندھوں کی فہرست میں کیوں ہے؟‘‘ ملا دو پیازہ نے دست بستہ بڑے ادب سے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ ’’حضور جب آپ دیکھ رہے تھے کہ ملا دو پیازہ بان بْن رہا ہے پھر بھی اس سے پوچھاگیا کہ یہ کیا کررہے ہو تو کیوں نہ اندھوں کی فہرست بڑھادی جاتی۔‘‘ یہ سن کر اکبر بادشاہ شرمندہ ہوکر ہنس پڑے۔
 

کو ئل کی عقلمندی !

کہانی
 
رئیس صدیقی
 
ایک کوئل تھی۔ وہ بڑے لگن سے گیت گایا کرتی تھی۔ لیکن اسے اس بات کا دکھ تھا کہ بُلبُل اُس سے کہیں زیادہ میٹھی آواز میں گیت گاتی ہے۔ایک دن ، ہمیشہ کی طرح ، وہ ایک درخت پر بیٹھی اپنے آپ میں گُم گیت گارہی تھی کہ اتفاق سے اس طرف سے ایک بلّی کا گزر ہوا۔ بلّی نے سوچا کہ یہ صاحبہ گلوکارہ معلوم ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کوئی دائوں لگ جائے اور اپنا بھلا ہوجائے۔ چنانچہ وہ بولی۔ واہ بھئی واہ! کیا آواز ہے ۔ کیا رس بھرا گلا ہے۔ بس کمال ہے۔ جواب نہیں تمھاری آواز کا۔ جب کوئل کے کان میں ایک اجنبی کی آواز پڑی تو اس نے نیچے دیکھا۔ بلّی صاحبہ تشریف فرما تھیں۔کوئل اپنی تعریف سن کر مارے خوشی کے پھولے نہ سمائی۔ وہ  بولی: ’’کیا واقعی میری آواز اچھی ہے؟‘‘
بلّی نے جواب دیا۔ ’’ارے تو کیا میں تم سے مذاق کررہی ہوں؟۔ سچ کہتی ہوں۔ خدا کی قسم پورے جنگل میں کوئی ایسا نہیں ہے جو تمھارا مقابلہ کرسکے۔‘‘
کوئل ما یوسی سے بولی۔ ’’نہیں بی صاحبہ! یہ بات تو خیر غلط ہے۔ جنگل میں ایک سے ایک فنکار موجود ہیں۔ دور کیوں جائو ۔ بلبل ہی کو دیکھ لو۔ اسکی آواز کتنی میٹھی ہے۔وہ کتنا اچھا گاتی ہے !۔‘‘
’’خاک!‘‘  بلّی نے منہ بنا کر کہا۔ اس کے گانے میں کوئی لعل تھوڑے ہی ٹکے ہیں۔ اس کے اور تمھارے گانے میں صرف اتنا فرق ہے کہ بلبل گاتے گاتے آنکھ بند کرلیتی ہے اور آس پاس سے بے خبر ہوکر گانے لگتی ہے۔ جس سے  اسکی آواز میں  رس بھر جاتا ہے ۔ بس اتنی سی بات ہے جو اُس کے گیت میں اس قدر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے۔
یہ سن کر کوئل باغ باغ ہوگئی اور مسکراتے ہوئے بولی۔ ’’ بس اتنی سی بات؟… لیکن یہ تو کوئی مشکل کام نہیں ہے!  یہ تو میں بھی کرسکتی ہوں۔‘‘
بلّی نے جواب دیا: ’’ہاں، ہاں تم بھی کرسکتی ہو۔ کوئی خاص بات نہیں ہے۔‘‘
میں ضرور ایسا کروںگی۔ کوئل بولی۔
ہاں، ہاں! تو پھر بسم اللہ کرو۔ بلّی نے رائے دی۔
 کوئل نے گانا شروع کیا… آہستہ آہستہ آنکھیں بند کرلیں… پھر بلند آواز میں گیت گانے لگی۔
جب بلّی کو بالکل یقین ہوگیا کہ اب وہ اپنا  شکار آسانی سے کرسکتی ہے  تو وہ آہستہ آہستہ درخت پر چڑھی۔… پھر اس ڈال پر پہنچ گئی جس پر کوئل بیٹھی تھی … چند لمحوں کے بعد ، موقع  ملتے  ہی ، بلّی نے  اچانک کوئل کی ٹانگ اپنے منہ میں دبوچ لی۔
جب کوئل نے یہ دیکھا تو وہ  ہکّا بکّا رہ گئی۔ مگر فوراً اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے بولی۔’’بی صاحبہ، یہ کیا مذاق ہے؟ آپ مجھے اس قدر کیوں شرمندہ کررہی ہیں۔ کیا واقعی آپ کو میرا گیت اس قدر پسند آیا کہ آپنے  مارے عقیدت کے میرے پائوں چوم لئے؟
اخلاقاً بلّی نے جواب دیا۔ جی کوئل صاحبہ! ابھی اتنا ہی بلّی کے منہ سے نکلا تھا کہ کوئل کا پیر بلّی کے منہ سے چھوٹ گیا اور وہ پھُرسے اڑکر سب سے اونچی شاخ پر  جا بیٹھی اور بولی۔’’بی صاحبہ! مجھے پہلے ہی شک ہوگیا تھا ۔ مگر میں تمھاری میٹھی میٹھی باتوں میں آگئی اوراپنی حقیقت بھول گئی ۔ 
 بڑوں نے سچ کہا ہے :کبھی بھی ،کسی کو اپنی حقیقت نہیں بھولنی چاہئے!
کبھی بھی کسی کی میٹھی میٹھی باتوں میں نہیں آ نا چاہئے !!
کبھی بھی کسی کی تعریف پر آنکھ بند کر یقین نہیں کرنا چاہئے !!!
 ( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ یافتہ ادیب ِ اطفال، پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار و شاعر اور ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو کے سابق آئی بی ایس افسر ، واٹس ایپ گروپ بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں)
ای میل rais.siddiqui.ibs@gmail.com 
 
 

تازہ ترین