تازہ ترین

قاضی گنڈ میں48گھنٹوں کے دوران دوسرا واقعہ

بھاجپانائب ضلع صدر و سر پنچ ہلاک

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


عارف بلوچ
اننت ناگ // جنوبی کشمیر میں مشتبہ جنگجوئوں کی جانب سے پنچایتی نمائندوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دیوسر حلقہ انتخاب میں گذشتہ 48گھنٹوں کے دوران جنگجوئوں نے ایک اور پنچایتی نمائندے پر حملہ کرکے اُسے ہلاک کر دیا ۔ جمعرات کی صبح 9بجکر 10منٹ پر مشتبہ جنگجوئوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی  کے نائب ضلع صدر کولگام و سرپنچ سجاد احمد کھانڈے ولد علی محمد کھانڈے پر اُس وقت گولیاں چلائیں جب وہ اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا ۔گولیاں سرپنچ کی چھاتی اور پیٹ میں جالگیں اور اسے فوری طور پرگورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ لایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اُ سے مردہ قرار دیا ۔حملے کے فوراََ بعد فوج اور پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی تاہم مقامی لوگوں کے مطاق حملہ آور جو کہ ممکنہ طور پر موٹر سائیکل پر سوار تھے، جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب رہے ۔45سالہ مہلوک سرپنچ گذشتہ سال بی جے پی کی ٹکٹ پر سرپنچ منتخب ہوا تھا ۔مہلوک اپنے پیچھے3بیٹوں اور اہلیہ کو چھوڑ گیا ہے ۔جونہی اسکی نعش آبائی گھر لائی گئی تو یہاں کہرام مچ گیا ۔نماز جنازہ میں پارٹی سے وابستہ کئی لیڈران نائب صدر جموں کشمیر صوفی یوسف،ضلع صدر کولگام عابد حُسین خان،محمد صدیق خان،وجاہت قریشی ،ویر صراف کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے لیڈران نے شرکت کی  ۔اس موقع پر صوفی یوسف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سرپنچ کی ہلاکت پارٹی کے لئے بڑا نقصان ہے اور وہ طاقتیں آج بھی زندہ ہیں، جو نہتے عوام کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ محض 48گھنٹے قبل آکھرن قاضی گنڈ میں 32سالہ بھاجپا پنچ عارف احمد شاہ پر اسکے گھر میں گھس کر فائرنگ کی گئی جس سے وہ شدید زخمی ہوا اور اسکی حالت ابھی بھی نازک قرار دی جارہی ہے۔

پولیس بیان

زونل پولیس ہیڈکواٹررس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ویسو علاقے میں دہشت گردی کے واقعہ کی جونہی اطلاع ملی تو سینئر پولیس افسران جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ بی جے پی سرپنچ سجاد احمد کھانڈے ولد علی محمد قریبی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ مذکورہ سرپنچ کو محفوظ ویسومائیگرنٹ  کیمپ میںرہائش پذیررکھا گیا تھا جہاں سے آج وہ پولیس کو اطلاع دیئے بغیر ہی اپنے گھر چلا گیا۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور علاقے میں تلاشی جاری ہے۔ کولگام پولیس نے اس سلسلے میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی ہے۔